قیامت کی بہت ساری نشانیوں میں سے ایک نشانی "لوگوں میں قطع رحمی کی کثرت ہونا" بھی امت کو بتلائی اور اس سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں امت کو آگاہ کر دیا۔
قطع رحمی کا مفہوم
قطع رحمی جہاں بہت بڑے خسارے کا باعث ہے وہاں یہ لعنت کا بھی باعث ہے۔ جیسے کہ اوپر والی آیت کو بیان کیا گیا ہے کہ جب یہ لوگ اللہ کے عہد و پیماں کو توڑیں گے تو اللہ کی رحمتوں کا نزول بھی رک جائے گا، یہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے یعنی یہ لوگ اللہ کی پھٹکار کے مستحق ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے، لعنت سے مراد اللہ کی رحمت سے دوری، یعنی اللہ نے ان سے خیر اور برکت کو روک دیا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "کوئی بھی گناہ اس لائق نہیں جن کا اللہ دنیا میں جلدی حساب دے دیں، اور اللہ اس کے لیے یہ عذاب آخرت کے لیے بھی ذخیرہ کر لیتے ہیں"۔
قطع رحمی کے نقصانات
آپ ﷺ نے فرمایا: "قطع رحمی اللہ کے ہاں مغبوض ترین عمل ہے"۔ پھر ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: "قطع رحمی تو قتل و غارت کو جنم دیتا ہے"۔
جو شخص ایک سال تک اپنے سے قطع تعلق رہتا ہے گویا اس نے اتنا گناہ کر لیا کہ اپنے کو قتل ہی کر دیا، بلکہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "قطع رحمی گناہ ہی ایسا ہے جو اللہ کی بخشش سے محروم کر دیتا ہے"۔
بدترین گناہوں کی فہرست
کون کون سے ایسے گناہ ہیں جو بدترین گناہ ہیں:
- بغاوت پہ اترنے والا
- خیانت کرنے والا
- جھوٹ بولنے والا
- قطع رحمی کرنے والا (اور یہ ایک ایسا گناہ ہے جو دنیا ہی میں پکڑا جائے گا)
معاشرے پر اثرات
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آخری زمانہ میں ایسے طبقات اور گروہ ہوں گے جو ظاہری طور پر (ایک دوسرے کے لیے) خیر سگالی کا مظاہرہ کریں گے اور اندر سے ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! ایسا کیونکر ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ایک دوسرے سے (شدید نفرت رکھنے کے باوجود صرف) خوف اور لالچ کی وجہ سے (بظاہر دوستی و خیر خواہی کا مظاہرہ کریں گے)۔
نبی کریم ﷺ نے جس چیز کی خبر دی تھی دورِ حاضر میں کافی شدت سے واقع ہو چکی ہے اور مزید بدترین کیفیت کی طرف رواں دواں ہے بجائے اس میں کمی آنے کے فیشن کے نام پر نااتفاقی بڑھتی جا رہی ہے ہر انسان اپنی الگ ہی دنیا بسائے ہوئے ہے رشتہ داروں سے دور، یہاں تک کہ اپنے بھائی بہنوں اور ماں باپ سے دور۔
قطع رحمی اتنی تیزی سے ہمارے درمیان پھیل رہی ہے کہ شاید ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں کہ اس کے نتائج کتنے سنگین ہوتے ہیں۔
لوگوں کے درمیان محبت، عزت و تکریم، صلہ رحمی اور الفت کی جگہ بغض و نفرت اور عداوت پیدا ہو چکی ہے۔ ایسا وقت آگیا ہے کہ لوگ اپنے پڑوسی تک سے ناواقف ہیں۔ آدمی اپنے رشتہ داروں کے بارے میں نہیں جانتا کہ ان میں سے کتنے لوگ زندہ ہیں اور کتنے فوت ہو چکے ہیں۔