آپ ﷺ نے اچانک اموات کے بارے میں کیا فرمایا؟

محترم قارئین کرام! کائنات کی ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ یہ ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس کو کوئی بھی شخص جھٹلانا بھی چاہے تو جھٹلا نہیں سکتا، خواہ وہ کافر ہو، فاجر ہو۔ دنیا میں آنے کا ایک وقت مقرر ہے لیکن اس دنیا سے جانے کا بھی ایک وقت مقرر ہے۔ کوئی جوانی میں، تو کوئی بڑھاپے میں، تو کوئی ایام طفلی میں ہی اللہ کے پاس چلا جاتا ہے۔

کائنات کے لوگ چاہے چاند پر چلے گئے ہیں، نت نئی مشینیں تیار کر لی گئی ہیں، ان سب کے باوجود بھی اس جگہ آ کر بے بس ہو جاتے ہیں کہ وہ موت پر قابو نہیں پا سکتے۔ لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ جس نے پیدا کیا ہے اس نے واپس بھی بلانا ہے۔

بدقسمتی ہماری کہ ہم اپنی تمام تر خوشیوں اور خواہشوں کے پلانز میں موت کو کبھی بھی ایڈ نہیں کرتے کیونکہ موت اس قدر بھیانک ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے بھٹک کر زندگی گزار کر جاتا ہے۔ "دنیا کافر کے لیے جنت ہے اور مومن کے لیے قید خانہ"۔

ہماری حالت بھی بند آنکھیں کئے اس کبوتر کی مانند ہو گئی ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا، تو درحقیقت کون زیادہ دھوکے میں ہے؟ ہم یا ہماری موت؟

قبرستان بھرے پڑے ہیں جو شاید مرنا ہی نہیں چاہتے تھے، جن کو اپنے ہاتھوں سے دفن کیا تھا۔

حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی شخص مرنا نہیں چاہتا، اور اس بات کو ہم بالکل فراموش کرنے کے لیے اپنے آپ کو گمراہی کی دلدلوں میں دھنساتے چلے جاتے ہیں۔ ہم لوگ تو پوری کوشش بھی کرتے ہیں کہ موت ہمیں نہ آئے اور نہ یاد کرے لیکن افسوس اللہ رب العزت ایسا ہونے نہیں دیتے۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ رشتہ داروں میں یا ہمسایوں میں کسی کی موت ہو گئی ہے اور ہم پھر بیدار ہوتے ہیں لیکن یہ سوچ کر کہ شکر ہے موت ہمیں نہیں آئی اس کو آئی ہے یقینا اس نے کوئی غلط کام کیا ہوگا اس لیے اللہ نے اس کو اپنے پاس بلا لیا۔

ہائے افسوس کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ہمیں کیا تعلیمات دی ہیں کہ انسان کی قبر ہر دن اس کو ستر بار یاد کرتی ہے۔ کیا ہم نے بھی موت کو یاد کیا کہ ہمیں بھی ایک دن موت نے اچک لینا ہے؟ پھر کہا گیا ہے روزانہ قبرستان جایا کرو، روزانہ نہیں جا سکتے تو ہفتہ میں ایک بار اور اگر مصروفیت زیادہ ہے تو مہینہ میں ایک بار، نہیں تو سال میں ایک بار تاکہ تم اپنی موت کو یاد کر سکو۔ لیکن ہم قبرستان جانے سے بھی اتنا ہی گھبراتے ہیں جتنا کہ موت سے۔

اچانک اموات کی کثرت

اللہ کے نبی ﷺ نے قیامت کی جو نشانیاں امت کو بتائی ہیں، ان نشانیوں میں ایک نشانی یہ بھی فرمائی کہ قرب قیامت "اچانک اموات کی کثرت ہو جائے گی"۔ آج ہم اپنی ان گنہگار آنکھوں سے یہ مناظر دیکھ رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں مزید شدت آ رہی ہے۔ یہ نشانی بھی دور حاضر میں ظاہر ہو چکی ہے۔ یعنی ایسی موت جو اچانک دل کا دورہ پڑنے، جون جم جانے، گاڑی کے حادثے یا ہوائی جہاز کے گرنے سے واقع ہوتی ہے اور آج کل لاکھوں جانیں کرونا وائرس کی نذر ہو گئی ہیں اور ابھی بھی مزید جاری ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "علامات قیامت میں سے یہ بھی ہے کہ اچانک موت کثرت سے واقع ہوگی۔"

ارشاد ربانی ہے: "تم جہاں بھی ہو گے (ایک نہ ایک دن) موت تمہیں جا پکڑے گی۔ چاہے تم مضبوط قلعوں میں ہی کیوں نہ رہ رہے ہو۔"

پھر ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: "ہر چیز فنا ہونے والی ہے، سوائے اللہ کی ذات کے۔ حکومت اسی کی ہے، اور اُسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے۔"

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "لذتوں کو ختم کرنے والی موت کو کثرت سے یاد کیا کرو۔"

پہلے دور میں آدمی موت کی بعض علامات کو محسوس کرتا تھا اور کچھ عرصہ بیمار رہ کر یہ جان لیتا تھا کہ یہ مرض لاعلاج ہے۔ اس طرح اگر اللہ اسے مہلت دیتے تو وہ وصیت لکھ لیتا، اور اپنے اہل وعیال کو الوداع کر لیتا، اولاد کو کچھ نصیحتیں بھی کر لیتا، ہوش و حواس کے پیش نظر وہ اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اس سے سابقہ گناہوں کی معافی بھی طلب کر لیتا اور کلمہ توحید کا ورد شروع کر دیتا تھا۔ تاکہ اس کی موت ایمان کی حالت میں بالخصوص کلمے پر واقع ہو۔

مگر دور حاضر میں ہم نت نئی بیماریوں کے نام سنتے ہیں اور آنافانا لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جیسے آج کل کرونا وائرس سے کثرت اموات کا ذکر ہم سنتے اور دیکھتے جا رہے ہیں، یا ریلوے اور روڈ حادثات سے اموات، اسی طرح مسئلہ فلسطین کے اندر کس قدر اموات ہو رہی ہیں۔ اسی طرح ایک شخص ٹھیک ٹھاک صحت مند ہوتا ہے آپ سے اچھے انداز میں ہم کلام بھی ہوتا ہے، کافی وقت آپ کے ساتھ گزارتا ہے، بظاہر اسے کوئی بیماری یا تکلیف بھی نہیں ہوتی لیکن اچانک دل کے اٹیک سے، یا رگوں میں خون جم جانے سے یا اسی نوعیت کے دیگر حوادث و عوارض کے باعث ہم اس کی وفات کی خبر سن لیتے ہیں اور دل ودماغ اس بات کو تسلیم کرنے کو بالکل رضامند نہیں ہو رہا ہوتا تاہم پھر بھی اس فیصلے کو ماننا پڑتا ہے۔

اسی طرح ایک عقل مند انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ ہر وقت بیدار و ہوشیار رہے، موت اور اللہ کی ملاقات کا سامنا کسی بھی وقت متوقع ہے، اس لیے اللہ کے حضور توبہ واستغفار میں وقت گزاریں۔

بہت لوگوں کو وقت ہی نہیں ملتا کچھ کہنے اور سننے کا اور اچانک موت کے شکار ہو جاتے ہیں۔ دوستو! یہ دنیا عارضی دنیا ہے، اس دنیا کی ہر چیز وقتی اور عارضی ہے۔ اس عارضی دنیا میں دل مت لگائیں، کیا خبر کہ کس وقت بلاوا آ جائے اور ہمارے سارے پلانز دھرے کے دھرے رہ جائیں اور آخرت کے لیے ہماری کوئی تیاری نہ ہو۔ ذرا سوچیں کہ ہم اپنے رب کو کیا منہ دکھائیں گے کہ ہم نے دنیا کمانے میں اپنا وقت ضائع کیا لیکن آخرت کی تیاری کے لیے وقت نہیں تھا ہمارے پاس۔ تو سوچیں کے کیا ہو گا ہمارا!

دعا

اللہ رب العزت سے استدعا ہے کہ ہم سب کے گناہ معاف فرمائے اور ناگہانی موت سے بچائے اور ہمیں اس راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے جو سچا اور حقیقی راستہ ہے۔ آمین۔

اس پوسٹ پر اپنا ردعمل ظاہر کریں