محترم قارئین کرام! آج کا آرٹیکل بھی قیامت صغریٰ کی ایک ایسی نشانی "قرب قیامت لوگ اپنی موت کی تمنا کریں گے" پر لکھا جا رہا ہے جو ہمارے معاشرے میں خود کشی کرنے والوں کی ایک شکل میں موجود ہے۔
خود کشی بہرحال ایک صورت حال میں کی جا رہی ہے: مال ودولت کا نہ ہونا، زندگی کی تنگی اور تکالیف کا سامنا نہ کر سکنا، محبت و عشق میں ناکامی کی وجہ یا اللہ رب العزت کی ذات پر توکل نہ ہونا۔ لیکن خود سے موت کی تمنا کرنا بھی اسی کی ایک کڑی ہے، مثلاً کوئی شخص کسی تکلیف میں مبتلا ہے اور وہ تکلیف اس سے برداشت نہیں ہو رہی تو وہ زندگی کی بجائے مرنے کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ مرنا کوئی بھی نہیں چاہتا اس کے باوجود بھی تمنا کرتے ہیں۔
اس لئے آپ ﷺ نے فرمایا "کوئی شخص تم میں سے موت کی آرزو نہ کرے اگر وہ نیک ہے تو ممکن ہے نیکی میں اور زیادہ ہو اور اگر برا ہے تو ممکن ہے اس سے توبہ کر لے"
اللہ رب العزت قرآن میں فرماتے ہیں "کہ وہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر کرو اور ایمان لاؤ" ہم سب اللہ کی مخلوق اور اس کے محتاج ہیں اسی نے ہم سب کو دستِ قدرت سے بنایا ہے تو وہ ہمیں عذاب دے کر کیا کرے گا نہ ہی اللہ رب العزت کی ایسی کوئی چاہت ہے ہمیں عذاب دینے کی۔
بلکہ ہم نے اپنے آپ کو اپنے ہی اعمالوں کی وجہ سے مصیبتوں میں مبتلا کر لیا ہے۔ اور اگر ہم توکل کرنا سیکھ جاتے تو ایک توکل ہی ہے جو ہمیں خوشحال زندگی گزارنے کی ضمانت دیتی ہے۔ چونکہ فتنوں کے اس دور میں زندگی رینگ رینگ کر، مشکلوں سے چل رہی ہے تو وہ محض اس لئے کہ ہمارا اللہ رب العزت کی ذات پر بھروسہ نہیں ہے۔
تب ہی تو ہم قبرپرستی، کاہن اور تعویز گنڈوں پر بھروسہ زیادہ کرنے لگے ہیں۔ ہم سب نے اپنے ذہنوں میں اس بات کو بٹھا لیا ہے کہ جو کچھ ہم کما رہے ہیں وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے بلکہ ہماری دن رات کی محنت کی وجہ سے ہے لہذا ہم زکوٰۃ تک دینا گوارہ نہیں کرتے اور جو نتیجہ ہم توقع کر رہے ہوتے ہیں اس کے ہمیشہ برعکس ہونے کی وجہ سے ہم اضطراری کیفیت سے دوچار ہوتے چلے جاتے ہیں۔
حضرت علی ﷺ کا قول ہے وہ فرماتے ہیں کہ "میں نے اپنے ارادوں کی شکست سے اللہ رب العزت کی ذات اقدس کو پہچانا ہے"۔ مثلاً جب انسان کوئی منصوبہ سازی کرتا ہے جو وہ سمجھتا ہے کہ یہ کام اس کے حق میں بہتر ہے اور کوئی نہ کوئی طاقت اس کو اس کام کے کرنے سے روکے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اس کا خیر خواہ ہی ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا "اگر اللہ رب العزت کی ذات اقدس پر توکل کرنے حق صحیح معنوں میں ادا کردو تو اللہ ایسے رزق عطا فرمائے گا جیسے پرندوں کو عطا کیا جاتا ہے"
اہل مغرب میں چونکہ اللہ کی ذات اقدس پر توکل نہیں ہے اس لئے وہاں خودکشی کے کیسز سب سے زیادہ رپورٹ کئے جاتے ہیں۔
حضور اقدس ﷺ نے اپنی امت کی بھلائی اور خیرخواہی کے لئے جو تعلیمات دیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک ایسا وقت آجائے گا کہ اس میں ظلم و بربریت، اندھا دھند فتنوں کا ہر سو پھیل جانا اور مصیبتوں کی کثرت ہوگی۔ حتی کہ ایک شخص اپنے ساتھی کی قبر کے پاس سے گزرے گا تو تمنا کرے گا کہ کاش! اس قبر میں اپنے ساتھی کے بجائے وہ مدفون ہوتا۔ شاید جس قسم کی تکالیف، پریشانیوں اور مصائب میں وہ زندگی گزار رہا ہوگا اور جس کرب کا اسے سامنا ہو گا وہ موت سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوں گے"
ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک یہ صورت حال نہ ہو جائے کہ ایک شخص کسی کی قبر کے پاس سے گزرے گا اور آرزو کرے گا کہ کاش! اس قبر والے کی جگہ وہ خود اس قبر میں مدفون ہوتا"
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "تم پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ اگر تم میں سے کسی کو موت فروخت ہوتی مل جائے تو وہ اسے بھی خرید نے کے لئے تیار ہو جائے گا"
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے "تم میں کوئی شخص مصیبت کے نازل ہونے کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے"
آپ ﷺ نے جس بات کی پیش گوئی اپنی امت کو فرمائی وہ وقت کے ساتھ ساتھ رونما ہو رہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ حالات و واقعات اتنے سنگین ہو جائیں گے کہ ایک عام شہری بھی اس اذیت سے تنگ آکر موت کی خواہش کرے، بلکہ یوں کہا جائے کہ ایک شخص کے دل سے اٹھنے والی یہ خواہش ہو گی کہ کاش! وہ ان ظلم و ستم اور برائیوں اور دجالی فتنوں والے، مصائب و تکالیف اور پریشان کن حالات سے کسی طرح چھٹکارا حاصل کرلے۔ چاہے یہ کام موت کے ذریعے ہی کیوں نہ ممکن ہو۔
اس بات سے قطعی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایسا کب ممکن ہو گا، کیونکہ غیب کا علم اللہ کی ذات اقدس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ تاہم یہ بھی ضروری نہیں کہ قیامت کے نزدیک موت کی یہ خواہش ہر مسلم کے دل میں پائی جائے گی یا مختلف ملکوں یا کسی ایک ہی ملک کے حالات و واقعات کے مطابق ہوگی۔
بہرحال اس بات سے بھی قطعی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ لوگوں کی ایمانی کیفیت و حالات، تنگی اور مصائب پر صبر و تحمل و استقامت اور برائیوں کو برداشت کرنے کی طاقت ہر وقت اور ہر جگہ ایک جیسی نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی ایک پیمانے کی صورت میں ماپا جا سکتا ہے۔
اللہ رب العزت سے استدعا ہے کہ خاتمہ بالایمان ہو۔۔۔۔ آمین