فرات کا خشک ہونا کون سے فتنے کی پیشین گوئی ہے؟

دریائے فرات

دوستو! دریائے فرات مشرقی ترکی سے نکلنے والا ایک عظیم دریا ہے جو شام اور عراق سے ہوتا ہوا دریائے دجلہ میں شامل ہوتا ہے اور پھر یہ دونوں دریا خلیج فارس میں گرتے ہیں۔ دریائے فرات کا خشک ہونا درحقیقت ایک ہولناک پیشین گوئی کی علامت ہے۔ جو کہ آپ ﷺ نے علامات صغریٰ میں امت مسلمہ کو بتا دیں۔ وقت اتنی تیزی سے گزر رہا ہے گویا یوں گمان ہو رہا ہے کہ وہ وقت آن پہنچا ہے۔ پندرہ سو سالوں سے ناصرف مسلمان بلکہ دنیا کے دوسرے مذاہب کے لوگ بھی منتظر ہیں کہ کب یہ دریا خشک ہو اور سونے کا پہاڑ نمودار ہو۔

تبھی تو اہل یہود و نصاری پہلے شام، پھر عراق اور اب ترکی کے ارد گرد منڈلا رہے ہیں، کبھی دہشت گردی کی صورت میں، کبھی تجارت کی صورت میں، کبھی تیل کی صورت میں، تو کبھی دوستی اور پیسے کے لالچ میں، غرض یہ کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ انھوں نے کیا کرنا ہے اور کس طرح تیاریوں میں مصروف عمل ہیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ اتنا بڑا بہتا دریا بھی خشک ہو سکتا ہے؟ یوں تو کافی عرصہ سے سونے کے ذخائر دریافت ہونے کی خبریں سنائی دے رہی ہیں۔ لگ بھگ 2 یا 3 سال پہلے میں نے ایک خبر سنی تھی کہ ترکی میں سونے کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں، اس خبر کے مطابق 99 ٹن سونا موجود ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ اور پھر یہ بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ اگر 2 سال تک مسلسل کانکنی کی جائے تو کافی سونا حاصل کیا جا سکتا ہے، ایک اندازے کے مطابق سونے کی مالیت 6 ارب ڈالر تک بتائی جاتی ہے۔ جو کہ کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے بہت بڑی سپورٹ ہوتی ہے۔ یوں کہوں تو کسی بھی ملک کے جی ڈی پی سے بہت زیادہ مالیت ہے۔ جیسے ہی یہ خبر میری آنکھوں کے سامنے سے گزری تو مجھے آپ ﷺ کی پیشین گوئی یاد آئی۔

تھوڑا سرچ کرنے پر پتہ چلا کہ سائنسدانوں کے مطابق دریائے فرات کا زیادہ تر صاف پانی ضائع ہو چکا ہے اور آنے والے دس سالوں میں مزید تیزی سے دریا خشک کی جاں برواں دواں ہے۔ اور اس کے برعکس ترکی خشک سالی کو نظر انداز کر رہا ہے۔ دیگر مذاہب کے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ شاید ترکی جان بوجھ کر اس کو خشک کر رہا ہے تاکہ سونے کے ذخائر حاصل کیے جا سکیں۔

دریائے فرات ایک مشہور دریا ہے جس میں پانی کی بہت فراوانی ہوتی ہے۔ جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ یہ اپنا رخ بدلے گا اور اس سے سونے کا ایک پہاڑ نمودار ہو گا۔ لوگ اس سونے کی خاطر لڑیں گے اور ان کی بڑی تعداد اس میں قتل ہو جائے گی۔

آپ ﷺ نے لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ جو کوئی اس موقع پر موجود ہوں وہ اس مال کو لینے سے محتاط رہیں۔ ایسا نہ ہو کہ وہ فتنے میں مبتلا ہو جائے یا اس کی وجہ سے کوئی لڑائی شروع ہو جائے۔ ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا "قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جبتک فرات سے سونے کا ایک پہاڑ ظاہر نہ ہو جائے۔ لوگ اس سونے کے لیے جنگ کریں گے۔ اس کے نتیجے میں نوے نوے فیصد لوگ قتل ہو جائیں گے۔ ان میں ہر شخص کو یہ توقع ہو گی کہ شاید وہی زندہ بچ جائے"۔

چند الفاظ کی تبدیلی پر ایک اور مقام پر کچھ یوں ارشاد فرمایا "جو اس موقع پر موجود ہو اسے چاہیے کہ وہ اس میں کوئی چیز نہ لے"۔ حضرت ابی بن کعب کہتے ہیں "لوگ ہمیشہ دنیا کا مال جمع کرنے کے لیے گردنیں پھنساتے رہیں گے۔ میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا "قریب ہے کہ دریائے فرات سونے کے ایک پہاڑ کو ظاہر کر دے جب لوگ اس کے بارے میں سنیں گے تو اس کی جانب دوڑ پڑیں گے۔ جو وہاں پہنچ چکے ہوں گے وہ کہیں گے۔ اگر ہم نے لوگوں کو سونا لینے کی کھلی اجازت دے دی تو وہ سارے کا سارا لے جائیں گے۔ پھر وہ اس مال کے حصول کے لیے آپس میں لڑ پڑیں گے۔ اس لڑائی کے نتیجے میں سو میں سے ننانوے انسان قتل ہو جائیں گے۔"

اس پہاڑ کے ظاہر ہونے کا سبب میں پہلے ہی ذکر کر چکا ہوں کہ جب کسی وجہ سے پانی اپنا راستہ بدلے گا تو اللہ رب العزت اسے ظاہر فرما دے گا۔ اور ہمیں یہ نصیحت کی گئی ہے اور ہم سب پر لازم ہے کہ وہ اس سونے میں سے کچھ نہ لے تاکہ وہ فتنے اور خونریزی سے بچ سکے۔ یہ فتنہ ابھی ظاہر نہیں ہوا اور اللہ رب العزت کے سوا کوئی جانتا نہیں ہے کہ وہ کب ظاہر ہو گا۔

اگر ہم آج ترکی کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ شام اور ترکی نے دریائے فرات پر بند تعمیر کیے ہیں اور اس کے عوض مختلف مقامات پر فیکٹریاں لگا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے پانی کی قلت واقع ہو رہی ہے۔

لیکن حالات جو بھی ہو رہے ہیں ایک بات تو صاف ظاہر ہے کہ لوگ منڈلا رہے ہیں اس فتنے کے نمودار ہونے کے لیے، وہ ہماری توجہ ہٹا کر خود تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں۔