🔙 واپس جائیں

تاتاری منگولوں کا صحابہ کرام سے لڑنا

Tatari Mongol

قارئین کرام! تاریخی کتب کے پیش نظر ترکوں کے لگ بھگ بائیس قبیلے تھے جو لوٹ مار کیا کرتے تھے اور ہر آنے جانے والے لوگوں، مسافروں کو تنگ کیا کرتے تھے۔ بادشاہ ذوالقرنین نے ان اکیس قبائل کے لیے تو لوہے کی ایک دیوار بنا دی تھی مگر ایک قبیلہ بچ گیا تھا جو ترک کہلائے۔ انہیں ترک اس لیے کہا گیا کہ انہیں دیوار کے باہر ترک کر (چھوڑ) دیا گیا اور دیگر قبائل کے ساتھ انہیں بند نہیں کیا گیا تھا۔

یہ لوگ وسط ایشیا اور شمال مشرقی صحرائے گوبی کے باشندے تھے۔ منگولوں کو تاتا منگو قبیلے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ قبیلہ منگول کے نام سے مشہور ہوا۔ چنگیز خان بھی انہی قبائل میں سے تھا۔ آج کل ان کے ملک کو ترکستان کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کے اردگرد کے علاقے جن پر تاتاریوں نے قبضہ کر کے اپنا ڈیرہ جما لیا تھا وہ دراصل تاتاری کہلاتے تھے۔ آج کل روس اور سائبیریا میں یہ لوگ کثیر تعداد میں رہائش پذیر ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے مسلمانوں سے معرکے لڑے اور بعد میں مسلمان ہو گئے اور افغانستان، ایران اور روس کی سرحدوں کے اردگرد یہ لوگ کثیر تعداد میں آباد ہیں۔

یہ لوگ خانہ بدوشی کی زندگی گزارتے ہوئے جانوروں کے ریوڑ صحراؤں میں چراتے تھے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے کھیتی باڑی بھی کی۔ سلطان شمس الدین التمش کے زمانے میں انہی تاتاریوں کی پشت پناہی پر چنگیز خان نے پورے ایشیا میں قتل و غارت اور لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ یہی وہ چنگیز خان تھا جس نے چین کے مشرقی ساحلوں سے لے کر وسط یورپ تک ایک طاقتور اور سب سے بڑی سلطنت قائم کی۔

قیامت کی ان بے شمار نشانیوں میں سے ایک نشانی ان تاتاری منگولوں سے معرکے کے بارے میں بیان کی گئی ہے، جس کی پیش گوئی اللہ کے نبی حضرت محمد ﷺ نے اپنی نبوت والی زبان سے کی۔ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی، جب تک تم چھوٹی آنکھوں والے، سرخ چہروں والے، چپٹی ناک والے ترکوں سے قتال نہ کر لو، ان کے چہرے گویا ایسی ڈھالیں ہوں گی جن پر چمڑا لگایا گیا ہوتا ہے۔ قیامت قائم نہ ہو گی جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہ کر لو جن کے جوتے بالوں والی جلد سے بنے ہوں گے۔"

قیامت کی یہ نشانی صحابہ کرام کے زمانے میں واقع ہو چکی ہے۔ خلافت بنو امیہ کے دور میں یہ جنگ تاتاری منگولوں اور صحابہ کرام کے درمیان زبردست طریقے سے ہوئی، جس کے عوض تاتاریوں کو بری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ صحابہ کرام نے ناصر ف ان کو شکست سے دوچار کیا، بلکہ ان سے ڈھیر سارا مال غنیمت بھی حاصل کیا۔ بعد میں اللہ کے حکم سے ان لوگوں نے اسلام قبول کیا اور یوں یہ امت اسلامیہ کا حصہ بن گئے۔