اسلامی تعلیمات میں قربِ قیامت کی نشانیاں بہت تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔ ان نشانیوں میں سے ایک بہت اہم اور نمایاں نشانی یہ ہے کہ قیامت کے قریب بیت اللہ پر ایک لشکر حملہ آور ہو گا، لیکن اللہ تعالیٰ اس لشکر کو زمین میں دھنسا دے گا۔ یہ واقعہ نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے کہ اللہ کی قدرت اور اسکی حفاظت کی قوت کتنی زبردست ہے۔

بیت اللہ کی عظمت

بیت اللہ، جسے خانہ کعبہ بھی کہا جاتا ہے، مسلمانوں کے لیے دنیا کی مقدس ترین جگہ ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے اسلام کی بنیاد رکھی گئی اور جہاں ہر سال لاکھوں مسلمان حج اور عمرہ کے لیے جاتے ہیں۔ بیت اللہ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کی تھی، اور یہ مقام مسلمانوں کے لیے ایک عظیم تاریخی اور روحانی اہمیت رکھتا ہے۔

قربِ قیامت کے واقعات

قیامت کے قریب آنے کی بہت سی نشانیاں ہیں جو قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہیں۔ ان نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ایک لشکر بیت اللہ پر حملہ کرنے کے لیے روانہ ہو گا۔ یہ لشکر ایک بڑی فوج پر مشتمل ہو گا، جس کا مقصد بیت اللہ کو نقصان پہنچانا ہو گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے اس لشکر کو زمین میں دھنسا دے گا، اور وہ اپنی ناپاک نیتوں میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔

لشکر کا انجام

احادیث میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ لشکر جب مکہ مکرمہ کے قریب پہنچے گا تو اللہ تعالیٰ زمین کو حکم دے گا اور وہ لشکر سمیت زمین میں دھنس جائے گی۔ یہ واقعہ اللہ کی قدرت کا واضح اظہار ہو گا کہ وہ اپنے مقدس جگہ کی حفاظت کس طرح کرتا ہے۔ یہ واقعہ مسلمانوں کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہو گا کہ اللہ کی رحمت اور اسکی حفاظت کی قوت کبھی بھی ختم نہیں ہوتی۔

درحقیقت یہ لشکر قریش کے ایک شخص یعنی امام مہدی کو گرانا چاہتا ہو گا۔ اللہ رب العزت اول سے آخر تک اس سارے لشکر کو زمین میں دھنسا دے گا۔ اس لشکر میں مختلف قسم کے لوگ ہوں گے اور پھر ان لوگوں کو ان کی نیتوں کے مطابق (روز قیامت) اٹھایا جائے گا۔

جیسا کہ ارشاد نبوی ﷺ: "ایک پناہ لینے والا بیت اللہ شریف میں پناہ لے گا۔ اس کی طرف ایک لشکر ارسال کیا جائے گا۔ وہ لشکر جب ایک کھلے میدان میں ہو گا تو اسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ میں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! ان کا کیا ہو گا جو مجبوراً اس لشکر میں شامل کیے گئے ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا انھیں بھی لشکر کے ساتھ ہی دھنسا دیا جائے گا مگر روزِ قیامت ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔"

ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب آپ ﷺ نے اس لشکر کا ذکر فرمایا جسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا تو سیدہ ام سلمہ نے سوال کیا ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جن کو مجبور کیا گیا ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "سب لوگ اپنی اپنی نیت کے مطابق قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے۔"

لوگوں کو ان کی نیت کے مطابق اٹھانے کا سبب یہ ہے کہ ان میں کوئی مجبوری سے آیا ہو گا، کوئی گاڑی بان ہو گا اور کوئی منڈی لگانے اور سود بیچنے والا ہو گا۔ اس لیے ہر ایک سے اس کی نیت کے مطابق ہی معاملہ کیا جائے گا۔ آخر میں لوگوں کو شریروں کی صحبت کی نحوست کی وجہ سے ہلاک کیا جائے گا۔ یعنی دنیا میں یہ ہلاکت و بربادی کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ہو گی۔ جبکہ روز قیامت اپنے اپنے قصد و ارادہ اور نیت کے مطابق ان سے حساب لیا جائے گا۔

عبرت کا مقام

یہ واقعہ انسانوں کے لیے ایک بہت بڑی عبرت کا مقام ہو گا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ کوئی بھی طاقت، چاہے وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، اللہ کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کر سکتی۔ بیت اللہ پر حملہ آور لشکر کو زمین میں دھنسا دینا اس بات کی نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقدس جگہوں کی حفاظت خود کرتا ہے، اور اس کے دشمن کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔

یہ حدیث اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ برے لوگوں کی صحبت اور رفاقت سے اجتناب کرنا چاہیے۔ کیونکہ جو شخص اپنی مرضی سے معصیت و نافرمانی میں کسی قوم کا ساتھ دے اور ان کی تعداد بڑھانے کا سبب بنے تو وہ بھی ان کے ساتھ عذاب کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ اللہ رب العزت اس لشکر کو کعبہ تک پہنچنے سے قبل ہی زمین میں دھنسا دے گا۔

مسلمانوں کے لیے سبق

اس واقعے سے مسلمانوں کو یہ سبق ملتا ہے کہ انہیں ہمیشہ اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور اس کی حفاظت پر یقین رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی حفاظت کے لیے جو اہتمام کیا، وہ اس کی رحمت اور قدرت کی علامت ہے۔ مسلمانوں کو اس واقعے سے سیکھنا چاہیے کہ وہ اپنے دین کی حفاظت کے لیے ہمیشہ تیار رہیں اور اللہ پر ایمان رکھیں۔

تمام روایات کے مطالعہ کرنے سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ بیت اللہ شریف میں پناہ لینے والے امام مہدی محمد بن عبداللہ ہوں گے، اللہ رب العزت ان کی حفاظت فرمائے گا اور حملہ آور لشکر کو زمین میں دھنسا دے گا۔

بیت اللہ کی حفاظت

بیت اللہ کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ سے ہی خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ یہ مقام نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک مقدس اور قابل احترام جگہ ہے۔ قیامت کے قریب آنے والے واقعات میں یہ واقعہ بھی شامل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مقدس جگہ کی حفاظت کے لیے کس طرح غیر معمولی اقدامات کرے گا۔

جیسے کہ امی عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک بار نیند سے گھبرا کر اٹھ بیٹھے۔ میں نے عرض کیا اللہ کے رسول! آپ آج نیند سے خلاف معمول اٹھ بیٹھے ہیں! تو آپ ﷺ نے فرمایا: آج میں نے ایک عجیب چیز دیکھی ہے۔ میری امت کے کچھ لوگ بیت اللہ میں پناہ لینے والے ایک قریشی شخص پر حملہ آور ہونے کے لیے آئے مگر جب وہ ایک کھلے میدان میں پہنچے تو سب زمین میں دھنسا دیے گئے۔

میں عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس لشکر میں تو ہر طرح کے لوگ ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، ان میں دانستہ شمولیت کرنے والے، زبردستی لائے گئے اور مسافر لوگ بھی ہوں گے؟ مگر سب ایک ساتھ ہلاک کر دیے جائیں گے، مگر روز قیامت وہ مختلف حالات میں اٹھیں گے اللہ رب العزت انھیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔

قیامت کی نشانی

بیت اللہ پر حملہ آور لشکر کا زمین میں دھنس جانا قیامت کی ایک بڑی نشانی ہے۔ یہ واقعہ انسانوں کو یہ یاد دلائے گا کہ قیامت قریب ہے اور دنیا کی زندگی کا خاتمہ ہونے والا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس نشانی کو دیکھ کر اپنی زندگی کو درست کریں اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

اسلامی تعلیمات کے مطابق، بیت اللہ کی حفاظت اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری ہے۔ قرآن مجید میں سورہ الفیل میں بھی اس بات کا ذکر ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ پر حملہ آوروں کو ناکام بنایا۔ حضرت محمد ﷺ کی احادیث میں بھی بیت اللہ پر حملہ آور لشکر کے زمین میں دھنس جانے کا ذکر ہے، جو قیامت کے قریب کی ایک اہم نشانی ہو گی۔

مسلمانوں کا کردار

مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس واقعے سے سبق سیکھیں اور اپنے دین کی حفاظت کے لیے ہمیشہ تیار رہیں۔ بیت اللہ پر حملہ آور لشکر کا زمین میں دھنس جانا اس بات کی علامت ہے کہ اللہ کی مدد ہمیشہ حق کے ساتھ ہوتی ہے۔ مسلمانوں کو اپنے ایمان کو مضبوط رکھنا چاہیے اور اللہ کی حفاظت پر یقین رکھنا چاہیے۔

دنیا کے لیے پیغام

یہ واقعہ دنیا کے لیے ایک بہت بڑا پیغام ہے کہ کوئی بھی طاقت، چاہے وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، اللہ کے سامنے کچھ نہیں کر سکتی۔ بیت اللہ پر حملہ آور لشکر کا زمین میں دھنس جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقدس جگہوں کی حفاظت خود کرتا ہے اور اس کے دشمن کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔