تنگ لباس پہننے والی ننگی عورتوں کے بارے میں آپ ﷺ نے کیا وعید سنائی؟

تنگ لباس پہننے والی ننگی عورتوں کے بارے میں آپ ﷺ نے کیا وعید سنائی؟

قارئین کرام! آج کا میرا آرٹیکل ان لوگوں کے نام ہے جو ہمیشہ اس بات کا رونا روتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ان کی بہنوں، بیٹیوں، بیویوں کو لوگ چھیڑتے ہوئے یا تنگ کرتے نظر آتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہمیشہ مرد ہی برے ہوتے ہیں اور وہ عورتوں کو چھیڑتے ہیں۔ بلکہ اس میں قصور دونوں طرف ہی ہوتا ہے۔

جب جوان بیٹیاں، بہنیں تنگ لباس پہن کر ننگے سر اپنے بھائیوں، بیٹوں، شوہر یا باپ کے سامنے سے گزرتے ہوئے کالج یا یونیورسٹی، شادی ہال، پارٹیاں، عید، شاپنگ پر جاتی ہیں تو اس وقت ان کی آنکھیں کیوں بند ہو جاتی ہیں اور زبان پر تالے کیوں پڑ جاتے ہیں۔ وہ یہ سب کچھ روکنے کی ہمت کیوں نہیں کرتے جو تکلیف وہ اپنی بچیوں کے لیے محسوس کرتے ہیں دوسروں کی بچیوں کے لیے محسوس کیوں نہیں ہوتا۔

کہنے کو تو ہم اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے رہنے والے ہیں جہاں اسلام کا بول بالا ہونا چاہیے وقت حکمران کو چاہیے کہ ایسا قانون بنایا جائے کہ ہماری عورتوں کو پردے، عبایا پر پابندی سے عمل پیرا ہونا چاہیے۔ مگر افسوس ہم نے مغرب کی تہذیب کو تو اپنا لیا لیکن اپنا دین کیا کہتا ہے اس فرمان کو تو ہم نے پسِ پشت ڈال دیا ہے۔

بہرحال اگر وقت حکمران کچھ نہیں کر رہا تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہماری ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے بلکہ انفرادی ذمہ داری موجود ہے "جیسا کہا گیا ہے کہ تم میں سے ہر ایک مرد اپنے گھر کا حکمران ہے"۔ دین اسلام میں عورت کی جتنی عزت و تکریم پر زور دیا گیا ہے دنیا کے کسی مذہب میں عورت کو اتنی عزت نہیں ملی۔

عورتوں کی بے پردگی اور خوبصورتی کا بے جا اظہار و خیال کرنا بھی قرب قیامت کی بہت ساری نشانیوں میں سے ایک ہے۔ عورتوں کا ایسے چست، تنگ، شفاف باریک لباس پہن کر اپنے گھروں سے نکلنا جن کے باعث بیٹھتے اور چلتے وقت جسمانی نشیب و فراز واضح ہوتے ہوں درحقیقت ایسی عورتیں بظاہر تو کپڑوں میں ملبوس ہوتی ہیں مگر اعضائے جسمانی کی نمائش اور جسم کے پر فتن حصوں کو ظاہر کرنے کی وجہ سے ننگی ہی ہوتی ہیں۔

ایسی ہی عورتوں کے لیے ہمارے نبی کریم ﷺ نے کیا حکم صادر فرمایا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "دو ایسے جہنمی گروہ جنھیں میں نے ابھی تک نہیں دیکھا: ایک تو وہ (ظالم) لوگ جن کے ہاتھوں میں گائے کی دم جیسے کوڑے ہوں گے، ان سے وہ لوگوں کو ماریں گے۔ دوسری وہ عورتیں جو کپڑے پہن کر بھی ننگی ہی نظر آئیں گی لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے والی اور خود بھی لوگوں کی طرف مائل ہونے والی، ان کے سر (کے بال) بختی اونٹوں کی کوہانوں کی مانند ایک جانب کو ڈھلکے ہوئے ہوں گے۔ یہ جنت میں داخل ہوں گی نہ اس کی خوشبو پا سکیں گی، حالانکہ اس کی خوشبو اتنے فاصلے سے آرہی ہوگی"۔

"مائلات" کو علماء کرام نے کئی طریقوں سے بیان فرمایا ہے:

  • جیسا کہ یہ خواتین اللہ کی اطاعت سے انحراف کرنے والی اور اس کی اطاعت پر استقامت نہ دکھانے والی ہوں گی۔
  • یعنی ان کے ہاں ایسی معاصی و برائیاں ہونگی جس طرح ایک فاحشہ عورت کی ہوتی ہیں، یا پھر وہ فرائض نماز وغیرہ کی ادائیگی میں کوتاہی کرتی ہونگی۔
  • یعنی اپنی چال میں مائل ہونگی اور خوب لہک لہک کر چلیں گی۔
  • وہ مردوں کی جانب مائل ہونگی، اور ان کے بناؤ سنگھار اور زینت وغیرہ ظاہر کرنے کی بنا پر مرد ان کی جانب مائل ہونگے۔
  • یعنی وہ ٹیڑھی کنگھی کریں گی، جو کہ فاحشہ عورتوں کی کنگھی ہوتی ہے۔
  • شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں: لباس یا شکل و صورت، یا کلام وغیرہ میں صراط مستقیم سے ہٹی ہوئی ہوں۔
  • مائلات سے مراد وہ عورتیں ہیں جو اپنے اوپر واجب شرم و حیا اور دین سے مائل ہوں اور ہٹی ہوئی ہوں۔

"ممیلات" کو علماء کرام نے کئی طریقوں سے بیان فرمایا ہے کہ دوسری عورتوں کو فحاشی کی طرف راغب کرنے والی، یعنی یہ فساد میں مبتلا اور فساد پھیلانے والی عورتیں ہوں گی۔

  • یعنی دوسروں کی شر و برائی اور فساد کی طرف مائل کرنے والیاں ہونگی، لہذا ان کے افعال اور اقوال کی بنا پر دوسرے لوگ فساد و فتنہ اور معاصی و برائی کی طرف مائل ہونگے، اور اپنے عدم ایمان یا ایمان کی کمزوری و قلت کی بنا پر فحش کام کریں گے۔
  • ممیلات اپنے کندھوں کو مائل کریں گی۔
  • وہ عورتیں جو دوسروں کو مائل کریں، اور یہ اس طرح ہے کہ عورتوں کا ایسی اشیاء استعمال کرنا جس میں فتنہ و فساد ہو حتی کہ اللہ کے بندوں میں کچھ لوگ ان کی جانب مائل ہو جائیں۔

"رؤوسھن کاسنمۃالبخت" یعنی وہ اپنے سر کے بالوں کو اس طرح باندھیں گی کہ بال اوپر اٹھ جائیں گے جس طرح اونٹ کی کوہان نمایاں ہوتی ہے، ان عورتوں کے بال ایک طرف اس طرح جھکے ہوں گے جس طرح بختی اونٹوں کی کوہانیں ایک جانب کو ڈھلکی ہوئی ہوتی ہیں۔

  • ان کے علاوہ دوسرے اس طرح کی کنگھی کر کے بال بنائیں گے۔ کنگھی سے مراد یہ ہے کہ سر کے درمیان کی بجائے سر کی ایک طرف مانگ نکل کر ایک طرف زیادہ اور دوسری طرف کم بال کیے جائیں، جو کہ دور جاہلیت میں فاحشہ عورتوں کا شعار اور علامت تھی۔
  • سب بال اکٹھے کر کے ایک سائڈ پر رکھنے کے متعلق شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں: بالوں کی مانگ نکالنے میں سنت یہ ہے کہ پیشانی کے وسط سے سر کے اگلے حصہ سے شروع کر کے مانگ نکالی جائے، کیونکہ بالوں کی جہت آگے، پیچھے، اور دائیں بائیں ہوتی ہے، اس لیے مشروع مانگ کا طریقہ یہی ہے کہ سر کے درميان سے نکالی جائے، لیکن سر کے ایک طرف سائڈ میں مانگ نکالنا مشروع نہیں، بلکہ اس میں غیر مسلموں سے مشابہت ہوگی۔

اہل علم و دانش کے نزدیک: نبی کریم ﷺ کے فرمان "مائلات ممیلات" سے مراد یہی ہے۔

آج ہماری مسلمان عورتوں اور مردوں سے گزارش ہے کہ جن اشارات کی طرف اللہ کے نبی ﷺ نے ہمیں متنبہ کیا ہے ان سے بچیں اور دوسروں کو ان سے بچائیں۔ شادی بیاہ میں یا تہواروں میں اکثر اسی طرح عورتوں کو دیکھا گیا ہے تو اسپیشل بیوٹی پارلر سے تیار ہو کر آتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سب برے ہیں بلکہ اس آرٹیکل لکھنے کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ نادانستگی میں جو کام کئے جاتے ہیں کہیں وہ اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف تو نہیں۔ اللہ ہم سب کو بچائے۔ آمین۔

ری ایکشنز