انسان کی جلدی پکڑ کروا دینے والا بدترین گناہ کون سا ہے؟

انسان کی جلدی پکڑ کروا دینے والا بدترین گناہ کون سا ہے؟

محترم قارئین کرام! اللہ کے نبی ﷺ کی زندگی ہمارے لیے اسوہ کامل ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی امت کو مطلع کرنے کے لیے ہر وہ چھوٹی سے چھوٹی بات نہ بتلائی ہو جس میں امت کا فائدہ ہو اور جس کام سے منع کیا گیا ہو، وہ امت کے نقصان کا باعث ہو۔

قیامت کی بہت ساری نشانیوں میں سے ایک نشانی "لوگوں میں قطع رحمی کی کثرت ہونا" بھی امت کو بتلائی اور اس سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں امت کو آگاہ کر دیا۔

قطع رحمی بہت بڑے نقصان کا باعث ہے اور اسی نقصان سے تنبیہ کرنے کے لیے اللہ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: "جو لوگ اللہ رب العزت کے ساتھ کئے ہوئے عہد و پیماں توڑ دیتے ہیں حالانکہ وہ عہد و پیماں پختہ ہو چکے ہیں اور اللہ نے جن کو جوڑنے کا حکم دیا ہے وہ توڑ دیتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یہی لوگ دنیا اور آخرت میں خسارہ (نقصان) پانے والے ہیں"۔

قطع رحمی جہاں بہت بڑے خسارے کا باعث ہے وہاں یہ لعنت کا بھی باعث ہے۔ جیسے کہ اوپر والی آیت کو بیان کیا گیا ہے کہ جب یہ لوگ اللہ کے عہد و پیماں کو توڑیں گے تو اللہ کی رحمتوں کا نزول بھی رک جائے گا، یہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے یعنی یہ لوگ اللہ کی پھٹکار کے مستحق ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے، لعنت سے مراد اللہ کی رحمت سے دوری، یعنی اللہ نے ان سے خیر اور برکت کو روک دیا ہے۔

قطع رحمی ایک ایسا گناہ ہے جس کو اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "یہ انسان کی جلدی پکڑ کروا دیتا ہے، قیامت کے دن کی ضرورت ہی نہیں رہتی دنیا میں ہی اس کی پکڑ ہو جاتی ہے"۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "کوئی بھی گناہ اس لائق نہیں جن کا اللہ دنیا میں جلدی حساب دے دیں، اور اللہ اس کے لیے یہ عذاب آخرت کے لیے بھی ذخیرہ کر لیتے ہیں"۔

کون کون سے ایسے گناہ ہیں جو بدترین گناہ ہیں:

آپ ﷺ نے فرمایا: "قطع رحمی اللہ کے ہاں مغبوض ترین عمل ہے"۔ پھر ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: "قطع رحمی تو قتل و غارت کو جنم دیتا ہے"۔

جو شخص ایک سال تک اپنے سے قطع تعلق رہتا ہے گویا اس نے اتنا گناہ کر لیا کہ اپنے کو قتل ہی کر دیا، بلکہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "قطع رحمی گناہ ہی ایسا ہے جو اللہ کی بخشش سے محروم کر دیتا ہے"۔

آپ ﷺ نے فرمایا: "ہر سوموار اور جمعرات کو جنت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اللہ اپنے ہر اس بندے کو معاف فرما دیتے ہیں جس نے شرک نہ کیا ہو، سوائے اس شخص کے جس کے بھائی کے درمیان کوئی بغض یا عداوت ہوتی ہے، اللہ کہتے ہیں ان دونوں کے اعمال پیش ہی نہ کیے جائیں جب تک یہ آپس میں صلح نہیں کر لیتے"۔

نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: "قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی۔ جب تک فحش (بدکلامی)، بے حیائی، قطع رحمی اور پڑوسی سے برا سلوک ظاہر نہ ہو جائے"۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آخری زمانہ میں ایسے طبقات اور گروہ ہوں گے جو ظاہری طور پر (ایک دوسرے کے لیے) خیر سگالی کا مظاہرہ کریں گے اور اندر سے ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! ایسا کیونکر ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ایک دوسرے سے (شدید نفرت رکھنے کے باوجود صرف) خوف اور لالچ کی وجہ سے (بظاہر دوستی و خیر خواہی کا مظاہرہ کریں گے)۔

نبی کریم ﷺ نے جس چیز کی خبر دی تھی دورِ حاضر میں کافی شدت سے واقع ہو چکی ہے اور مزید بدترین کیفیت کی طرف رواں دواں ہے بجائے اس میں کمی آنے کی فیشن کے نام پر نااتفاقی بڑھتی جا رہی ہے ہر انسان اپنی الگ ہی دنیا بسائے ہوئے ہے رشتہ داروں سے دور، یہاں تک کہ اپنے بھائی بہنوں اور ماں باپ سے دور۔

چھوٹی چھوٹی دنیاوی چیزوں کے برعکس ہم لڑائی شروع کرتے ہیں اور پھر سالہا سال پیچھے مُڑ کر بھی نہیں دیکھتے، ہمارے معاشرے میں کوئی گھر ایسا محفوظ نہیں رہا جہاں جھگڑے اور فساد جنم نہ لے رہے ہوں آئیے دن میڈیا کسی نہ کسی گھر کی کہانی بیان کر رہا ہوتا ہے۔ قطع رحمی اتنی تیزی سے ہمارے درمیان پھیل رہی ہے کہ شاید ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں کہ اس کے نتائج کتنے سنگین ہوتے ہیں۔

لوگوں کے درمیان محبت، عزت و تکریم، صلہ رحمی اور الفت کی جگہ بغض و نفرت اور عداوت پیدا ہو چکی ہے۔ ایسا وقت آگیا ہے کہ لوگ اپنے پڑوسی تک سے ناواقف ہیں۔ آدمی اپنے رشتہ داروں کے بارے میں نہیں جانتا کہ ان میں سے کتنے لوگ زندہ ہیں اور کتنے فوت ہو چکے ہیں۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمارے کبیرہ اور صغیرہ گناہ معاف فرمائے اور ہمیں آپس میں اتفاق سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین