تعارف

قارئین کرام! تاریخی کتب کے پیش نظر ترکوں کے لگ بھگ بائیس قبیلے تھے جو لوٹ مار کیا کرتے تھے اور ہر آنے جانے والے لوگوں، مسافروں کو تنگ کیا کرتے تھے۔ بادشاہ ذوالقرنین نے ان اکیس قبائل کے لیے تو لوہے کی ایک دیوار بنا دی تھی مگر ایک قبیلہ بچ گیا تھا جو ترک کہلائے۔ انہیں ترک اس لیے کہا گیا کہ انہیں دیوار کے باہر ترک کر (چھوڑ) دیا گیا اور دیگر قبائل کے ساتھ انہیں بند نہیں کیا گیا تھا۔

اسلامی تاریخ میں تاتاری منگولوں کا ذکر ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ یہ وہ قوم ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کے طور پر پیش گوئی فرمائی تھی۔ یہ مضمون انہی تاتاری منگولوں کے بارے میں ہے، جن کا صحابہ کرام سے معرکہ ہوا اور بعد میں انہوں نے اسلام قبول کیا۔

ترک قبائل کی تاریخ

یہ لوگ وسط ایشیا اور شمال مشرقی صحرائے گوبی کے باشندے تھے۔ منگولوں کو تاتا منگو قبیلے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ قبیلہ منگول کے نام سے مشہور ہوا۔ چنگیز خان بھی انہی قبائل میں سے تھا۔ آج کل ان کے ملک کو ترکستان کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کے اردگرد کے علاقے جن پر تاتاریوں نے قبضہ کر کے اپنا ڈیرہ جما لیا تھا وہ دراصل تاتاری کہلاتے تھے۔

آج کل روس اور سائبیریا میں یہ لوگ کثیر تعداد میں رہائش پذیر ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے مسلمانوں سے معرکے لڑے اور بعد میں مسلمان ہو گئے اور افغانستان، ایران اور روس کی سرحدوں کے اردگرد یہ لوگ کثیر تعداد میں آباد ہیں۔

تاریخی اعتبار سے ترک قبائل کی جڑیں وسط ایشیا میں ہیں۔ یہ خانہ بدوش قبیلے تھے جو اپنے مویشیوں کے ساتھ صحراؤں میں گھومتے رہتے تھے۔

چنگیز خان اور تاتاری

یہ لوگ خانہ بدوشی کی زندگی گزارتے ہوئے جانوروں کے ریوڑ صحراؤں میں چراتے تھے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے کھیتی باڑی بھی کی۔ سلطان شمس الدین التمش کے زمانے میں انہی تاتاریوں کی پشت پناہی پر چنگیز خان نے پورے ایشیا میں قتل و غارت اور لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ یہی وہ چنگیز خان تھا جس نے چین کے مشرقی ساحلوں سے لے کر وسط یورپ تک ایک طاقتور اور سب سے بڑی سلطنت قائم کی۔

چنگیز خان کی سلطنت تاریخ کی سب سے وسیع سلطنتوں میں سے ایک تھی۔ اس نے ایک منظم فوجی نظام قائم کیا اور اپنی جنگوں میں جدید حربے استعمال کیے۔ اس کی فتوحات نے پوری دنیا کے نقشے کو بدل کر رکھ دیا۔

چنگیز خان کی حکومت 1206 سے 1227 تک رہی۔ اس کے بعد اس کی سلطنت کو اس کے پوتوں میں تقسیم کر دیا گیا جنہوں نے اپنی اپنی سلطنتیں قائم کیں۔

فرمان نبوی ﷺ

قیامت کی ان بے شمار نشانیوں میں سے ایک نشانی ان تاتاری منگولوں سے معرکے کے بارے میں بیان کی گئی ہے، جس کی پیش گوئی اللہ کے نبی حضرت محمد ﷺ نے اپنی نبوت والی زبان سے کی۔ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی، جب تک تم چھوٹی آنکھوں والے، سرخ چہروں والے، چپٹی ناک والے ترکوں سے قتال نہ کر لو، ان کے چہرے گویا ایسی ڈھالیں ہوں گی جن پر چمڑا لگایا گیا ہوتا ہے۔ قیامت قائم نہ ہو گی جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہ کر لو جن کے جوتے بالوں والی جلد سے بنے ہوں گے۔"

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اس قوم کی جسمانی خصوصیات بیان فرمائی ہیں جو آج کے تاتاری منگولوں پر صادق آتی ہیں۔ چھوٹی آنکھیں، سرخ چہرے اور چپٹی ناک — یہ تمام خصوصیات منگول نسل کے لوگوں میں پائی جاتی ہیں۔

اس حدیث کی ایک اہم بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کی پہچان ان کے جوتوں سے بھی بیان فرمائی جو بالوں والی جلد سے بنے ہوں گے — یہ اس دور میں منگولوں کا خاص طرز تھا۔

صحابہ کرام کا معرکہ

قیامت کی یہ نشانی صحابہ کرام کے زمانے میں واقع ہو چکی ہے۔ خلافت بنو امیہ کے دور میں یہ جنگ تاتاری منگولوں اور صحابہ کرام کے درمیان زبردست طریقے سے ہوئی، جس کے عوض تاتاریوں کو بری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ صحابہ کرام نے ان کو شکست سے دوچار کیا، بلکہ ان سے ڈھیر سارا مال غنیمت بھی حاصل کیا۔

اس جنگ کے بعد اللہ کے حکم سے ان لوگوں نے اسلام قبول کیا اور یوں یہ امت اسلامیہ کا حصہ بن گئے۔ یہ واقعہ تاریخ اسلام کا ایک اہم باب ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئیاں کس طرح حقیقت میں ڈھلتی ہیں۔

صحابہ کرام کی فتح نے یہ ثابت کیا کہ اللہ اپنے دین کی مدد کرتا ہے اور اسلام ہمیشہ غالب رہتا ہے، چاہے مخالف کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔

ائمہ کرام کی آرا

اسلامی ائمہ کرام نے اس حدیث کی مختلف تشریحات کی ہیں۔ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "فتح الباری" میں اس حدیث کی شرح میں فرمایا کہ:

"اس حدیث میں ترکوں سے مراد وہ قوم ہے جو عجمی علاقے یعنی ترکستان سے آئے گی۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو بہت تکلیف دی اور بعد میں بعض نے اسلام قبول کیا۔"

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی تحریروں میں اس حدیث کو قیامت کی نشانیوں میں شمار کیا اور فرمایا کہ:

"ان تاتاریوں کا مسلمانوں سے لڑنا ایک اہم نشانی ہے جو قیامت سے پہلے ظہور پذیر ہوئی۔ ان کا اصل وطن وسط ایشیا تھا اور یہ لوگ بہت ظالم تھے۔"

علامہ نوی رحمہ اللہ نے اپنی شرح مسلم میں اس حدیث کی تشریح میں فرمایا کہ:

"ترکوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو ہجرت کرکے مسلمانوں کی سرزمین پر حملہ کریں گے۔ یہ لوگ اپنی بہادری اور جنگجوئی کے لیے مشہور ہیں۔"

ائمہ کرام کے ان اقوال سے واضح ہوتا ہے کہ تاتاری منگولوں کا ذکر حدیث میں ایک خاص قوم کے لیے ہے جن کی خصوصیات اور زمانہ رسول اللہ ﷺ نے متعین فرمایا تھا۔

دیگر تفاسیر کی روشنی میں

مفسرین کرام نے بھی اس حدیث کو مختلف زاویوں سے دیکھا ہے۔ علامہ قرطبی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں اس حدیث کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ:

"یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ قیامت سے پہلے مسلمانوں کو کافروں سے جنگیں لڑنی ہوں گی اور ان میں سے ایک جنگ تاتاریوں کے ساتھ ہوگی۔"

علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر "البدایہ والنہایہ" میں اس واقعہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے اور فرمایا کہ:

"یہ جنگ خلافت بنو امیہ کے دور میں ہوئی اور اس میں صحابہ کرام نے تاتاریوں کو شکست دی۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی ایک عظیم پیشین گوئی تھی جو پوری ہوئی۔"

علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے بھی اپنی تفسیر "فتح القدیر" میں اس حدیث کی تشریح کی ہے اور فرمایا کہ:

"اس حدیث میں ترکوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو چنگیز خان کی نسل سے ہیں۔ یہ لوگ اپنی وحشیانہ فتوحات کے لیے مشہور ہیں۔"

ان تمام تفاسیر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تاتاری منگولوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئی ایک تاریخی حقیقت ہے جو صحابہ کرام کے زمانے میں وقوع پذیر ہوئی۔

دورِ حاضر میں یہ قوم کہاں موجود ہے؟

آج کل تاتاری منگولوں کی اولاد مختلف ممالک میں پھیلی ہوئی ہے۔ ان کی بڑی تعداد منگولیا، چین، روس، قازقستان، ازبکستان اور دیگر وسط ایشیائی ممالک میں موجود ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ اب بھی اپنی قدیم روایات اور رسم و رواج کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

منگولیا کی موجودہ آبادی تقریباً 30 لاکھ ہے اور وہاں کے لوگ اب بھی اپنی خانہ بدوش روایات کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی معیشت کا بڑا حصہ مویشی پالنے اور کھیتی باڑی پر منحصر ہے۔

روس کے اندر بھی تاتاریوں کی ایک بڑی آبادی موجود ہے، خاص طور پر تاتارستان اور باشکورتوستان میں۔ یہ لوگ اپنی الگ ثقافت اور زبان رکھتے ہیں۔

چین کے اندر بھی منگولوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے، خاص طور پر اندرونی منگولیا کے خود مختار علاقے میں۔ وہاں کے منگول اب بھی اپنی روایتی زندگی گزار رہے ہیں۔

ان ممالک میں رہنے والے تاتاری منگول اب زیادہ تر مسلمان ہیں، حالانکہ کچھ بدھ مذہب اور شامیان ازم (قدیم منگول مذہب) پر بھی عمل پیرا ہیں۔

کیا یہ لوگ آج بھی موجود ہیں؟

جی ہاں! احادیث میں جن تاتاری منگولوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ آج بھی موجود ہیں۔ اگرچہ ان کی شناخت اور پہچان بدل گئی ہے، لیکن یہ لوگ اب بھی اپنی جسمانی خصوصیات — چھوٹی آنکھیں، سرخ چہرے، چپٹی ناک — کے ساتھ موجود ہیں۔

تاہم، ایک اہم بات یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور اب وہ مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق ان سے لڑائی تو ہوئی، لیکن بعد میں وہ مسلمان ہو گئے۔

آج کل ان میں سے بیشتر مسلمان ہیں اور وہ اپنی اسلامی شناخت پر فخر کرتے ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ اپنے دین کو ہر زمانے میں پھیلاتا ہے۔

موجودہ دور میں تاتاری منگولوں کی بڑی تعداد وسط ایشیا، روس اور چین میں آباد ہے۔ وہ اپنی ثقافت اور روایات کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے بچے اب جدید تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور وہ دنیا کے جدید رجحانات کا حصہ ہیں۔

یہ بات قابل غور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جن لوگوں کے بارے میں 1400 سال پہلے پیشین گوئی فرمائی تھی، وہ آج بھی موجود ہیں اور ان کی شناخت بالکل ویسی ہی ہے جیسی حدیث میں بیان کی گئی۔

اختتامیہ

اللہ تعالی ہمیں اپنے نبی ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے اور قیامت کی نشانیوں سے عبرت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ تاتاری منگولوں کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ہر پیشین گوئی سچ ہے اور قیامت کے قریب آنے کی علامات میں سے ایک علامت یہ بھی ہے۔

اس مضمون میں ہم نے دیکھا کہ تاتاری منگولوں کا صحابہ کرام سے لڑنا ایک تاریخی حقیقت ہے جس کی پیشین گوئی رسول اللہ ﷺ نے فرمائی تھی۔ ائمہ کرام اور مفسرین نے اس واقعہ کی تصدیق کی ہے اور دورِ حاضر میں بھی یہ قوم موجود ہے۔

اللہ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے اور ہمیں اپنے نبی ﷺ کے فرمان پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین ثم آمین۔
اس پوسٹ پر اپنا ردعمل دیں
Uzair Hameed
Uzair Hameed
بلاگ لوورز کا بانی اور ایک پرجوش اسلامی مواد نگار۔ دینی تعلیمات کو آسان اور جدید انداز میں پیش کرنا میرا مشن ہے۔