محترم قارئین کرام! آج جس موضوع پر بات کرنے جا رہا ہوں وہ دیگر سابقہ موضوعات کی طرح قرب قیامت کی ان بہت ساری نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ "ایماندار شخص کو جھوٹا اور جھوٹے شخص کو قابل اعتماد سمجھا جانا"۔
حالانکہ یہ نشانی بھی اپنے دور میں پورے جوبن پر ہے، آج اگر ایک شخص کو کسی کام کرنے سے منع کیا جائے تو وہ ایسی ایسی باتیں اور دلائل پیش کرے گا کہ دوسرا بالکل خاموش ہو جائے گا، تعلیمات اسلامی ہونے کے ساتھ ساتھ ہم عملاً بہت زیادہ کمزور ہیں اور اسی کمزوری کے باعث معاشرے میں اخلاقی، معاشرتی، سیاسی اور دیگر پھیلنے والی برائیوں کا سد باب بہت حد تک ناممکن ہو گیا ہے، کیونکہ لوگ گناہوں کو اتنا معمولی سمجھ لیتے ہیں کہ گناہ کو گناہ کہنے میں بھی بُرا محسوس نہیں کرتے۔
انہی بہت سارے گناہوں میں سے خیانت بھی ایک ایسا گناہ ہے جس کو لوگ اتنا معمولی سمجھ کر کبھی بھی کسی کا گلہ کاٹ لیتے ہیں۔
آپ ﷺ نے اس بدترین گناہ کو منافق کی علامت قرار دیا اور فرمایا کہ منافق کی تین علامتیں ہیں: "جب بات کرے جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو خلاف کرے، امانت دی جائے تو خیانت کرے"۔
آپ ﷺ نے فرمایا: "جو اپنے بھائی کو کسی معاملے میں مشورہ دے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ درستی اس کے علاوہ میں ہے اس نے اس کے ساتھ خیانت کی"۔
اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد نبوی ﷺ ہے: "یعنی اگر کوئی مسلمان کسی سے مشورہ حاصل کرے اور وہ دانستہ غلط مشورہ دے تاکہ وہ مصیبت میں گرفتار ہو جائے تو وہ خیانت کرنے والا ہے"۔
آپ ﷺ نے فرمایا: "ہم تم میں سے جسے کسی کام پر عامل بنائیں پھر وہ ہم سے سوئی یا اس سے زیادہ چھپا لے تو یہ بھی خیانت ہے جسے وہ قیامت کے دن لائے گا"۔
یعنی پوشیدہ طور پر کسی کا حق مارنا خیانت کہلاتا ہے خواہ وہ اپنوں کا حق مارے یا اللہ اس کے رسول کا یا اسلام کا یا کسی بھی مسلمان بھائی کا!
اللہ رب العزت سورۃ انفال میں فرماتے ہیں: "اللہ اور رسول سے دغا نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت"۔
ہمارے ہاں عام طور پر خیانت کا مفہوم صرف مالی امانت کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے کہ جب کسی شخص کو معزز سمجھ کر اس کے پاس مال بطور امانت رکھوایا جائے اور وقت مقررہ پر وہ شخص دینے سے انکار کر دے تو کہا یہ جاتا ہے کہ فلاں شخص نے مال میں خیانت کی، یقیناً یہ بھی خیانت ہی ہے کیونکہ ہم نے خیانت کو صرف ایک حصے کے ساتھ تشبیہ دی لیکن درحقیقت خیانت کا شرعی مفہوم بڑا وسیع ہے۔
علماء کے نزدیک خیانت صرف مال ہی میں نہیں ہوتی، بلکہ راز، عزت، مشورے، لین دین اور دیگر پہلوؤں میں بھی ہوتی ہے۔
آپ ﷺ نے ہمیشہ اللہ سے خیانت کی پناہ مانگی اور اپنی امت کو بھی اس سے آگاہ کیا۔ خیانت چھوٹی ہو یا بڑی قیامت میں سزا اور ذلت و رسوائی کا باعث ہے، خاص کر کے جب خیانت عبادات میں کی جائے اور اس میں لوگوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ اللہ کے حقوق بھی ادا نہ کیے جائیں۔
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: "قیامت کے دن اللہ پاک کے نزدیک سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی کے پاس جائے، بیوی اس کے پاس آئے اور پھر وہ اپنی بیوی کا راز ظاہر کر دے"۔
اس حدیث کے مطابق آج ہمارے نوجوان مردوں اور عورتوں میں یہ برائی بڑی شدت سے پائی جاتی ہے ناصرف پائی جاتی ہے بلکہ باقاعدہ ویڈیوز بنا کر دوسروں کو شئیر کرنے میں ثواب سمجھا جاتا ہے اور جوانمردی کی علامت سمجھا جاتا ہے گویہ بیوی سے ہمبستری کر کے پہاڑ سر پہ اٹھا لیا ہو۔ ابھی میں اس ٹاپک کی گہرائی میں نہیں جا رہا صرف اپنے ٹاپک کو واضح کرنے کے لیے صرف حوالہ دے رہا ہوں کہ خیانت کہاں تک سفر کر رہی ہے جس کو ہم معمولی سمجھ کر روزمرہ میں کرتے چلے جاتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو ان گناہوں سے دور رکھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو ہلاکت میں ڈالنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے حیا چھین لیتا ہے۔ اس کی وجہ سے وہ لوگوں میں نفرت و بیزاری کا نشانہ بنتا ہے۔ جب وہ نفرت کا نشانہ بن جاتا ہے تو اس سے امانت چھین لیتا ہے۔ پھر وہ خائن بن جاتا ہے، اور جب خائن بن جائے تو اس سے ’’رحمت‘‘ کی صفت چھین لی جاتی ہے جس کے سبب وہ دھتکارا ہوا اور ملعون شخص بن جاتا ہے، اور جب ایسا ہو جائے تو اُس کے گلے سے اسلام کا ہار نکال لیا جاتا ہے"۔
ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں کچھ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک اعرابی آیا اور پوچھا: قیامت کب آئے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو جاری رکھی اور فوری جواب نہ دیا۔ بات مکمل کرنے کے بعد پوچھا: وہ سائل کہاں ہے؟ اعرابی نے کہا: میں یہاں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب امانت ضائع کر دی جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔‘‘ اعرابی نے پوچھا: ’’امانت کا ضیاع کیا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب معاملات، مناصب غیر اہل لوگوں کے سپرد کر دیے جائیں"۔
آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر تم وہ باتیں جان لو جو میں جانتا ہوں تو زیادہ رویا کرو اور کم ہنسا کرو۔ نفاق ظاہر ہو جائے گا۔ امانت اٹھا لی جائے گی۔ رحم کا مادہ چھین لیا جائے گا۔ امانت دار لوگوں پر الزام لگائے جائیں گے اور خائن کو امین بنایا جائے گا۔ ایسے وقت میں تم پر فتنے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ٹوٹ پڑیں گے۔"
اس حدیث مبارکہ میں قیامت کی ہولناکیوں کی طرف اشارہ کیا گیا کہ ہر طرف ظلمت کا دور دورہ ہوگا، ظلم کا نظام اور اس سے پھیلنے والا اندھیرہ، معصیت اور گمراہی اپنے عروج پر ہوگی۔ تاحد نظر نفاق ہی نفاق ہوگا۔ لوگ بات کچھ کریں گے اور عمل کچھ اور ہوگا، دلوں میں کوئی بات ہوگی اور زبانوں پر کوئی اور، مطلب چہروں پہ چہرے لگائے ہوں گے۔
امانت داری کا جو تصور اسلام نے دیا ہے وہ ظلمت کی عمیق گہرائیوں میں کہیں دم توڑتا ہوا نظر آئے گا۔ مناصب نااہل، جاہل اور گھٹیا اور بازاری لوگوں کو دیے جائیں گے۔ انسانوں کے دلوں سے محبت و الفت کو ختم کر دیا جائے گا، نفسانفسی کے اس عالم میں لوگوں کے خون سفید ہوتے جا رہے ہیں، نفرتیں پروان چڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔
ایک دوسرے کے لیے خیرخواہی کا جذبہ نہ ہوگا۔ جو لوگ حقیقتاً معاشرے کے نیک، معزز، سچے لوگ ہوں گے، امانت دار ہوں گے اُن پر طعنہ زنی، مکاری، فریبی اور جھوٹے ہونے کے الزامات لگا کر دنیا کو اُن سے بدظن کیا جائے گا، اور ان کی جگہ جاہل، کم عقل، بے وقوف، گھٹیا اور بازاری قسم کے لوگوں کو مناصب دیے جائیں گے۔
ایسے لوگ جب اقتدار میں آئیں گے تو ہر طرف حیوانیت سر اٹھائے گی اور نظام درہم برہم ہوتا جائے گا۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ہوگی۔ ہر طرف سے کوئی نہ کوئی فتنہ و فساد سر اٹھاتا نظر آئے گا۔ ایسے حالات میں اپنی جان بچانا درکنار ایمان بچانا بھی مشکل ہوگا۔
دوستو! خیانت ہمارے معاشرے کا وہ سرایت کرتا ہوا ناسُور ہے جس کے پنجوں سے شاید ہی کوئی شعبۂ ہائے زندگی بچا ہو مگر کم علمی کی وجہ سے ہمیں اس کا شعور نہیں ہوتا یا ہم جان بوجھ کر سچائی سے منہ موڑ لیتے ہیں۔
بزنس ہو یا نوکری! روزمرہ معمولات ہو یا وراثت کے مسائل! خیانت، فراڈ اور دھوکے بازی کا بازار سرگرم ہے، مثلاً لین دین کی اس دنیا میں:
- ناپ تول میں کمی بیشی
- معیاری چیز دکھا کر گھٹیا اور کمتر چیز دے دینا
- جعلی دودھ، جعلی گھی یا آئل وغیرہ بنانا و بیچنا
- مردہ و حرام جانور کا گوشت فروخت کرنا
- جعلی ادویات کی خریدوفروخت کرنا
- اس طرح کی ہزاروں دیگر مثالیں جو ہمارے معاشرے میں عام ہیں۔
کہنے کو ہم مسلمان ہیں لیکن ہمارے کاموں سے آج یہود و ہنود بھی شرماتے ہیں۔