کعبہ کی بربادی اور قیامت کے آثار
قیامت کی نشانیاں اسلامی عقیدے کا ایک اہم حصہ ہیں، اور احادیث میں ان نشانیوں کا ذکر تفصیل سے کیا گیا ہے۔ ان نشانیوں میں ایک علامت یہ بھی ہے کہ قیامت کے قریب حبشہ کے ایک شخص کے ہاتھوں کعبہ کی بربادی ہو گی۔ اس آرٹیکل میں ہم قیامت کی اس نشانی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالیں گے، جن میں اس وقت کی علامات، دین کی بربادی، زمین پر شرک کی بھر مار، اور بیت المقدس کی آبادی اور کعبہ کی بربادی شامل ہیں۔
1- اس وقت کی علامات
قیامت کی نشانیاں احادیث میں مختلف طریقوں سے بیان کی گئی ہیں، اور ان میں سے کچھ نشانیاں اس وقت کی عمومی حالت کو ظاہر کرتی ہیں۔ احادیث میں بیان کیا گیا ہے کہ اس وقت کے لوگ دین سے دور ہو چکے ہوں گے، اور دنیا میں فتنہ و فساد عروج پر ہو گا۔ کچھ روایات میں آیا ہے کہ اس وقت لوگ اپنے دین سے غافل ہوں گے اور دنیاوی معاملات میں مشغول ہوں گے۔
ایک روایت کے مطابق، "قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جبتک لوگ بڑے فتنوں میں مبتلا نہ ہوں گے اور دین کی سمجھ رکھنے والا کوئی نہ ہو گا۔"
دنیا بھر میں گناہ اور معصیت عام ہوں گے، اور لوگوں کے دلوں میں خوفِ خدا کی کوئی جگہ نہ ہو گی۔ نیکی کی بجائے بدی کا غلبہ ہو گا اور لوگ دین کی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال چکے ہوں گے۔ ایسے حالات میں جبکہ دین کی سمجھ رکھنے والے لوگ ناپید ہو جائیں گے، قیامت کے آثار ظاہر ہوں گے۔
2- دین سمجھانے والا کوئی نہ ہو گا
قیامت کے قریب دین کی تعلیمات اور دینی رہنماؤں کی قلت ایک اہم علامت ہو گی۔ احادیث میں بیان ہوا ہے کہ قیامت کے قریب دین کی سمجھ رکھنے والے اور لوگوں کو صحیح راستے پر چلانے والے افراد ناپید ہو جائیں گے۔ یہ صورت حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس وقت لوگ دین کی تعلیمات سے بالکل بے بہرہ ہوں گے اور دنیاوی معاملات میں اس قدر غرق ہو چکے ہوں گے کہ ان کے دلوں میں دین کا کوئی مقام نہ ہو گا۔
دین کی اس بربادی کی وجہ سے لوگ گمراہ ہوں گے اور انہیں صحیح اور غلط کی تمیز نہ ہو گی۔ احادیث میں آیا ہے کہ "اس وقت لوگ علمائے دین کو چھوڑ دیں گے اور گمراہ لوگوں کو اپنا رہنما بنا لیں گے۔" یہ بات واضح کرتی ہے کہ قیامت کے قریب لوگوں کا دین کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو گا اور وہ دین کی روح سے دور ہو جائیں گے۔
3- زمین میں شریر لوگ ہی ہوں گے
قیامت کے قریب کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس وقت زمین پر صرف شریر اور گمراہ لوگ ہی رہ جائیں گے۔ یہ صورت حال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اس وقت نیکی اور اچھائی کا نام و نشان مٹ چکا ہو گا اور زمین پر بدی کا غلبہ ہو گا۔
احادیث میں آیا ہے کہ "قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جبتک زمین پر شریر لوگ ہی نہ رہ جائیں۔"
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت نیک لوگوں کا خاتمہ ہو چکا ہو گا اور زمین پر صرف بدکار، فاسق اور فاجر افراد ہی رہ جائیں گے۔ ان لوگوں کے دلوں میں دین کی کوئی جگہ نہ ہو گی اور وہ دنیاوی لذتوں میں مست ہو جائیں گے۔
یہ شریر لوگ دنیا کو فتنہ و فساد کی آگ میں جھونک دیں گے اور انسانیت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیں گے۔ ایسے حالات میں جبکہ زمین پر شرک کا راج ہو گا، قیامت کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی ظاہر ہو گی، یعنی حبشہ کے ایک شخص کے ہاتھوں کعبہ کی بربادی۔
4- بیت المقدس کی آبادی اور کعبہ کی بربادی
قیامت کی نشانیوں میں سے ایک اہم نشانی بیت المقدس کی آبادی اور کعبہ کی بربادی ہے۔ احادیث میں آیا ہے کہ جب بیت المقدس کی آبادی عروج پر ہو گی، تو اس کے ساتھ ہی مکہ مکرمہ کی آبادی گھٹ جائے گی اور کعبہ ویران ہو جائے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب بیت المقدس آباد ہو جائے گا تو مدینہ ویران ہو جائے گا، اور جب مدینہ ویران ہو جائے گا تو پھر کعبہ کو برباد کیا جائے گا۔"
اس حدیث میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ بیت المقدس کی آبادی اور کعبہ کی بربادی کے درمیان ایک گہرا تعلق ہے۔
حبشہ کے ایک شخص کے ہاتھوں کعبہ کی بربادی کا ذکر بھی احادیث میں ملتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق، "قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جبتک حبشہ کے ایک شخص کے ہاتھوں کعبہ کو برباد نہ کیا جائے۔" اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک وقت آئے گا جب حبشہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص، جسے احادیث میں "ذوالسویقتین" کہا گیا ہے، کعبہ کو برباد کرے گا۔
5- ذوالسویقتین کی حقیقت
ذوالسویقتین کا ذکر احادیث میں اس شخص کے طور پر کیا گیا ہے جو حبشہ سے آئے گا اور کعبہ کو برباد کرے گا۔ اس کے ہاتھوں کعبہ کی بربادی قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہو گی۔ "ذوالسویقتین" کا مطلب ہے "دو پتلی ٹانگوں والا"۔ اس کا یہ لقب اس کے ظاہری حلیے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
یہ شخص حبشہ سے آئے گا اور اپنی فوج کے ساتھ کعبہ پر حملہ کرے گا۔ اس حملے کے نتیجے میں کعبہ کی عمارت کو منہدم کیا جائے گا اور اس کی عظمت کو پامال کیا جائے گا۔ وہ شخص کعبہ کے ایک ایک پتھر کو گرا دے گا، اس کے غلاف کو اتار دے گا اور اس کے زیورات کو لوٹ لے گا۔
جیسا کہ اللہ کے نبی حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "حبشی جب تک تمھارے ساتھ لڑائی نہ چھیڑیں تم بھی ان سے کچھ نہ کہو، اس لیے کہ کعبہ کا خزانہ سوائے حبشی ذوالسویقتین کے اور کوئی نہیں نکالے گا۔"
ایک دوسری روایت کے مطابق: "کعبہ کو ایک حبشی ذوالسویقتین برباد کر دے گا۔"
6- کعبہ کی بربادی کے نتائج
کعبہ کی بربادی اسلامی دنیا کے لیے ایک عظیم سانحہ ہو گی۔ کعبہ مسلمانوں کے لیے مقدس ترین مقام ہے اور اس کی بربادی قیامت کی ایک بڑی نشانی ہو گی۔ اس سانحے کے بعد دنیا میں فتنہ و فساد کی انتہا ہو گی اور زمین پر نیکی کا نام و نشان مٹ جائے گا۔
احادیث میں آیا ہے کہ "جب کعبہ برباد ہو گا، تو قیامت بالکل قریب ہو گی۔"
اس کا مطلب یہ ہے کہ کعبہ کی بربادی کے بعد دنیا میں قیامت کی نشانیاں تیزی سے ظاہر ہوں گی اور وہ وقت قریب ہو گا جب قیامت قائم ہو گی۔
آپ ﷺ نے ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: "گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں کہ ایک کالا، پھیلی ہوئی ٹانگوں والا شخص کعبے کا ایک ایک پتھر اکھاڑ رہا ہے۔" ایک اور مقام پر کچھ یوں الفاظ سے وضاحت فرمائی: "کعبے کو چھوٹی اور پتلی پنڈلیوں والا ایک حبشی برباد کر دے گا، وہ اس کے زیورات کو لوٹ لے گا اور اسے غلاف سے محروم کر دے گا، میں گویا اس کو دیکھ رہا ہوں: گنجا، ٹیڑھے ہاتھ پاؤں والا، کعبہ کو اپنے بیلچے اور کدال کے ذریعے سے ڈھا رہا ہے۔"
اس اشارے سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ اس کے سر پر بال نہیں ہوں گے، جوڑوں میں ٹیڑھا پن، گویا وہ اپنی جگہ سے ہٹے ہوئے ہوں، یعنی اپنے پھاؤڑے سے گرائے گا۔ اور کدال لوہے کا وہ آلہ جس سے پتھروں میں کھدائی کی جاتی ہے۔
7- مسلمانوں کا ردعمل
کعبہ کی بربادی ایک ایسا واقعہ ہو گا جو ہر مسلمان کے دل کو جھنجوڑ کر رکھ دے گا۔ مسلمانوں کے لیے یہ ایک بہت بڑا صدمہ ہو گا، لیکن احادیث میں آیا ہے کہ اس وقت دین کی سمجھ رکھنے والے لوگ نہ ہونے کے برابر ہوں گے اور شریر لوگوں کا راج ہو گا۔ لہذا، کعبہ کی بربادی پر مسلمانوں کا ردعمل اتنا شدید نہیں ہو گا جتنا ہونا چاہیے، کیونکہ اس وقت دنیا میں فتنہ و فساد اور گمراہی کا دور دورہ ہو گا۔
8- کعبہ کی بربادی اور قیامت کا قیام
کعبہ کی بربادی قیامت کے قیام کی ایک بڑی نشانی ہو گی۔ اس واقعے کے بعد دنیا میں فتنہ و فساد کی انتہا ہو گی اور انسانیت تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گی۔ احادیث میں آیا ہے کہ "کعبہ کی بربادی کے بعد قیامت کا وقت بالکل قریب ہو گا۔"
یہاں لوگوں کے ذہنوں میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ حبشی کعبہ کو کیسے گرائے گا جبکہ اللہ رب العزت نے مکۃ المکرمہ کو امن والا حرم بنایا ہے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "کیا یہ دیکھتے نہیں کہ ہم نے حرم کو امن والا بنایا ہے؟" ایک اور مقام پر پھر ارشاد فرمایا: "کیا ہم نے انھیں امن و امان اور حرمت والے حرم میں جگہ نہیں دی؟" تیسری جگہ پھر وضاحت فرمائی: "اور جو بھی ظلم کے ساتھ وہاں الحاد کا ارادہ کرے گا، ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔"
اللہ رب العزت نے اپنے گھر یعنی کعبہ کو اس وقت محفوظ رکھا تھا جب مکہ کے لوگ کافر اور مشرک تھے، تو اب، جب کعبہ مسلمانوں کا قبلہ ہے، کیسے کوئی شخص اس پر مسلط ہو سکتا ہے؟
پہلی بات یہ ہے کہ بیت اللہ شریف قربِ قیامت تک امن والی جگہ رہے گا، لیکن یہ امن قیامت تک برقرار نہیں رہے گا۔ آیات میں قیامت تک امن کے باقی رہنے کا ذکر نہیں ہے، بلکہ یہ بتایا گیا ہے کہ آیات کے نازل ہونے کے وقت حرم ایک محفوظ اور پر امن جگہ تھی، لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ یہ امن قیامت تک باقی رہے گا۔
دوسری بات یہ ہے کہ خود اللہ کے پیارے رسول ﷺ نے اشارہ فرمایا کہ ایک وقت آئے گا جب اس گھر کی حرمت کو اس کے اپنے رہنے والے ہی پامال کریں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ "ایک شخص کی حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت کی جائے گی۔ اس گھر کی حرمت کو اس کے رہنے والے ہی پامال کریں گے، اور جب ایسا ہو گا تو پھر عربوں کی ہلاکت اور بربادی کے بارے میں کچھ نہ پوچھا جائے گا۔ پھر حبشہ سے ایک لشکر آئے گا جو کعبہ کو تباہ کر دے گا، اور اس تباہی کے بعد یہ گھر کبھی آباد نہ ہو سکے گا۔ وہی لوگ اس کا خزانہ بھی نکال کر لے جائیں گے۔"
اسی طرح، اصحابِ فیل کے واقعے کے دوران مکہ کے لوگ کافر تھے، لیکن وہ بیت اللہ کی عزت کرتے تھے اور اس کی حرمت کو پامال نہیں کرتے تھے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو ابرہہ اور اس کے لشکر سے بچا لیا تھا۔
جہاں تک حبشی ذوالسویقتین کا تعلق ہے، وہ کعبہ کو اس وقت گرا سکے گا جب مقامی لوگ خود کعبہ کی حرمت کو پامال کرنا شروع کر دیں گے اور اس کی عزت کا خیال نہیں رکھیں گے۔ جب وہ بیت اللہ کی خدمت اور دیکھ بھال سے غفلت برتیں گے، تو اللہ تعالیٰ بھی ان کی مدد سے ہاتھ کھینچ لے گا۔
مزید آرٹیکل پڑھنے کے لئے ویب سائٹ وزٹ کریں۔