قرب قیامت لوگ جاہل لوگوں سے علم حاصل کرنے پر مجبور کیوں ہو جائیں گے؟

قیامت کی نشانیاں

قارئین کرام! ہمارے ملک کا تعلیمی نظام ہم سب کے سامنے ایک کھلی کتاب کی مانند ہے۔ ہم سب اپنی آنکھوں سے دیکھتے آ رہے ہیں کہ کیسے وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے نصاب میں ردوبدل کیا جا رہا ہے اور بڑی چالاکی سے اسلامی تعلیمات کے حصے کو کم کر کے آہستہ آہستہ نہ ہونے کے برابر کر دیا ہے۔ آج کی موجودہ نسل نماز، قرآن، روزے کی اہمیت اور زکوٰۃ کے تقاضے پورے کرنے تو درکنار ان کے پاس سے بھی نہیں گزرے۔ سچ کہا کسی نے کہ اگر کسی معاشرے میں تباہی لانی ہو تو اس معاشرے کے تعلیمی نظام میں بگاڑ پیدا کر دو آنے والی نسلیں ہی تباہ و برباد ہو جائیں گی۔

ٹیکنالوجی نے ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ کر رکھ دیا کہ تعلیمی نظام یکسر بدل کر رکھ دیا۔ دنیا ایک کلک پر پہنچا دی۔ آج کا بچہ کلاس روم میں بیٹھ کر دنیا کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہا ہے لیکن کائنات میں اپنے ہونے کا مقصد بھول بیٹھا ہے۔ جو کچھ اسے کلاس روم میں دیا جا رہا ہے اس نے تو یہ نہیں مانگا ہے پھر کیوں اسے دیا جا رہا ہے؟ آج کا بچہ نہ تو ٹھیک طرح سے پڑھ پا رہا ہے اور نہ لکھ پا رہا ہے، نہ اسے یہ پتہ ہے کہ کیوں پڑھ رہا ہے؟ اور نہ اسے یہ پتہ ہے کہ لکھنا کیا ہے؟ کیوں ٹیکنالوجی نے یہ کام اور بھی آسان کر دیا ہے تاکہ بچے جو تھوڑی سی محنت کرتے ہیں وہ بھی نہ کریں۔۔ آج بولو ایس ایم ایس کی سہولت موجود ہے، آپ بولتے جائیں وہاں ٹائپ ہوتا چلا جاتا ہے تو آج کے بچے کو لکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ آخر معاشرے میں کوئی تو بگاڑ کی وجہ بھی ہونی چاہیے۔

آج کا طالب علم یونیورسٹی سے جیسے ہی ڈگری لے کر باہر آتا ہے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسے معاشرے کی اونچ نیچ کا اندازہ ہی اس وقت ہوتا ہے جب وہ عملی زندگی میں قدم رکھنا شروع ہوتا ہے، پتہ چلتا ہے کہ جو آج تک پڑھا تھا وہ کچھ اور تھا ضرورت تو کچھ اور ہے، ملک میں بے روزگاری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یونیورسٹیاں صرف ایک ڈپلومہ ملز کا کام کر رہی ہیں جہاں بچوں کو مہارتیں سکھانے کی بجائے بھاری رقوم بٹور کر ایک کاغذ کا ٹکڑا تھما دیا جاتا ہے۔

ہمارے ملک کے تعلیمی نظام میں بھی کچھ ایسی ہی گڑبڑ ہے۔ ہمارے ملک کا ایک بڑا طبقہ جو اشرافیہ کہلاتا ہے اس کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے بچوں کو مغربی علوم پڑھانے کے عادی ہوتے ہیں۔ دوسرا بڑا طبقہ متوسط طبقہ ہے جو کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں اور یہی وہ طبقہ ہے جس میں سے قلیل تعداد میں دین پر عمل پیرا ہوتے ہیں یعنی ان لوگوں میں خدا خوفی موجود ہوتی ہے۔ تیسرا بڑا طبقہ لیبر طبقہ ہے جو غربت اور مفلسی کی لکیر سے بھی نیچے ہوتے ہیں اور ہمارے ملک میں اس کی شرح بہت زیادہ ہے، یہ لوگ بچوں کو بہت کم سکول بھیجتے ہیں اس وجہ اس طبقہ کا بھی دین سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

ہمارے معاشرے میں کم علمی اور کم عقلی کی وجہ سے لوگ نجومیوں کے پاس جاتے ہیں، تعویذ گنڈوں، عرس، میلہ، قبر پرستی، قبر مجاور بن کر بیٹھنا اور چلہ کاٹنا، وغیرہ جیسے لوگ جو گمراہی کا سبب بنتے ہیں یہی وہ معاشرے کا بدنما داغ ہوتے ہیں جو صراط مستقیم سے ہٹا کر شیطان کے بتائے ہوئے راستے پر نا صرف خود چلتے ہیں بلکہ لوگوں کا ہجوم بھی اندھی تقلید کرتے ہوئے چلتے چلے جاتے ہیں۔

ارشاد نبوی ﷺ "لوگ اس وقت تک خیریت سے رہیں گے، جب تک ان کے پاس علم صحابہ کرام اور کبار علماء کے ذریعے آتا رہے گا، لیکن جب علم چھوٹے لوگوں کے ذریعے آنا شروع ہو گا تو وہ تباہ و برباد ہو جائیں گے"۔

آپ ﷺ کی بتائی ہوئی بہت ساری نشانیوں میں سے یہ نشانی بھی دور حاضر میں ہم اپنی آنکھوں سے پورا ہوتا دیکھ رہے ہیں وقت کے ساتھ ساتھ یہ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے لوگوں کے پاس وقت کی قلت اور دنیا کمانے کے چکر میں دیے گئے نجومیوں کے نمبرز پر رابطہ کر کے اپنی قسمت کا حال پوچھتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔

آپ ﷺ کے زمانے سے لوگ ہمیشہ بڑی دور دراز کا سفر کر کے بڑے بڑے علماء اور فقہاء سے علم حاصل کرنے آتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ لوگو! ایک وقت ایسا آئے گا کہ جب کم فہم، کم علم اور چھوٹے لوگ اس منصب پر قابض ہو جائیں گے۔ لوگ انھی سے فتویٰ طلب کریں گے اور وہ فتوے جاری کریں گے۔ قیامت کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ قاری (صرف قرآن کی تلاوت کرنے والے) زیادہ ہو جائیں گے اور علماء (دین سکھلانے والے) کی قلت ہو جائے گی یہاں تک کہ چھوٹے اور جاہل لوگوں سے علم حاصل کیا جائے گا، کم علمی کی وجہ سے وہ فتوے دیں گے۔ کم علمی کی وجہ سے خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اصاغر (اہل بدعت) سے علم حاصل کیا جائے گا"۔

امام عبداللہ بن مبارک سے پوچھا گیا: یہ اصاغر کون ہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا: یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی رائے سے فتوے دیتے ہیں، یعنی وہ اپنے علم کو مضبوط نہیں کرتے نہ اپنے فتوں کی تحقیق کرتے ہیں اور نہ شرعی دلائل سے استدلال کرتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اصاغر سے مراد اہلِ بدعت ہیں۔

آج ذرائع ابلاغ نے چند ایسے چھوٹے دین کے طالب علموں کو زیادہ مشہور کر رکھا ہے جو اسلام کی بہت تھوڑی معلومات رکھتے ہیں اور صرف زیادہ استعمال میں ہونے والے مسائل کے بارے میں ہی آگاہی رکھتے ہیں۔ وہ علم کے حافظ یا فقہاء نہیں ہیں۔ مگر میڈیا کے توسط سے مشہور ہو گئے ہیں اور لوگ انھی کو کالز کر کے اپنے مسائل دریافت کرتے ہیں اور انھی سے فتوی طلب کرتے ہیں اور عملی زندگی اسی کے مطابق گزارنے کی کوشش کرتے ہیں حقیقتاً نہ تو وہ خود ریسرچ کرتے ہیں کہ جو بتایا گیا ہے وہ کتنا درست ہے کیا آپ ﷺ کی زندگی سے ثابت ہے بھی کہ نہیں اور نہ ہی وہ ریسرچ کرتے ہیں جو ان کو فتویٰ دیتے ہیں بس جیسے دوسروں سے سنا تھا وہی آگے چپکا دیا۔

اگر ان کی جگہ کبار علماء ذرائع ابلاغ، سیٹلائٹ چینلز، ریڈیو کی نشریات اور انٹرنیٹ پر آتے تو لوگ ان جید علماء کو پہچانتے، انھیں سے فتویٰ طلب کرتے اور ان کی طرف متوجہ ہوتے تو بات کچھ اور ہوتی۔ اس بات کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ جس طرح عمر کا زیادہ ہونا کسی شخص کے عالم ہونے کی علامت نہیں اسی طرح محض عمر چھوٹی ہونے کے باعث بھی کسی کو جاہل نہیں کہا جا سکتا، علی بن مدینی ؒ فرماتے ہیں: "علم بڑی عمر کا نام نہیں ہے"۔ ایک روایت کے مطابق "علم کا تعلق چھوٹی یا بڑی عمر سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جہاں چاہتا ہے وہیں علم رکھ دیتا ہے"۔

اللہ رب العزت سے استدعا ہے کہ علماء دین کا سایہ ہم سب پر سلامت رکھے اور دین سکھانے کا صحیح حق ادا کریں تاکہ معاشرے میں بدعت سے بچا جا سکے اور ہمیں بھی توفیق عطا کرے کہ ہم بھی آپ ﷺ کے بتلائے ہوئے راستے کو چنیں اور اپنی زندگیاں اسی طرح گزاریں جیسے ہمیں کہا گیا ہے۔ جس سے ہمارا رب راضی ہو جائے۔۔۔آمین