رسول اللہ ﷺ نے قیامت کی نشانیوں میں امن و عیش کی کثرت کو بھی ذکر فرمایا جو اللہ کی یاد سے غافل کر دینے والا فتنہ ہے۔ جانیے اس کے بارے میں تفصیل۔
امن و امان اور عیش و عشرت کی کثرت کا فتنہ
جس طرح انسانی زندگی فانی ہے، اس کا خاتمہ یقینی ہے۔ بالکل اسی طرح کائنات کی ہر چیز فانی ہے، اور ایک مقررہ وقت کے بعد اس کا فنا ہونا یقینی ہوتا ہے۔ ایک مقررہ وقت پر اس دنیا کا بھی خاتمہ ہونا ہے۔ کیسے ہوگا؟ کب ہوگا؟ اس کا علم اللہ رب العزت کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہی اس کائنات کا خالق و مالک ہے، وہی جانتا ہے کہ کیا ٹھیک ہے اور کیا برا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے ذریعے قیامت کی ان نشانیوں کا ذکر ضرور کیا ہے جو اپنے اپنے مقررہ وقت پر عیاں ہوتی جا رہی ہیں۔ ان سب نشانیوں کے عیاں ہونے کے باوجود انسان خواب غفلت میں ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمانوں نے دین کو اپنا اوڑھنا بچھونا سمجھا رکھا اور تلوار کو کبھی زنگ آلود نہ ہونے دیا، تب تک وہ سر اٹھا کر چلتا رہا۔ یہاں تک کہ دشمنوں کو اپنی جان بچانا مشکل ہوتی تھی — یا تو وہ فدیہ دے کر رہ جاتے، یا پھر خدا کی اس بستی میں انسان بن کر رہتے۔
آج مسلمانوں کو اپنی جانوں کے لالے پڑ گئے ہیں۔ دشمن آنکھ دکھا رہا ہے، اور ہم ان جگہوں کی تلاش میں ہیں کہ کہاں چھپ سکیں۔
قیامت کی بہت سی چھوٹی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ امن و امان اور عیش بھری زندگی کی کثرت ہو جائے گی۔ یہ بات اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ جیسے جیسے ماہ و سال گزریں گے، ہر طرف امن اور عیش بھری زندگی کا دور شروع ہوتا جائے گا۔ گویا یوں کہا جا سکے کہ انسان دکھ بھری زندگیوں سے نکل کر عیش و عشرت والی زندگی کو چن لے گا۔
مال و متاع سے محبت، زندگی کی ہر پرآسائش چیز کا استعمال، فراوانی کا رسیا ہو جانا، یادِ الٰہی سے غافل ہو جانا، اور دین و ایمان کا سودا کر لینا — یہ سب موجودہ دور کا ایک فتنہ ہی تو ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ سرزمینِ عرب میں دوبارہ باغات اور نہروں کی کثرت نہ ہو جائے، اور یہاں تک کہ ایک سوار عراق سے چل کر مکہ پہنچے گا، اور دورانِ سفر اسے راستہ بھولنے کے سوا کوئی خوف نہ ہو گا۔ اور البتہ 'ہرج' کی کثرت ہو جائے گی۔"
اس حدیث سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ جو کوئی مسافر سفر کر رہا ہو گا، اسے دورانِ سفر چوروں اور ڈاکوؤں کا کوئی اندیشہ نہ ہو گا۔
آج کے اس دور میں ہم جو بھی سفر کرتے ہیں — چاہے ہوائی جہاز کے ذریعے ہو یا بس/ٹرین کے ذریعے — آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس قدر سکیورٹی ہوتی ہے اور باقاعدہ چیکنگ کے ذریعے سوار کیا جاتا ہے۔ ہاں، اس سفر میں چوروں اور ڈاکوؤں کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ ڈر صرف یہ ہے کہ کہیں غلط منزل کا تعین تو نہ کر بیٹھا یا غلط سواری کا انتخاب نہ کر لیا ہو۔
اس بات کی وضاحت آپ ﷺ کی اس حدیث مبارکہ سے بھی ہوتی ہے جس میں آپ ﷺ نے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
"اے عدی! کیا تم نے حیرہ دیکھا ہے؟"
عدی نے کہا: "اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے دیکھا تو نہیں، ہاں البتہ اس کے بارے میں سن رکھا ہے۔"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"اگر تمہاری عمر نے وفا کی، تو تم دیکھو گے کہ ایک عورت 'حیرہ' سے اپنی سواری پر بیٹھے گی اور کعبہ پہنچ کر طواف کرے گی۔ اس سفر میں اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہو گا۔"
(حیرہ عراق کا شہر ہے جو کوفہ سے تین میل کے فاصلے پر ہے۔)
دورِ حاضر میں ہر چیز کی کثرت ہے: