یہ دنیا فانی ہے اور اس فانی دنیا کا خاتمہ یقینی ہے، لیکن اس کا خاتمہ کب، کس وقت ہو گا اللہ رب العزت کے سوا نہ تو کوئی جانتا ہے اور نہ ہی کوئی دعوی کر سکتا ہے۔ تاہم اللہ نے اپنے حبیب حضرت محمد ﷺ کے ذریعے اپنی امت تک قیامت کی نشانیاں ضرور پہنچائی ہیں۔

علماء دین کا کافی حد تک متفقہ فیصلہ ہے کہ 40 سے 50 فیصد تک یہ نشانیاں ظاہر ہو چکی ہیں اور باقی بھی تیزی سے واضح ہو رہی ہیں اور کچھ وقت مقررہ پر ظاہر ہو گی۔ کیونکہ نبوت والی زبان سے نکلی ہر ایک بات پر ایمان لانا اور عمل کرنا ہم پر فرض ہے۔

قیامت کی بہت ساری نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ "علم کا اٹھالیا جانا اور گمراہی و جہالت کے اندھیروں کا ہر طرف چھا جانا"۔

2020 میں کرونا وائرس کی نذر ہوا پوری دنیا کے ممالک تھوڑے یا زیادہ متاثر ہوئے اور ابھی تک وائرس موجود ہے۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ یہ کوئی سازش ہے یا کوئی عذاب کی صورت ہے لیکن افسوس سے ایک بات ضرور تحریر کر رہا ہوں، ایسی سنگین صورتحال میں جہاں ہمیں افسوس کرنا چاہیے وہاں ہم سکول، کالج، یونیورسٹیوں کے بند ہونے پر جشن مناتے نظر آئے، نہ ہمارے بچوں کو علم حاصل کرنے کا شوق باقی رہا اور نہ آج کے استادوں کو سکھانے کا۔

اس کی اور کیا مثال دوں کہ اپنے ہاتھوں سے ہم خود کو ختم کر رہے ہیں اور یاد رکھیے علم بھی خود بخود نہیں اٹھایا جائے گا بلکہ اس کو میں ایک حدیث سے بیان کر رہا ہوں۔

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: "بلاشبہ قیامت کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا (یعنی علماء حضرات ایک ایک کر کے اس دنیا فانی سے رخصت ہو جائیں گے یا یہ کہ علم سکھانے والوں کی عزت وتکریم ہی ختم ہوتی چلی جائے گی اور اس وقت دونوں ہی صورتیں ہمارے سامنے موجود ہیں) جہالت کی زیادتی ہوجائے گی (یعنی ہر طرف جاہل، کم عقل، بے وقوف و ناداں ہی نظر آنے لگیں گے جو بظاہر باتوں میں تو بہت مہارت رکھنے کے باوجود علم و دانش کا دعوی کریں گے مگر حقیقت میں علم کی روشنی اور اس کی خوشبو سے بہت دور ہونگے) زنا کثرت سے ہونے لگے گا (جب علم ہی نہیں ہوگا تو شرم و حیا نہیں ہوگی جب شرم و حیا ہی باقی نہیں رہے گی تو غیرت نام کی کوئی چیز باقی نہ ہو گی پھر جانوروں جیسی حالت ہو گی جیسے وہ چلتے پھرتے مادہ سے ملاپ کرتے ہیں) شراب بہت پی جائے گی (ابھی ہمارے معاشرے میں ڈھکی چھپی شراب پی جاتی ہے پھر ایک وقت آئے گا کہ شراب کا استعمال کثرت سے ہوگا جب علم نہیں ہو گا، زنا بڑھے گا، جب زنا بڑھے گا تو شراب خوری زیادہ ہو گی، جس سے معاشرے میں فتنہ و فساد جنم لیں گے) مردوں کی تعداد کم ہو جائے گی (جس گھر میں حاکم ہی نہ ہوگا اس گھر کی حالت کیا ہوسکتی ہے ہم میں سے ہر ایک یہ بات اچھی طرح سے جانتا ہے جس گھر میں عورت کا راج ہے اور جس میں مرد کا راج ہے فرق ہم سب کے سامنے ہے) عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی (عورتوں کی تعداد بڑھنے سے مراد اس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تدبر و تفکر، پریشانیاں، مال و دولت کا حصول یہ سب ایک بوجھ کی مانند ہو گا) یہاں تک کہ پچاس عورتوں کی خبر گیری کرنے والا ایک مرد ہوگا (جب یہ بات طے ہے کہ مردوں کی تعداد بہت کم ہوگی اور عورتوں کی تعداد کثیر ہو گی تو اس سے مراد یہ ہرگز نہیں کہ ایک مرد کی پچاس بیویاں ہوگی، بلکہ اس سے مراد ہے کہ ایک مرد پچاس عورتوں کی کفالت کرے گا یعنی پچاس عورتوں کی ضروریات کا خیال رکھے گا ان پچاس عورتوں میں بیٹیاں، بیویاں، چچیاں، ممانیاں، مائیں، خالائیں، دادیاں، بہنیں، پھوپھیاں، وغیرہ ہوں گی)"۔

جس دین میں علم کے حاصل کرنے پر اتنا زور دیا گیا ہو وہ دنیا کے کسی اور مذہب میں موجود نہیں ہے، "تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور قرآن سکھائے"۔ اسی طرح ایک حدیث ہے کہ "استاد بن جاؤ یا شاگرد بن جاؤ درمیانی راہ اختیار نہ کرو"۔ گویا آپ کے پاس تیسری کوئی اور راہ موجود نہیں ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو علم حاصل کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: "وَقُلْ رَّبِّ زِدٌنِیٌ عِلْماَ" "اور یہ دعا کرو: میرے پروردگار! میرا علم بڑھا"۔ چنانچہ آپ ﷺ علم سیکھتے بھی رہے اور لوگوں کو سکھاتے بھی رہے۔

نبی کریم ﷺ نے جہالت کی مذمت کی اور فرمایا: "اللہ تعالیٰ ہر ایک کڑے مزاج، سخت طبعیت، بہت پیٹو، بازاریں اور گلیوں میں شور شرابہ کرنے والے، رات کو مردار کی طرح محو خواب رہنے والے، دن میں گدھے کی طرح دنیا کے کاموں میں جتے رہے والے، امور دنیا سے واقفیت رکھنے والے مگر امور آخرت سے جاہل شخص کو ناپسند فرماتا ہے"۔

آپ ﷺ نے فرمایا: "قیامت سے پہلے کچھ ایسے ایام آئیں گے کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت چار سو پھیل جائے گی"۔

ایک اور جگہ آپ ﷺ نے فرمایا: "اسلام ایسے مٹ جائے گا جیسے کپڑے کے نقش و نگار مٹ جاتے ہیں حتیٰ کہ کوئی نہیں جانے گا کہ نماز، روزہ، عبادت اور صدقہ کیا چیز ہوتی ہے"۔

اس حدیث سے تو پتہ چلتا ہے کہ جس طرح ہماری نوجوان نسل تیزی سے ٹیکنالوجی کو اپنا رہی ہے اور دین کے کاموں سے دور بھاگ رہی ہے۔ صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ہے!

آج ہمارے معاشرے میں اور مسلم ممالک کے حالات پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ آج کا نوجوان پی ایچ ڈی کی ڈگری تو حاصل کر لیتا ہے اور ذریعہ معاش بھی کماتا ہے لیکن اگر اس سے صرف اتنا پوچھا جائے کہ جنابت کے مسائل کیا ہیں؟ نمازِ جنازہ آتا ہے تو بہت ہی کم لوگ ہونگے جو ہاں میں جواب دیں گے، ان کے دل و دماغ دنیاوی معلومات سے تو بھرے ہوئے ہیں مگر اصل معلومات سے بالکل خالی ہیں جہاں جہالت ڈیرے جمائے ہوئے ہے۔

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "تم پر ہر آئندہ سال پہلے سے برا آئے گا میری مراد یہ نہیں کہ پہلا سال دوسرے سال سے غلہ کی فراوانی میں اچھا ہوگا یا ایک امیر دوسرے امیر سے بہتر ہو گا، بلکہ میری مراد یہ ہے کہ تمہارے علماء صالحین اور فقیہ ایک ایک کرکے اٹھتے جائیں گے اور تم ان کا بدل نہیں پاؤ گے اور (قحط الرجال کے اس زمانہ میں) بعض ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دینی مسائل کو محض اپنی ذاتی قیاس آرائی سے حل کریں گے"۔

یحیی بن سعید بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: "دیکھو! تم ایسے زمانہ میں ہو جس میں فقیہ زیادہ ہیں اور قاری کم، اس زمانہ میں قرآن کے حروف سے زیادہ اس کی حدود کی نگہداشت کی جاتی ہے، مانگنے والے کم اور دینے والے زیادہ ہیں، خطبہ مختصر اور نماز لمبی ہوتی ہے، اس زمانہ میں لوگ اعمال کو خواہشات پر مقدم رکھتے ہیں۔ اور (قرب قیامت کے وقت) ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں فقیہ کم ہوں گے اور قاری زیادہ، قرآن کے حروف کی حفاظت کی جائے گی مگر اس کی حدود کو پامال کیا جائے گا، مانگنے والوں کی بھیڑ ہوگی لیکن دینے والے کم ہوں گے، تقریریں بڑی لمبی چوڑی کی جائیں گی لیکن نماز مختصر سی پڑھی جائے گی اور لوگ اعمال سے زیادہ اپنی خواہشات کو مقدم رکھیں گے"۔

(آج یہ مثالیں ہماری مساجد میں عام نظر آتی ہیں، معاشرے میں مانگنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جب کہ دینے والے ہاتھ پیچھے ہٹ گئے ہیں، آج ہر دوسرا بندہ قاری تو ہے مگر دین سیکھنے والے اور سکھانے والے بہت کم ہیں، قرآن کو خوبصورت غلافوں میں تو بند کر کے اوپر رکھا جاتا ہے مگر اس کو کھول کر پڑھنے کی توفیق بہت کم لوگوں کو ملتی ہے، خواہشات کا حصول پہلے باقی کام بعد میں)۔

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا: "لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ وہ مساجد میں اکٹھے ہوں گے اور باجماعت نمازیں پڑھیں گے، لیکن ان میں کوئی ایک بھی (صحیح) مؤمن نہیں ہوگا"۔

دوستو! آج انتہائی افسوس سے تحریر کرنا پڑرہا ہے کہ ہم دنیا کے علم کے حصول کی خاطر کیا کچھ نہیں کرتے یہاں تک کہ بیرون ممالک جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ مگر حقیقی علم جس کا حاصل کرنا ہم پر فرض کیا گیا اس سے بہت دور ہیں۔ وقت کا پہیہ بہت تیزی سے گھوم رہا ہے وہ کسی کے لیے نہیں رکتا اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ آج میرے حالات بہت اچھے ہیں میں کچھ بھی کر سکتا ہوں تو محض خود کو دھوکا دینے والی بات ہے۔

اپنی مصروفیت میں سے وقت نکالیں اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں اور قرآن کو تھوڑا تھوڑا سمجھ کر پڑھنا شروع کریں آج ہمارے پاس وقت ہے اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے کل نہیں ہوگا سوائے پچھتاوے کے۔

آؤ ہم سب دعا کریں کہ اللہ ہمارے گناہوں کو معاف کرے اور ہمارے تھوڑے سے اعمال پر راضی ہو جائے۔ آمین۔