معاشرے میں ہر سو جھوٹ کا تیزی سے پھیل جانا
دوستو!
جس قدر ہم روانی اور ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہیں یہ سوچ کر کہ ہم جیسے سچ بول رہے ہیں۔ اور دوسرے کو قائل کرنے میں اور اپنی جان بچانے یا اپنے مفادات کی خاطر ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ وہیں اگر ہم ایک سچ بول کر اپنی جان آسان بنا سکتے ہیں۔ تو یقینا ہزار جھوٹ بولنے سے ایک سچ بہتر ہے کہ وہی بول لیا جائے۔ سچ کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے، اس میں نہ دل کا کنٹرول ہوتا ہے اور نہ ہی زبان کا۔
کچھ عرصہ قبل میں نے کچھ جھوٹ سے متعلق آرٹیکل لکھے تھے جن میں سے:
- انگنت فتنوں کا ظہور اور ان کے نقصانات
- لوگوں کے دلوں سے دیانتداری کا خاتمہ اور آپ ﷺ کی وعید
- جھوٹی گواہی کا عام ہو جانا اور معاشرتی تباہی کا تیزی سے بڑھنا
- دورِ جدید کے فتنوں کے بارے میں آپ ﷺ نے کیا فرمایا
- اگر ہم سچی گواہی کو چھپائیں گے تو معاشرے میں کیا ہوگا؟
ہم اس قدر جھوٹ بولتے ہیں کہ گویا جھوٹ بھی سچ دکھائی دینے لگتا ہے۔ ذہنی ہم آہن کو تیار ہو جاتا ہے کہ شاید یہی سچ ہے حالانکہ وہ سراسر جھوٹ ہے۔ ہمارا سوشل میڈیا، سارا دن خبریں نشر کرتا رہتا ہے کیا معلوم کتنی سچائی ہے۔
دوستو!
جھوٹ ایک کبیرہ گناہ ہے۔ جھوٹ بولتے وقت اگر ہم یہ سوچ لیں تو شاید کسی حد بچا جا سکتا ہے ورنہ جس قدر وہ ہمارے خون میں سرایت کر چکا ہے بچنا بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
جھوٹ ایک نہایت بُری عادت ہے۔ آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ ہی کی کوشش میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے دربار میں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ قیامت کی بے شمار نشانیوں میں ایک نشانی یہ بھی ہے کہ لوگوں کے درمیان جھوٹ بکثرت پھیل جائے گا۔ ایک شخص اپنی گفتگو میں جھوٹ سے بچنے کی کوئی کوشش ہی نہیں کرے گا اور نہ ہو خبریں دوسروں تک منتقل کرنے سے قبل کسی قسم کی کوئی تحقیق کرے گا۔ یہ سب کچھ جھوٹ کی کثرت اور لوگوں پر اس کے بہت بُرے اثرات کے باوجود ہو گا۔
ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا "آخری زمانے میں کچھ ایسے دجال و کذاب ظاہر ہوں گے جو تم سے ایسی احادیث بیان کریں گے جنھیں نہ تم نے سنا ہوگا اور نہ ہی تمھارے آباء و اجداد ان سے واقف ہوں گے۔ تم ان سے بچ کر رہنا کہیں وہ تمھیں گمراہ نہ کردیں یا فتنہ میں مبتلا نہ کردیں۔"
اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں کچھ یوں ارشاد فرمایا "بے شک اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والے جھوٹے کو ہدایت نہیں دیتے۔"
ایک اور جگہ کچھ یوں فرمایا "بے سند باتیں کرنے والے غارت کردئیے گئے۔"
سورۃ ال عمران میں کچھ یوں فرمایا گیا "پھر ہم عاجزی کے ساتھ التجاء کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔"
آپ ﷺ نے مزید اصلاح فرمائی "بے شک جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا اور بے شک گناہ آگ کی طرف لے جاتا ہے اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔"
ایک اور روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا "منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے اور جب اسے امانت دی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔"
پھر فرمایا "سب سے بدترین جھوٹ یہ ہے کہ انسان خواب میں ایسی چیز کے دیکھنے کا دعوی کرے جو اس کی آنکھوں نے نہ دیکھی ہو"
اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد فرمایا "آدمی کے لیے اتنا گناہ ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کردے۔"
ایک اور روایت کے مطابق "تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کلام نہیں فرمائیں گے ان میں سے ایک "جھوٹا بادشاہ"۔
آپ کے سامنے جتنی بھی احادیث بیان کی گئی ہیں عہد حاضر کے ہر تناظر میں ان کو پرکھیں تو ممکن نہیں کہ کوئی بچ پا یا ہو۔ ایک ادنیٰ انسان سے لے کر بادشاہ تک جھوٹ سے کوئی نہیں بچ پا یا۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ہر سنی سنائی بات کی تصدیق کرنے اور اسے آگے پہنچانے سے منع فرمایا ہے۔ کیا آج ہم سچ کا گلا گھونٹ کر جھوٹ کو تیزی پھیلانے میں مدد نہیں کر رہے سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا، نیوز چینلز، ڈرامہ، موویز یہ سب جھوٹ نشر کرنے کے پلیٹ فارمز ہیں۔
لہذا یہ ضروری ہے کہ ہم اگر کوئی خبر سن کر آگے منتقل کر رہے ہوں تو اس کی پوری تحقیق کریں تاکہ ہمارا شمار جھوٹوں میں نہ ہو اور ہم گناہ و خطا میں مبتلا نہ ہو جائیں۔
آج جو افواہوں کا بازار گرم ہے، خبروں میں تحقیق کارواج نہیں اور واقعات و حالات کے بیان کرنے میں کمی بیشی نظر آتی ہے یہ سب اسی جھوٹ کی اقسام ہیں جسے اللہ کے نبی ﷺ نے حرام قرار دیا ہے۔