فہرست مضامین
تعارف
دوستو! اسلامی تاریخ کی کتب کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ مسلمانوں نے اسلام کے ابتدائی سال اللہ کے نبی ﷺ کے رفاقت میں بھی اور بعد میں بھی اس حال میں بسر کیے کہ ان کی زندگی بہت تنگ دستی اور سخت فقر و فاقہ کی تھی۔ یہاں تک کہ ایک کے بعد دوسرا مہینہ بھی گزر جاتا اور اللہ کے رسول ﷺ کے گھر چولہے میں آگ نہ جلتی۔ ان کا گزارا محض دو چیزوں پر نیم اور کھجور پر ہوتا تھا۔
ابتدائی مسلمانوں کی تنگ دستی
آپ ﷺ اپنے پیارے ساتھیوں سے فرمایا کرتے تھے کہ عنقریب حالات بدل جائیں گے اور قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ دولت کی ریل پیل ہو جائے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مال و متاع کی اس قدر کثرت ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنی زکوٰۃ لے کر ایک مہینے تک پھرتا رہے گا مگر اسے کوئی مستحق نہیں ملے گا، اس لیے کہ لوگ اس سے بہت مستغنی ہوں گے۔
دولت کی کثرت کی پیشنگوئی
ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے کچھ یوں ارشاد فرمایا "لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جب ایک شخص اپنے صدق کا سونا لے کر گھومے گا کہ کوئی لینے والا حاجت مند مل جائے مگر اسے کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا جو یہ مال لینے کو تیار ہو۔
علماء کی آراء
اہل علم کے مطابق بعض کا یہ خیال ہے کہ یہ علامت صحابہ کرام کے زمانے میں واقع ہو چکی ہے جب انھیں بڑی بڑی فتوحات حاصل ہوئیں اور فارس و روم کی غنیمتیں ان کے پاس آئی تھیں۔ اس کے بعد پھر حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دورِ حکومت میں مال کی اس قدر فراوانی ہو گئی کہ ایک شخص اپنا صدقہ پیش کرتا مگر کوئی ایسا شخص اسے نہ ملتا جو اس سے یہ مال قبول کر لیتا۔ یہاں تک کہ ایک شخص کسی کو بظاہر محتاج سمجھ کر اس کو مال پیش کرتا مگر وہ کہتا مجھے اس مال کی کوئی حاجت نہیں۔
اور بعض مکتبہ فکر کا یہ خیال کہ یہ علامت آخری زمانے میں واقع ہو گی اور آپ ﷺ کا اشارہ درحقیقت ظہور مہدی کے زمانے کی طرف ہے۔ اس دور میں مہدی لوگوں میں جھولیاں بھر بھر کر گنے بغیر مال تقسیم کریں گے، اس لیے کہ مال کی کثرت اور فراوانی ہو گی۔ زمین برکتوں سے معدنیات اگلے گی یہاں تک کہ اس کے پیٹ سے سونے اور چاندی کے ذخائر برآمد ہوں گے۔
آج کے معاشرے میں دولت
اگر ان روایات کا بخوبی مطالعہ کریں اور معاشرے میں جائزہ لیں تو ہمیں ہر شخص اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے سرگرم دکھائی دیتا ہے۔ دولت کا حصول ہر جائز و ناجائز ذرائع کا استعمال، زیادتی، ڈکیتی، قتل و غارت، اور نہ جانے کتنے گھناؤنے اور مکروہ ارادے دکھائی دیتے ہیں۔
دولت ایک فتنہ
آج بھی ہمارے معاشرے میں لوگوں کے پاس بے شمار دولت ہے جبکہ عوام بوند بوند کو ترس رہی ہے۔ سسک سسک کر زندگی گزارنے والے اپنی نگاہیں آسمان پر گاڑے ہوئے ہیں کہ شاید کہیں سے کوئی مدد آ جائے اور وہ اپنی جائز خواہشات کی تکمیل کر سکیں۔
دولت ایک فتنہ ہے یہ اللہ رب العزت کی طرف سے ایک آزمائش ہے لوگ اس آزمائش پر کتنا کھرا اترتے ہیں یہ اللہ کی ذاتا قدس بہتر جانتی ہے کیونکہ دلوں کے حال اللہ پاک ہی جانتے ہیں۔