قارئین کرام! دین اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اس سلامتی کو برقرار رکھنے کے لئے اللہ رب العزت نے پیغمبروں اور انبیاء کرام کا سلسلہ جاری رکھا تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کی توحید، وحدانیت کا درس دیتے رہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے لوگوں کو ڈرائیں اور سمجھائیں اور پھر وقت مقررہ تک اللہ کے حکم سے یہ سلسلہ بند کیا گیا لیکن ایک بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جن کاموں کو کرنے سے اللہ نے منع کیا ہے ان سے رک جانا ہی سلامتی ہے اور جن کاموں کو کرنے کی اللہ نے اجازت دی ہے ان کو بھی ایک حد تک کرنے کو اجازت دی گئی ہے۔ مثلاً شادی کرنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن اس میں اسراف کا ناپسند فرمایا گیا ہے۔
قیامت کی بہت ساری نشانیوں میں سے ایک نشانی آپ ﷺ نے اپنی امت کو یہ بھی بتلائی گئی کہ قرب قیامت لوگ "آلاتِ موسیقی، زنا، ریشم اور شراب کو جائز اور حلال سمجھیں گے"۔
ہمارے معاشرے میں ایسے نمایاں حرام کام جو کہ کھلے عام چل رہا ہے اور جن کی حرمت اور پلیدگی سے آج کا مسلمان بے خبر نہیں وہ زنا، شراب نوشی، بیہودہ آلات موسیقی اور مردوں کے لئے ریشم کا استعمال ہے غرض یہ کہ اس کی کوئی بھی قسم یا طریقہ کا استعمال کیا جانا ہے۔۔ آپ ﷺ نے اپنی امت کو خبر دی ہے "کہ میری امت کا ایک گروہ آخری زمانے میں ان حرام چیزوں کو حلال کر لے گا اور آپ ﷺ نے اس کو قربِ قیامت کی علامات میں شمار کیا ہے"۔
ان حرام کردہ کاموں کو حلال سمجھ لینے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں جن کا آپ ﷺ نے اشارہ فرمایا: اگر ہم اپنے اردگرد معاشرے میں نظر دوڑائیں تو ہمیں کچھ ایسی ہی ذہنیت کے لوگ ملیں گے جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ ﷺ کی بات کس قدر سچ اور حق ہے۔
پہلی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ایسے لوگوں کا اپنے ذہن میں بنا کسی ریسرچ کے یہ اعتقاد قائم کر لینا کہ یہ حلال ہے یا حرام، اگر حلال ہے تو کیوں؟ اور اگر حرام ہے تو کیوں؟ (ایسی صورت کے لوگوں سے ہمارا معاشرہ بھرا پڑا ہے کیونکہ جہالت بہت زیادہ ہوگی ہے اور ریسرچ کا تو نام و نشان ہی نہیں ہے)
دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے جو کہ بہت زیادہ عام ہوتی جا رہی ہے کہ لوگوں میں ان حرام کردہ اشیاء کا استعمال اس قدر زیادہ ہو جانا کہ لوگ دیکھتے ہوئے بھی اپنی زبان یا دل سے انھیں برا تک نہ کہے مطلب جو جیسے کر رہا ہے اسے کرنے دیا جائے۔ لوگ بے خوف و خطر/بلاجھجک ان اشیاء کو بے دھڑک استعمال کریں اور ان کے حرام یا حلال ہونے کا احساس تک نہ ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "میری امت میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور آلات موسیقی کو حلال سمجھیں گے۔ اور کچھ لوگ اپنی بکریوں کو لے کر سستانے کے لئے ایک بلند پہاڑ کے دامن میں ٹھہریں گے۔ اسی دوران میں ان کے پاس ایک حاجت مند شخص آکر کچھ مانگے گا۔ یہ کہیں گے ہمارے پاس کل آنا۔ مگر رات ہی میں اللہ تعالیٰ کا عذاب انھیں آ پکڑے گا۔ پہاڑ ان کے اوپر آ گرے گا اور (کچھ تو ہلاک ہو جائیں گے اور جو باقی بچیں گے) انھیں قیامت تک کے لئے بندر اور خنزیر بنا دیا جائے گا"۔
یہ چاروں نشانیاں دور حاضر میں اپنے پورے جوبن پر ہیں ناصرف جوبن پر ہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں جس طرح ان چاروں کا ذکر ایک ساتھ فرمایا گیا ہے اسی طرح معاشرے میں بھی ایک ساتھ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ صرف مسلم ممالک میں ہی نہیں بلکہ دنیا کا کوئی ملک اس حرام کردہ بیماری سے پاک اور محفوظ نہیں ہے۔
اگر میں آلات موسیقی کو لوں تو آج ٹی وی پر دکھائے جانے والے پروگرام اتنی تیزی سے ابھر کر دکھائے جا رہے ہیں کہ گھر میں بیٹھے کوئی شخص بوڑھا ہو یا بچہ عورت ہو یا لڑکی اس مرض میں مبتلا ہے بجائے دین سیکھنے اور سکھانے کے وہ لوگ میوزک کی تربیت لے رہے ہیں اور ناسمجھی کی وجہ سے ہر مسلم گھرانے سے لوگ موسیقی کی دنیا میں قدم جمانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں دوستوں، قریبی رشتہ داروں اور گھر کے بڑے بزرگ اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو جہنم کا ایندھن بنانے میں لگے ہوتے ہیں۔
لوگو! اپنے گھر کے افراد کی تربیت کریں ابھی سے چھوٹے بچوں کو سمجھائیں اور بچائیں ان کو اور خود کو بھی۔۔۔۔۔آمین