تعارف
قارئین کرام! دین اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اس سلامتی کو برقرار رکھنے کے لئے اللہ رب العزت نے پیغمبروں اور انبیاء کرام کا سلسلہ جاری رکھا تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کی توحید، وحدانیت کا درس دیتے رہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے لوگوں کو ڈرائیں اور سمجھائیں اور پھر وقت مقررہ تک اللہ کے حکم سے یہ سلسلہ بند کیا گیا لیکن ایک بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جن کاموں کو کرنے سے اللہ نے منع کیا ہے ان سے رک جانا ہی سلامتی ہے اور جن کاموں کو کرنے کی اللہ نے اجازت دی ہے ان کو بھی ایک حد تک کرنے کو اجازت دی گئی ہے۔ مثلاً شادی کرنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن اس میں اسراف کا ناپسند فرمایا گیا ہے۔
دین اسلام اور حلال و حرام
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے عقل و شعور عطا کیا تاکہ وہ اپنے اعمال میں تمیز کر سکے۔ اسی تمیز کی بنیاد پر اللہ نے کچھ چیزیں حلال اور کچھ حرام قرار دیں۔ حلال و حرام کا یہ فرق انسان کی دنیوی اور اخروی کامیابی کے لیے نہایت ضروری ہے۔
قیامت کی نشانی
قیامت کی بہت ساری نشانیوں میں سے ایک نشانی آپ ﷺ نے اپنی امت کو یہ بھی بتلائی گئی کہ قرب قیامت لوگ "آلاتِ موسیقی، زنا، ریشم اور شراب کو جائز اور حلال سمجھیں گے"۔
ہمارے معاشرے میں ایسے نمایاں حرام کام جو کہ کھلے عام چل رہا ہے اور جن کی حرمت اور پلیدگی سے آج کا مسلمان بے خبر نہیں وہ زنا، شراب نوشی، بیہودہ آلات موسیقی اور مردوں کے لئے ریشم کا استعمال ہے غرض یہ کہ اس کی کوئی بھی قسم یا طریقہ کا استعمال کیا جانا ہے۔
چار حرام کام
یہ چار حرام کام ہیں:
- زنا: جو کہ ایک کبیرہ گناہ ہے اور معاشرتی تباہی کا باعث بنتا ہے
- شراب: جو کہ عقل کو زائل کرتی ہے اور انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کر دیتی ہے
- آلات موسیقی: جو کہ انسان کو عبادت سے دور کرتے ہیں
- ریشم: جو کہ مردوں کے لیے حرام ہے اور اس کا استعمال تکبر کی علامت ہے
حلال سمجھنے کی صورتیں
ان حرام کردہ کاموں کو حلال سمجھ لینے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں جن کا آپ ﷺ نے اشارہ فرمایا:
- پہلی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ایسے لوگوں کا اپنے ذہن میں بنا کسی ریسرچ کے یہ اعتقاد قائم کر لینا کہ یہ حلال ہے یا حرام، اگر حلال ہے تو کیوں؟ اور اگر حرام ہے تو کیوں؟ (ایسی صورت کے لوگوں سے ہمارا معاشرہ بھرا پڑا ہے کیونکہ جہالت بہت زیادہ ہوگی ہے اور ریسرچ کا تو نام و نشان ہی نہیں ہے)
- دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے جو کہ بہت زیادہ عام ہوتی جا رہی ہے کہ لوگوں میں ان حرام کردہ اشیاء کا استعمال اس قدر زیادہ ہو جانا کہ لوگ دیکھتے ہوئے بھی اپنی زبان یا دل سے انھیں برا تک نہ کہے مطلب جو جیسے کر رہا ہے اسے کرنے دیا جائے۔ لوگ بے خوف و خطر/بلاجھجک ان اشیاء کو بے دھڑک استعمال کریں اور ان کے حرام یا حلال ہونے کا احساس تک نہ ہو۔
آلات موسیقی کا استعمال
اگر میں آلات موسیقی کو لوں تو آج ٹی وی پر دکھائے جانے والے پروگرام اتنی تیزی سے ابھر کر دکھائے جا رہے ہیں کہ گھر میں بیٹھے کوئی شخص بوڑھا ہو یا بچہ عورت ہو یا لڑکی اس مرض میں مبتلا ہے بجائے دین سیکھنے اور سکھانے کے وہ لوگ میوزک کی تربیت لے رہے ہیں اور ناسمجھی کی وجہ سے ہر مسلم گھرانے سے لوگ موسیقی کی دنیا میں قدم جمانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں دوستوں، قریبی رشتہ داروں اور گھر کے بڑے بزرگ اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو جہنم کا ایندھن بنانے میں لگے ہوتے ہیں۔
ائمہ کرام کی آرا
ائمہ کرام نے ہمیشہ مسلمانوں کو ان حرام کاموں سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "احیاء علوم الدین" میں فرمایا:
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:
ان اقوال سے واضح ہوتا ہے کہ ائمہ کرام نے ان چاروں چیزوں کو سختی سے حرام قرار دیا ہے اور مسلمانوں کو ان سے بچنے کی تاکید کی ہے۔
اختتامیہ
یہ چاروں نشانیاں دور حاضر میں اپنے پورے جوبن پر ہیں ناصرف جوبن پر ہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں جس طرح ان چاروں کا ذکر ایک ساتھ فرمایا گیا ہے اسی طرح معاشرے میں بھی ایک ساتھ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ صرف مسلم ممالک میں ہی نہیں بلکہ دنیا کا کوئی ملک اس حرام کردہ بیماری سے پاک اور محفوظ نہیں ہے۔