دوستو! عربوں کی ہلاکت کے بارے میں کئی آرٹیکل آپ کی نظر کر چکا ہوں۔ کہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اہل عرب میں فتنے ظاہر ہوں گے، کہیں فرمایا اونچی عمارات بنائیں گے، کہیں چراگاہوں کا ذکر ملتا ہے تو کہیں جنگ و جدل کا، غرض یہ کہ قیامت ہمارے اپنے اعمالوں کا نتیجہ ہوگا۔ یہود و نصاریٰ مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ اور ان کا ساتھ دینے کے لیے ہمارے نام نہاد لبرل، سیکولر اور مغرب پسند سوجھ بوجھ کے مالک بڑے ذوق و شوق سے گلہ کاٹنے کا عملی جامہ پہنانے میں سرگرم ہیں۔ یہ لوگ چند ڈالروں کے عوض مسلمانوں کو گمنامی اور احساس کمتری کے اندھیرے کنویں میں دھکیلتے جا رہے ہیں۔ اور ہمارے کمزور ایمان، اور عیش و عشرت کی پیداوار نسل یہ ثواب سمجھ کر کرنے میں مصروف عمل ہے۔

آج جو کچھ فلسطین کی سرزمین پر ہو رہا ہے اس کے پیچھے کیا سازش ہے جو ہم نہیں سمجھ پا رہے کیونکہ پاکستان سمیت دنیا کے تمام مسلم ممالک خاموش ہیں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ان کا ملک کا مسئلہ ہے ہمارا نہیں۔ اگر ہم کچھ کریں گے تو ہمارے مغربی آقا ناراض ہو جائیں گے۔ ہمارے کاروبار کا کیا ہوگا، ہمارے نزدیک اہل مغرب زیادہ مقدم ہیں بہ نسبت احکامات خداوندی کے (نعوذ باللہ) کیونکہ جس دن اہل یہود نے بطور ایک قومیہ فیصلہ کیا تھا کہ تم دنیا کے کسی بھی کونے میں آباد کیوں نہ ہو جاؤ یاد رکھو ہم سب ایک خدا، ایک شریعت اور ایک مقدس تورات کی بنیاد پر ایک مٹھی کے مانند ہیں۔ اور اس بات پر ڈٹ جاؤ اور مکمل ایمان رکھو کہ ایک دن تم میں سے ہر ایک نے ارض مقدس لوٹ کر واپس آنا ہے۔ وہی جگہ جہاں ان کا مسیح دجال آئے گا اور وہ اس کرہ ارض پر ایسی حکومت قائم کرے گا جیسی حضرت سلیمان اور داؤد ؑ کی ہوا کرتی تھی۔ اسی عزم اور یقین کامل کے ساتھ وہ مسلسل تیاری کرتے چلے جا رہے ہیں اور وہی یہ جانتے ہیں کہ مسلمان ہم سے ایک بڑی جنگ لیڈیں گے لہذا ان کو عیش و عشرت کی زندگی میں دھکیل دو تاکہ یہ ہمت کھو لیڈنے سے پہلے سو بار سوچیں۔

یہودیوں کا یہ حلف نامہ اس قوم کے اندر اس قدر سرایت کر چکا ہے کہ ان کا ادنیٰ سا بندہ بھی مسلمانوں پر اتنا بھاری دکھائی دیتا ہے۔ اور مسلمان اس قدر کمزور اور بھٹکا ہوا گمراہی کا شکار دکھائی دے رہا ہے۔ امت مسلمہ کی خاموشی اس کی بہادری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تبھی تو دوست کے بھیس میں دشمن ہم پہچان نہیں رہے۔ اس لیے ہر قسم کی غلاظت، بدتہذیبی، قتل و غارت، چوری ڈکیتی، زناکاری، عدل و انصاف، حق تلفی، شر اور فسادات، بت پرستی، تعویزات، اکابر پرستی، دکھلاوا، ہمارے ہیں ممالک میں پائی جا رہی ہے۔ ہمارا چھپا دشمن مسلسل چال پر چال چلتا دکھائی دے رہا ہے۔ کبھی قادیانیوں کا جھوٹا نبی ظاہر ہو جاتا ہے، کبھی نام نہاد سکالر ٹی وی پر آ کر مذہبی تبلیغ کر کے گمراہ کرتا ہے، کبھی پیروں اور فقیروں کے بھیس بدل لیتا ہے، کبھی بھوک کے عوز عذروں کو پامال کرنے میں مشغول دکھائی دیتا ہے، کبھی سیاسی سرگرمیوں میں دکھائی دیتا ہے، کبھی پراجیکٹس کی صورت میں یہ مصروفِ عمل دکھائی دیتے ہیں، غرض یہ کہ اپنے مشن کو سرانجام دینے کے لیے یہ ہمارے گھروں کے اندر گھس چکے ہیں اور ہم کچھ بھی نہیں کرتے ہیں۔

دشمن تو پچھلے کئی سو سالوں سے اپنی عالمی جنگ لڑنے کے لیے مسلسل تیاری کر رہا ہے یہاں تک کہ وہ اس جگہ پہنچ چکا ہے جہاں اس نے اپنا اور تیز کر دیا ہے۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمانوں کی کمزوری کیا ہے لہذا اس نے سعودیہ عربیہ میں سینما گھر، شراب اور شباب کی محفلوں کا اہتمام، جو ایک خانہ جو کبھی اہل مغرب ہی کرتے تھے آج انہوں نے اپنے گلاسے اتار کر ڈھول مسلمانوں کے گلے میں پہنا دیا ہے۔ اور اپنے مشن کو مزید تقویت بخش رہے ہیں۔ کیونکہ انہیں ایک ایسی سلطنت قائم کرنی ہے جو دریائے فرات کے ساحلوں تک اس طرح پھیلی ہو گی جس میں شام، قطر، اردن، بحرین، کویت، یمن اور مدینہ منورہ تک کی حدود ہو گی۔ اور اسے مشن کو پورا کرنے کے لیے ایک سٹی بن چکا ہے جس کا نام Neom ہے۔

یہودی پوری طرح سے تیار ہیں اور جانتے ہیں کہ کب اور کس وقت حملہ آور ہونا ہے۔ دنیا کے ہر کونے سے یہودی اپنی کمائی کا زیادہ تر حصہ اسرائیل کو دیتا ہے اور اسرائیل ان سے اسلحہ کا کاروبار کرتا ہے۔ پہلے عراق، شام اور دیگر ممالک کو ہی اپنے پنجے گاڑ چکا ہے۔ جہاں جہاں وہ جا رہا ہے ان ممالک میں امن بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ مشرق وسطیٰ میں امن نام کا کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ ہم سمجھ ہی نہیں پا رہے کہ ان سے دوستی ہے بھانی ہے یا دشمنی بھانی ہے۔ وہ ہمارے ملک میں بیٹھ کر دہشت گردی کرتا ہے اور سرعام لوگوں کو مار کر چلا جاتا ہے اور ہم دوستی کے چکر میں خاموشی اختیار کرنے کو بہتر سمجھتے ہیں۔ کیونکہ ہمیں یہ بھول چکے ہیں کہ بربادی اور موت ہمارے سروں پر ناچ رہی ہے۔ یاد رہے دجال اسی صورت نمودار ہوگا جب منبر پر اس کا ذکر نہیں کیا جائے گا۔ یعنی لوگ پوری طرح سے فراموش کر چکے ہوں گے۔

ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا: "بیت المقدس کی آبادی دراصل مدینہ کی بربادی ہوگی، مدینہ کی بربادی ہوئی تو عظیم معرکہ شروع ہو جائے گا، وہ معرکہ شروع ہوا تو قسطنطنیہ فتح ہو جائے گا اور جب قسطنطنیہ فتح ہوگیا تو پھر جلد ہی دجال ظاہر ہو جائے گا۔" یہ کہہ کر معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اس کی شخص کی ران یا کندھے پر مارا جسے حدیث بیان کر رہے تھے اور فرمایا: "یہ بات اسی طرح برحق ہے، جیسے تمھاری یہاں موجودگی یقینی ہے۔"

یثرب مدینہ منورہ کا پرانا نام ہے۔ مدینہ کی بربادی سے مراد اس کا اپنے باشندوں اور زائرین سے خالی ہو جانا ہے۔ جیسے کہ ایک روایت میں ہے کہ "عظیم جنگ، فتح قسطنطنیہ اور خروج دجال، یہ سب کچھ سات مہینے میں ہو جائے گا۔"

اللہ کے نبی حضرت محمد ﷺ نے جو واقعات کا ذکر فرمایا وہ کچھ ترتیب سے رونما ہوں گے جیسا کہ پہلے بیت المقدس کی آبادی اور عمارتوں کی کثرت سے اس کی وسعت اور لوگوں کا اس شہر میں کثرت سے آباد ہونا، پھر اس کے بعد مدینہ منورہ کا برباد ہونا، یعنی لوگوں کا مدینہ میں رہائش اختیار کرنے سے گریز کرنا اور مدینہ میں جدید تعمیرات کا سلسلہ رک جانا، یہ تمام چیزیں آج مدینہ میں ظاہر ہو چکی ہیں۔ لوگ بتدریج وہاں کم ہو رہے ہیں اور آبادی میں اضافے کا سلسلہ رک چکا ہے۔ مدینہ کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد آہستہ آہستہ وہاں سے دوسرے شہروں کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔

ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے کچھ یوں ارشاد فرمایا: "مدینہ منورہ کو عمدہ حالت میں چھوڑ دیا جائے گا حتیٰ کہ نوبت یہ ہو جائے گی کہ ایک کتا یا بھیڑیا مسجد میں داخل ہوگا اور کسی ستون یا منبر پر پیشاب کرے گا۔ صحابہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! یہ فرمائیے کہ اس زمانے میں مدینے کے پھل کس کے کام آئیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: پرندے اور درندے ان پھلوں کو کھائیں گے۔"

بیت المقدس کی آبادی کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آخری زمانے میں خلافت وہاں منتقل ہو جائے گی۔ جیسا کہ ایک حدیث میں صحابہ سے روایت ہے کہ "آپ ﷺ نے ہمیں روزانہ فرمایا تاکہ ہم وہاں مال غنیمت حاصل کر سکیں لیکن ہم وہاں سے کوئی مال حاصل کیے بغیر ہی لوٹ آئے البتہ تھکاوٹ اور مشقت ہمارے چہروں سے عیاں تھی۔ آپ ﷺ ہماری حالت زار دیکھ کر ہمارے درمیان کھڑے ہو گئے اور یہ دعا فرمائی:

اے اللہ! انھیں میرے حوالے نہ فرمانا کہ میں ان کی کفالت نہ کر سکوں اور نہ ہی انھیں ان کے نفسوں کے سپرد فرمانا کہ یہ عاجز ہو جائیں اور نہ انھیں لوگوں کے حوالے کرنا کہ وہ دوسروں کو ان پر ترجیح دیں، پھر آپ ﷺ نے میرے سر پر اپنا دست مبارک رکھا۔ یا انھوں نے یہ کہا کہ میری کھوپڑی پر اپنا ہاتھ رکھا۔ اور فرمایا: اے ابن حوالہ! جب تم یہ دیکھو کہ خلافت ارض مقدس میں منتقل ہو جائے تو اس وقت زلزلے، پریشانیاں اور بڑی مصیبتیں قریب آ جائیں گی۔ اس دن قیامت اس سے بھی زیادہ نزدیک ہو گی جتنا یہ میرا ہاتھ تمھارے سر سے قریب ہے۔"