قبلہ اول (بیت المقدس) کی فتح اور اس کی حقیقت

قبلہ اول

مسلمانوں کا قبلہ اول بیت المقدس ہے جبکہ یورپ کے لوگ اس کو یروشلم کے نام سے پکارتے آرہے ہیں جبکہ عربی زبان میں اس کا نام القدس (یعنی پاک) ہے۔ زیادہ تر مصنف اپنی کتب میں لفظ بیت المقدس ہی استعمال کرتے آرہے ہیں۔ اس سے مراد وہ مقدس (مبارک) گھر ہے جس کے ذریعے گناہوں سے انسان پاک ہو جاتا ہے۔

تاریخی پس منظر

روم کے عیسائیوں نے جب پہلی صدی عیسوی قبل مسیح میں یروشلم پر قبضہ کیا تو انہوں نے بیت المقدس کو "ایلیا" کا نام سے منسوب کیا چونکہ قبلہ اول پہاڑیوں پر آباد ہے۔ انہی پہاڑیوں میں سے ایک پہاڑی جس کا نام کوہ صہیون ہے اس پر مسجد اقصیٰ قائم ہے۔ یہودیوں کی تحریک صہیونیت بھی اسی پہاڑی سے منسوب ہے۔

تاریخی لحاظ سے حضرت ابراہیمؑ اور حضرت لوطؑ نے عراق سے قبلہ اول کی طرف ہجرت کی تھی۔ آپ ﷺ بھی مکہ سے یہاں پہنچے اور پھر یہیں سے سفر معراج کے لیے تشریف لے گئے۔ مسجد اقصیٰ کی بنیاد حضرت یعقوبؑ نے ڈالی اور پھر بعد میں حضرت سلیمانؑ کے حکم سے اس مسجد اور شہر کی تعمیر کی گئی۔ یہودی قبلہ اول (بیت المقدس) کو "ہیکل سلیمانی" کہہ کر پکارتے اور منسوب کرتے ہیں۔

جب آپ ﷺ اس دنیا میں تشریف لائے تو اس وقت قبلہ اول پر سلطنتِ روم پر عیسائیوں کا قبضہ تھا۔ سلطنتِ روم اس وقت بہت طاقتور اور با اختیار حکومت تھی۔ انھی حالات میں اللہ کے نبی حضرت محمد ﷺ نے مسلمانوں کے ہاتھوں بیت المقدس کے فتح ہونے کی خوشخبری سنائی۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں بغیر لڑائی کئے بیت المقدس فتح ہوا۔ جب خلیفہ وقت حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو یروشلم بھیجا تو وہاں کے عیسائیوں اور یہودیوں نے برملا کہا کہ ہماری مقدس کتابوں میں دی گئی ہدایات کے مطابق بیت المقدس کو فتح کرنے والے کا حلیہ آپ سے نہیں ملتا، آپ ہرگز اسے فتح نہیں کر سکتے۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی قبلہ اول پہنچتے ہی چابیاں آپ کے حوالہ کی گئیں کیونکہ آپ کا حلیہ مبارک عیسائیوں اور یہودیوں کی مقدس کتب میں دی گئی ہدایات کے عین مطابق تھا۔ آپ نے اس سر زمین پر ایک مسجد بنائی اور کفر سے قبلہ اول کو پاک فرمایا۔

اللہ کے نبی ﷺ کا یہ پیغام سچ ہو کر رہنا ہے جو انھوں نے فرمایا: "اور ایک بار پھر اللہ کے حکم سے یہ ایک مومن جماعت کے ہاتھوں (بیت المقدس) فتح ہوگا حتیٰ کہ درخت اور پتھر بھی بول کر کہیں گے: اے مسلمان! اے اللہ کے بندے! یہ ایک یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ آؤ اسے جلدی سے قتل کر ڈالو"۔

آپ کی اس تحریر کے بارے میں کیا رائے ہے؟

© 2024 bloglovers.pk | تمام حقوق محفوظ ہیں