محترم قارئین کرام! دنیا کے جتنے بھی بڑے مذاہب ہیں ان سب میں مذہبی پیشوائیت یعنی پریسٹ ہڈ کا تصور موجود ہے۔ مغربی ادب کی بات کریں تو چرچ کا نظام اور اس سے جڑنے والے تمام لوگوں کا کردار بڑا واضح نظر آتا ہے، بالکل اسی طرح یہودیت اور ہندومت میں موجود ہے۔ لوگ اپنے مذہبی ذمہ داریاں خود ادا کرنے کی بجائے مذہبی پیشواوؤں کے ذریعے ادا کرتے ہیں مثلاً شادی بیاہ کی رسومات، قربانی، بچے کی پیدائش سے لے کر مرنے، اور وہ تمام دیگر رسومات جو انسانوں نے اپنی زندگی گزارنے سے متعلق بنائی ہوتی ہیں سب انہی لوگوں کے سپرد کیے گئے ہیں۔
مذہبی امام، ملا ازم انہی کاموں کے پیسے لیتے ہیں اور لوگوں کے جذبات سے پورا پورا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
اسلام میں امامت کا تصور
لیکن اسلام میں مذہبی امام، پیشوا، ملا ازم، مولوی، کی مزاحمت کی گئی ہے۔ اسلام قطعی اس کے حق میں دلائل نہیں دیتا، بلکہ آپ ﷺ نے یہاں تک فرما دیا کہ تم میں سے ہر ایک اپنے گھر کا امام ہے اپنے گھر کی امامت خود کرو، اس قابل ہو کہ ایک امام اپنے بچوں کی تربیت کو دین اسلام کے مطابق کرے، باپ مر جائے تو بیٹا خود باپ کا غسل اور جنازہ ادا کرے، بیٹی یا بیٹا جوان ہو تو ولی کی حیثیت سے خود ان کا نکاح پڑھائے۔
جو تکلیف اور دعائیں اس کے دل کی گہرائیوں سے کسی مردہ انسان کے لیے نکلیں گی یا نکاح پڑھاتے وقت جو دعائیں وہ خود دے گا شاید ہی کرائے کا مولوی کر پائے اور اس احساس کو سمجھ پائے کیونکہ مولوی کو ناصرف اپنی فیس کی فکر ہوتی ہے بلکہ کھانا اچھا مل جائے یہ بھی بڑا تجسس رہتا ہے۔ اگر نکاح کسی غریب کے گھر میں پڑھانا ہو تو بات کرنے کا ڈھنگ کچھ اور ہوگا اور اگر کسی امیر گھرانے میں ہو تو انداز بیان کچھ اور ہوگا۔
غرض یہ کہ اسلام چاہتا ہے کہ ہر انسان بجائے کسی مولوی کے کندھے پہ بندوق رکھ کر چلائے یا چلوائے اسے خود اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہیے، چاہے وہ قربانی ہو، تربیت ہو، شادی بیاہ ہو، اخراجات ہو، لین دین ہو، مرنے دفنانے یا دیگر مذہبی و سماجی رسومات کی ادائیگی ہو۔
احادیث کی روشنی میں گمراہ امام
اس حدیث کے مطابق علماء کرام کہتے ہیں کہ (گمراہ امام) یعنی جو مخلوق کو بدعت کی طرف بلائیں۔ کہیں پر فرمایا گیا کہ "گمراہ امام یعنی شر کے امام"۔ آپ ﷺ نے حق سچ فرمایا: میں اپنی امت پر گمراہ کن اماموں سے ڈرتا ہوں دوسرے فرقوں کے بانی جن کی وجہ سے امت تفرقہ کا شکار ہوئی۔
آپ ﷺ نے اپنی امت کی بھلائی کے لیے جو قیامت صغریٰ کی نشانیاں بتلائیں ان میں ایک نشانی یہ بھی بتائی کہ "علمائے شریعیت کی قلت اور مذہبی پیشوا یا قاری حضرات کی کثرت" ہوگی۔ اور یہ نشانی بھی اپنے دور حاضر میں پورے عروج پر جا رہی ہے کیونکہ ہم نے دین سیکھنے اور سکھانے کی ذمہ داری انہی لوگوں کے سپرد کی ہوئی ہے، دین سیکھنا نہیں لیکن نقطہ چینی کرنے میں ماہر ہوتے ہیں۔
افسوس کہ ہم تو اس قابل بھی نہیں کہ یہ جان سکیں کہ جو مولوی حضرات کام کر رہے ہیں وہ شریعت کے مطابق ہے بھی کہ نہیں، کیونکہ یہ قرآن پڑھ سکتے ہیں، قرآن بھی صرف دکھاوے کے لیے، لیکن دین کی تعلیم نہیں دے سکتے۔ جب ایسے لوگوں سے کوئی دین کی بات پوچھی جائے تو یہ ریسرچ کیے بغیر ہی فتویٰ دے دیتے ہیں اور معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے میں سرفہرست رہتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ لوگ انہی لوگوں سے رجوع کرتے ہیں اور دین سیکھتے ہیں جو خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہی کی طرف دھکیل رہے ہوتے ہیں۔
مولویوں کا کردار اور معاشرتی بگاڑ
ہمارے معاشرے میں تمام معاملات اس وقت بدترین اور شدت اختیار کر جائیں گے جب علماء کے دنیا فانی سے اٹھ جانے کے باعث علم رخصت ہو جائے گا۔ جب کوئی دین سکھانے والا نہ بچے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنالیں گے۔ ان سے جب دینی مسائل پوچھے جائیں گے تو وہ تحقیق کیے بغیر اپنی لاعلمی، کم عقلی اور جاہلیت اور چند ٹکوں کے عوض ہی فتویٰ دے دیا کریں گے۔ اس طرح وہ لوگ خود تو گمراہ ہوں گے ہی مگر معاشرے میں جڑے ان لوگوں ہر شخص بھی گمراہی کا راستہ اپنائیں گے۔
پھر فرمایا: "میرے بعد ایسے امام ہوں گے جو میری راہ پر نہیں چلیں گے اور نہ میری سنتوں پر چلیں گے بلکہ ان میں ایسے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جن کے جسم ضرور انسانوں کے ہوں گے لیکن ان کے دل شیاطین کے ہوں گے"۔
آقا ﷺ نے مزید فرمایا: "مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ گمراہ اماموں کا خوف ہے اور جس وقت میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی تو ان سے قیامت تک نہ اٹھائی جائے گی"۔
ان احادیث سے یہ واضح اشارے ملتے ہیں کہ وہ حالات کیسے ہوں گے کہ جب علم اٹھا لیا جائے گا حالات مزید بدتر ہوں گے (آج کل ہمارے معاشرے کرونا وائرس کی زد میں ہیں تعلیمی سلسلے بند ہو کر رہ گئے ہیں) علم کے ختم ہونے کی اور واضح مثال کی دی جا سکتی ہے جس میں مساجد تک جانے کی اجازت نہیں ہے۔ تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ دفعتاً لوگوں کے سینوں سے علم مٹا دیا جائے گا اور علم دنیا سے ختم ہو جائے گا، بلکہ معنی یہ ہیں کہ علمائے شریعت آہستہ آہستہ دنیا سے رخصت ہو جائیں گے اور لوگ ان کی جگہ جاہلوں کو اپنا مفتی بنا لیں گے۔ وہ اپنی جہالت کی بنیاد پر فیصلے کریں گے۔ وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔
نتیجہ
اللہ ہمیں دین کا صحیح فہم عطا فرمائے اور گمراہی سے بچائے۔ آمین