ان گنت فتنوں کا ظہور اور ان کے نقصانات
قیامت صغریٰ کی بہت ساری نشانیوں میں سے ایک نشانی فتنوں کا کثرت سے ظہور ہونا بتا یا گیا ہے۔ یہ علامت دور حاضر میں طول پکڑتی نظر آرہی ہے اور اگر ہم اپنے اطراف میں نظر دوڑائیں جہاں تک آپ کی نظر جائے گی وہاں انواع واقسام کے فتنے دکھائی دینگے۔ کیونکہ دین سے دوری اور بے راہ روی کا شکار لوگ آپ ﷺ کے بتائے ہوئے راستے کو چھوڑ کر گمراہی کے اندھیروں میں دھنستے ہوئے ان فتنوں کی طرف تیزی سے راغب ہونا آج کل معمولی سمجھا جا رہا ہے۔
نت نئے فتنوں کا وجود دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ وہ دین اسلام نہیں ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے لئے پسند فرمایا تھا اور جسے آپ ﷺ کو سونپ کر انسانیت کی فلاح وبہبود کے لئے بھیجا گیا تھا۔
لوگ ایک دوسرے سے بالکل دور ہوتے جارہے ہیں، تیزی سے غیر اخلاقی رسومات کا جنم ہو رہا ہے، انسان ایک دوسرے کے حقوق تک فراموش کرتے جار ہے ہیں اور اسی طرح کے دوسرے بے شمار فتنے ہیں۔
ارشاد نبوی ﷺ کے مطابق "قرب قیامت میں لوگوں کا اللہ کی ذات پر سے بھروسہ ختم ہوتا جائے گا"۔ آج ہم سب اپنی کھلی آنکھوں سے اس گمراہی کو دیکھ رہے ہیں، کیا کچھ نہیں ہو رہا ہمارے معاشرے میں، قبروں کی پوجا، قبروں پر مجاور بن کر بیٹھنا، قبروں پر مقبرے بنانا اور پھر عرس وغیرہ کا اہتمام کرنا، اپنی جائز ناجائز منتیں مرادیں اس قبر والے سے مانگنا وغیرہ کیا یہ اللہ کی ذات کے ساتھ کھلا شرک نہیں ہے۔ پھر ہمارا یہ سوچ لینا کہ ہم دعائیں کرتے ہیں مگر دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔
ارشاد نبوی ﷺ کے مطابق "روز محشر جس شخص سے اللہ نے صرف یہ پوچھ لیا کہ تو نے یہ گناہ کیوں کیا تھا اس شخص کی خیر نہیں"۔
ہم آج گناہ کرتے ہوئے اس بات کی ہرگز پرواہ نہیں کرتے کہ ہم اللہ کے سامنے کیسے جواب دہ ہونگے۔ ہاں جو شخص اللہ کے ڈر سے اور اس کی تعظیم بجا لاتے ہوئے سب برے کا م چھوڑ دے اور ان سے بچتا رہے جیسے کہ بچنے کا حق ہے تو اسے اللہ تعالیٰ ایمان کی دولت نصیب فرمائے گا۔ جسے وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں محسوس کرے گا۔
اپنی جائز و ناجائز خواہشات کی تکمیل کرنے کے لئے حرام مال کمانا بھی ایک بڑا فتنہ ہے جسے آج ہم نظر انداز کرتے ہیں۔ سود خوری، رشوت، ڈاکہ زنی، زہریلی نشہ آور اشیاء کی خریدوفروخت اور حرام لباس کی تجارت سے جو پیسہ کمایا جاتا ہے۔ یہ سب دور حاضر کے فتنے ہیں۔ "یقینا روز محشر ہم سب سے سوال کیا جائے گا کہ اے انسان! تو نے مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا"۔
دوسروں کے گلے کاٹ کر حرام مال کھانے والے کی دعا اللہ تعالیٰ ہرگز قبول نہیں فرماتا اور ایسے شخص کے لئے دردناک عذاب کی وعید ہے۔ دوسروں کے گلے کاٹ کر ناجائز طریقوں سے کمایا جانے والا حرام مال اور اس حرام مال سے خریدا جانے والا لباس بھی دور حاضر کا ایک فتنہ ہے۔ یہ فتنہ مردوں اور عورتوں میں یکساں نظر آتا ہے، اس سے بچنا ہم سب کے لئے بے حد ضروری ہے۔
زمانہ حاضر میں ان گنت فتنوں کی اس قدر کثرت ہو چکی ہے کہ اگر کوئی پرہیزگار اور پاکدامن رہنے کی کوشش کرتا ہے تو لوگ اسے جینے نہیں دیتے بلکہ طنز کے نشتروں سے ہی مار دیتے ہیں۔
"اَلْفِتَنُ" فتنہ کی جمع ہے، اس کے معنی امتحان اور آزمائش کے ہیں۔ ہر مکروہ اور ناپسندیدہ چیز کے لئے یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بہت سے ایسے ہولناک فتنوں کی خبر دی ہے کہ جن میں ایک مسلمان پر حق خلط ملط ہو جائے گا۔ جب بھی کوئی فتنہ رونما ہو گا تو مومن کہے گا۔ یہ فتنہ میری ہلاکت کا باعث بنے گا۔ پھر جیسے ہی یہ فتنہ غائب ہو گا، اس کی جگہ کوئی دوسرا فتنہ آجائے گا۔
حدیث کے معنی
اس حدیث میں واضح اشارہ دیا گیا ہے کہ گمراہی اور جہالت کے اندھیروں کے چھا جانے سے پہلے اس وقت کی قدر کر لو گویا اس وقت کے آنے سے پہلے پہلے جب نیک عمل کرنا انتہائی دشوار ہوگا اس وقت کے آنے سے پہلے نیک اعمال کر لو۔ ایسا نہ ہو کہ انسان صرف سوچتا رہے اور موت کا وقت قریب آ پہنچے، پے درپے رونما ہونے والے اور مشغول کر دینے والے فتنوں کے اس دور سے پہلے جو اندھیری رات کی طرح ہو گا اور چاندنی کا اس میں نشان نہیں ہو گا، نیک اعمال بجا لاؤ۔
آپ ﷺ نے ان فتنوں کی سنگینی اور شدت کا احساس اس طرح دلایا کہ آدمی شام کے وقت تو مومن ہو گا اور صبح ہوتے ہوتے کافر ہو جائے گا۔ یا صبح کے وقت تو مومن ہو گا اور شام ہوتے ہوتے کافر ہو جائے گا یہ اس وجہ سے ہوگا کہ فتنے بہت عظیم اور ہولناک ہوں گے، دنیا کی زندگی جینے کے لئے اس کا بچہ ہوا ایمان بھی فتنوں کے طوفان میں ہچکولے کھاتا نظر آئے گا۔
ان کی وجہ سے انسان میں ایک ہی دن میں یہ تبدیلی رونما ہو جائے گی۔ اس دور میں انسان اپنے ایمان اور دین کو بچا لے یہی بہت بڑی بات ہوگی۔ اگرچہ جس طرح کی کیفیت بتائی جا رہی ہے انتہائی مشکل وقت ہوگا۔ اللہ پاک ہم سب کو اس جہالت اور گمراہی کی دلدل سے بچائے اور ان فتنوں کی لپیٹ سے ہم سب کو بچائے۔ آمین۔