قرب قیامت عرب میں ایک صالح شخص ظاہر ہوگا جس کی لوگ اطاعت کریں گے
دوستو! امت مسلمہ کے حالات تو ہم سب کے سامنے ہیں۔ جس قدر ذلت و رسوائی کے سامنے یہ قوم کر رہی ہے دنیا کی کوئی قیمت نہیں کر رہی۔ آپ کو شاید تاریخ کی وہ بات یاد ہو جس میں سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے ایک یہودی سربراہ کو لایا گیا اور اس نے ایک ایسی بات کہی جو آج ہم اپنی کھلی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ اسی یہودی سربراہ نے سلطان کے سامنے یہ کہا تھا کہ ہم آپ کی عورتوں کو اس لائق ہیں نہیں چھوڑیں گے کہ کل کوئی سلطان صلاح الدین ایوبی پیدا کر سکیں۔
یہودی کی اس بات کو سامنے رکھ کر ذرا اپنے معاشرے کا جائزہ لیں، ہماری یونیورسٹیوں، کالجز، سکولز کا ماحول، تعلیم کے نام پر ناچنے والی ہماری بہنیں، بیٹیاں، سوشل میڈیا پر بے حیائی اور فحاشی کا عروج پر ہونا، بددیانتی، بدعنوانی کا بول بالا ہونا کیا یہ وہی مسلمان ہیں جس کے بارے میں اقبال نے کہا تھا:
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تم دین میں ہنود
یہ مسلمان ہیں! جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود
تعلیمات یہ کہتی ہیں کہ قیامت کا دن نفسانفسی کا عالم ہوگا، کوئی بھی شخص کسی کا خیر خواہ نہیں ہوگا۔ یہ حال ہم نے فلسطین اور کشمیر میں ہوتے ہوئے دیکھا اور ابھی تک دیکھ رہے ہیں لوگ مدد کے لیے پکارتے رہے اور ہم بے حس ہو کر خاموشی اختیار کیے رہے، وہ پانی کے لیے بلکتے رہے اور ہم اچھے مہمان نوازوں کی طرح ان کو زمزم پیش کرتے رہے۔ وہ ہمارے گھروں تک پہنچ کر عزتیں تارتار کرتے رہے اور ہم آنکھوں پر پٹی باندھ کر لاعلمی کا ڈھونگ کرتے رہے۔
حال ہی میں دبئی میں آنے والی بارشوں سے اہل عرب کے لیے ایک خصوصی پیغام بھی تھا کہ اگر اللہ کی بنائی ہوئی حدوں کو پامال کرو گے تو تمھارے ساتھ کیا ہوگا۔ یہ تو غلبہ وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوگا میں حیران ہوں کہ جگہ جگہ فرمایا گیا کہ اہل عرب کے لیے ہلاکت ہے، عربوں کے لیے ہلاکت ہے اس کے باوجود وہ لوگ وہ کام کرنے پر بضد ہو رہے ہیں کہ جن سے اللہ رب العزت کی شدید ترین ناراضگی ہوگی۔ یا تو یہ سب کچھ جان کر انجان بن رہے ہیں یا پھر یہ لوگ سچ جاننا ہی نہیں چاہتے، یا یہ لوگ بھی پچھلی امتوں کی طرح ہر بات کو قصے اور کہانیاں شمار کرنے لگے ہیں۔
آپ ﷺ نے اہل عرب کی ہلاکت کے لیے کئی نشانیاں بتائی جیسے کہ:
ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا: "جس قوم میں اللہ کی نافرمانی کے کام ہوں اور وہ انہیں روکنے پر قادر ہوں مگر منع نہ کرتے ہوں تو قریب ہوتا ہے کہ اللہ اس کے سبب ان سب کو اپنے عذاب کی لپیٹ میں لے لے۔"
شاید اہل عرب کو اللہ ایک اور موقع دینا چاہتے ہوں اور ان کی اصلاح کے لیے آخری زمانے میں بنو قحطان میں سے ایک شخص کو ظاہر کریں گے (بنو قحطان عرب کا ایک مشہور قبیلہ ہے) اس شخص کی قیادت پر تم تمام لوگ بیعت کریں گے یا اس کی بات سے متفق ہوں گے۔ شاید یہ اس وقت ہوگا جب زمانہ تبدیل ہو جائے گا اور ہر طرف شر ہی شر پھیل چکا ہوگا۔ گمراہی کے اندھیرے ہر طرف امڈ چکے ہوں گے، جیسے کہ ایک روایت میں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک قبیلہ قحطان سے ایک شخص ظاہر نہ ہو جائے جو لوگوں کو اپنی لاٹھی سے ہانکے گا۔"
لاٹھی سے ہانکنے کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہوگا کہ وہ ان پر ڈنڈے برسائے گا بلکہ یہ ایک عربی محاورہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ لوگ اس کے اشارے پر چلیں گے اور صراط مستقیم پر رہیں گے۔ اس خبر میں یہ اشارہ بھی واضح ہے کہ اس حکمران کی لوگوں پر مکمل گرفت ہو گی اور اس طرف بھی اشارہ جاتا ہے کہ اس کی طبیعت میں کسی حد تک خشکی اور سختی بھی ہو گی۔
حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ "یہ شخص نیک اور صالح ہوگا"۔ اس شخص کا قحطان سے ہونا یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ شخص آزاد ہوگا۔
یہاں یہ میں واضح کر دوں کہ یہ شخص کوئی اور ہوگا جو بنو قحطان سے آئے گا، اور دوسرا شخص جس کا ذکر ایک روایت میں آیا ہے اس کا نام جہجاہ ہوگا اور یہ شخص ایک آزاد کردہ غلاموں میں سے ہوگا۔ یوں تو اہل عرب کی راہنمائی کے لیے کئی لوگ ظاہر ہوں گے جا کال لوگوں میں بہت اثر و رسوخ اور چرچا ہوگا۔ آپ ﷺ نے ان میں سے بعض کے نام اور بعض کے اوصاف بھی بتلائے ہیں۔ آپ ﷺ نے پیشین گوئی فرمائی کہ ایسے افراد میں سے ایک کا نام جہجاہ ہوگا۔ جیسے کہ ارشاد فرمایا: "دن رات کا سلسلہ موقوف نہ ہوگا جبتک ایک آزاد کردہ غلام کے ہاتھ میں اقتدار نہ آجائے جس کا نام جہجاہ ہوگا۔"
ایک جگہ اس کا نام "جہجل" بھی مذکور ہے۔ اہل علم فرماتے ہیں "جہجاہ" کے معنی اصلاً میں "صیاح" یعنی زور سے پکارنے والے کے ہیں۔
اللہ رب العزت سے استدعا ہے کہ جبتک زندہ رکھے ایمان کی حالت میں زندہ رکھے اور گمراہیوں اور کوتاہیوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین