محترم قارئین کرام! قیامت کی جس نشانی پر ہم آج بات کر رہے ہیں اس کا عنوان ہے "نیک لوگوں کا اس دنیا سے رخصت ہونا اور بُرے لوگوں کا ظاہر ہونا" اور یہ نشانی دور حاضر میں بتدریج آہستہ آہستہ عیاں ہوتی جا رہی ہے۔
جیسے جیسے وقت کی بے لگام گھوڑی تیزی سے آگے بڑھتی جا رہی ہے اس نشانی میں وقت کے ساتھ ساتھ نکھار پیدا ہوتا جا رہا ہے۔ اور جو بات نبوت والی زبان سے بیان ہوئی تھی وہ حق سچ ہے اور وقت مقررہ پر جہاں تمام نشانیاں پوری ہوتی جا رہی ہیں وہیں یہ نشانی بھی ہم سب اپنی ننگی آنکھوں سے پورا ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔
نیک لوگوں کا رخصت ہونا - ایک واضح نشانی
تاہم صورتحال ابھی اتنی بدترین تو نہیں ہوئی کیونکہ جب تک دین حق کی بات کرنے والے لوگ موجود ہیں ہمارے درمیان لوگوں میں کچھ نہ کچھ خدا خوفی موجود ہے لیکن بتدریج یہ نشانی آہستہ آہستہ واضح ہوتی نظر آ رہی ہے جہاں یہ واضح ہو رہی ہے وہی دوسری طرف فرقہ واریت بڑھتی جا رہی ہے اور اس کے برعکس بُرے لوگ اقتدار سنبھالتے نظر آ رہے ہیں۔
ایسا محسوس ہونے لگا ہے جیسے حق اور باطل کی لڑائی میں حق کی روشنی مدھم ہوتی دکھائی دے رہی ہے، حق کہیں دبتا، ڈرتا اور روپوش ہوتا نظر آ رہا ہے اور حق کے اردگرد باطل فتنوں کے راج اور اندھیرے منڈلاتے دکھائی دے رہے ہیں۔
وعول اور تحوت - آپ ﷺ کی پیشین گوئی
کیونکہ جو اس دنیا سے رخصت ہوتا جا رہا ہے وہ واپس آنے والا نہیں ہے اس لیے ان لوگوں کے پاس کھلا میدان موجود ہے کیونکہ یہ لوگ خود بھی گمراہ ہیں اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے جا رہے ہیں۔ جب ان لوگوں سے کوئی مشورہ لیا جاتا ہے تو یہ لوگ محض قیاس آرائیاں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
دور حاضر کا المناک منظر
آج سٹیلائٹ چینلز کے ذریعے جس طرح جھوٹ کی نمائش کی جا رہی ہے لگتا ہے کہ یہی لوگ سچے ہیں اور حقائق واضح کر رہے ہیں لیکن افسوس! یہ تو وہ باتیں بھی عیاں کرتے دکھائی دیتے ہیں جن کی پردہ پوشی کرنے کا حکم فرمایا گیا تھا۔
ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہر برا کام وہ اتنے ذوق وشوق سے دکھاتے ہیں جیسے اس دنیا میں اللہ نے ان کو اسی کام کے لیے پیدا کیا ہے، گھٹیا لوگوں کا اوپر آنا اور اہم مناصب سنبھالنا، ان کے گرد محفلوں کو سجانے کے لیے ڈھولچیوں اور طبلہ نوازوں کی کثرت کا ہونا۔
جبکہ دانشور، مفکر اور لوگوں کی خیر خواہی کرنے والوں کو نظروں سے اوجھل اور ذرائع ابلاغ پر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔
مگر افسوس! جتنی عزت یہ اسٹیج اداکاروں، جھوٹے اور جاہل سیاستدانوں، فلمی اداکاروں کی کرتے ہیں یہاں تک کہ اندھا دھند پیروی بھی کرتے ہیں، وہیں پر اگر دین حق کی بات ہو، کسی مفلس کی مدد کرنی ہو، کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا ہو وہاں ہماری زبانوں کو تالے لگ جاتے ہیں، وہاں ہم لوگ پتلی گلی سے نکلتے دکھائی دیتے ہیں۔
دعا اور نتیجہ
اللہ ہمیں نیک لوگوں کی صحبت نصیب فرمائے اور بُرے لوگوں کے شر سے بچائے۔ آمین