آپ ﷺ کی بتائی ہوئی قیامت کی بے شمار نشانیوں میں سے ایک، جھوٹی نبوت کے دعویداروں کا ظہور ہے۔ یہ نشانی قدیم زمانے سے لے کر دورِ جدید تک نمایاں ہو چکی ہے، اور جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، لوگ دین اسلام کی تعلیمات سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
دنیا کی صہیونی طاقتیں اسلام کو مٹانے کے درپے ہیں، لیکن وہ نہیں جانتے کہ اسلام کبھی مٹنے والا نہیں۔ اس لیے وہ نسل کے ذہنوں کو گمراہی کی طرف مائل کر رہے ہیں۔ آج دورِ حاضر میں طرح طرح کے فتنے نمودار ہو رہے ہیں — دین میں نیکی کے نام پر بدعتوں کا داخل ہونا، رسومات کو شامل کرنا، اور کتبِ احادیث میں تحریف کی کوششیں — سب کچھ انسانیت کو گمراہی میں ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے، جیسا کہ اہلِ کتاب نے اپنی کتب میں تبدیلی کر کے انسانیت کو گمراہ کیا تھا۔
قربِ قیامت میں جھوٹے دعویدار
قربِ قیامت میں جاہل اور جھوٹے لوگ نبوت کا دعویٰ کریں گے، اور اپنی خرافات اور جعلی باتوں کے ذریعے فتنہ و فساد پیدا کریں گے۔ آپ ﷺ نے امت کو متنبہ فرمایا:
"قیامت ہرگز اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ تیس کے قریب جھوٹے دجال ظاہر نہ ہو جائیں، جن میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔"
ایک دیگر روایت میں ہے:
"میری امت میں ستائیس جھوٹے دجال ظاہر ہوں گے، جن میں چار عورتیں بھی شامل ہوں گی۔ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔"
ان جھوٹے مدعیانِ نبوت میں سے آخری کڑی کانا مسیح دجال ہو گا، جس کا ذکر احادیث مبارکہ میں بار بار آیا ہے۔
مشہور جھوٹے مدعیانِ نبوت
1. اسود عنسی (یمن)
آپ ﷺ کی وفات سے چند ماہ قبل، یمن کے رہنے والے اسود عنسی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس نے زبردستی ایک عورت سے نکاح کیا، جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتی تھی۔ جب اس کے مظالم بڑھ گئے، تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اسے ختم کر دیا جائے۔ چنانچہ اس کی ہی بیوی نے اسے زہر دے کر قتل کر دیا، اور یمن میں اسلام کا غلبہ قائم ہو گیا۔
2. مسیلمہ کذاب (یمامہ)
مسیلمہ کذاب نے آپ ﷺ کے زمانے میں ہی نبوت کا دعویٰ کیا۔ جب آپ ﷺ کا انتقال ہوا، تو اس نے اپنا دعویٰ جاری رکھا اور لاکھوں لوگ اس پر ایمان لے آئے۔ اس نے آپ ﷺ کو خط لکھ کر کہا:
"میں آپ کے ساتھ نبوت میں شریک ہوں؛ آدھی دنیا آپ کی، آدھی میری۔"
آپ ﷺ نے غصے میں فرمایا:
"والله! اگر وہ مجھ سے اسے بھی مانگے، تو میں کبھی نہ دوں گا۔"
حکومتِ صدیقی میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں اس کا مقابلہ کیا گیا۔ یمامہ کی جنگ میں مسیلمہ قتل ہوا، اور ساتھ ہی اس کی بیوی سجاح بنت حارث — جو خود نبوت کی دعویدار تھی — بھاگ گئی۔ بعد میں وہ مسلمان ہو گئی۔
3. سجاح بنت حارث
وہ عیسائی قبیلوں سے تعلق رکھتی تھی اور آپ ﷺ کے وصال کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس کی تقریریں اور دعوتوں سے چند قبائل اس کے گرد جمع ہو گئے۔ آخرکار اس نے مسیلمہ کو تسلیم کر لیا اور اس سے نکاح کر لیا۔ مسیلمہ کے مارے جانے کے بعد وہ مسلمان ہو گئی۔
4. طلیحہ بن خویلد اسدی
اس نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس کے خلاف متعدد جنگیں ہوئیں۔ آخر کار وہ تائب ہوا، اسلام قبول کیا، اور نہاوند کی جنگ میں شہید ہوا۔
5. مختار ثقفی
یہ شخص شیعہ عقیدے کا پیرو تھا، پھر نبوت کا دعویٰ کرنے لگا کہ:
"جبرائیل مجھ پر وحی لے کر نازل ہوتا ہے۔ میں اسی لیے پیدا ہوا ہوں۔"
اس کے فتنے کا خاتمہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوا۔
6. حارث بن سعید
یہ شخص دمشق میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ خلیفہ عبدالملک بن مروان نے اسے گرفتار کر کے قتل کر دیا، کیونکہ وہ ہٹ دھرمی پر اُتر آیا تھا۔
7. مرزا غلام احمد قادیانی
یہ شخص ہندوستان سے تھا اور احمدی فرقہ کا بانی ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے۔ علماءِ حق نے اسے جھوٹا اور کذاب ثابت کیا۔
مولانا ثناء اللہ امرتسری نے اسے چیلنج کیا کہ:
"ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہو، وہ دوسرے کی زندگی میں مر جائے۔"
غلام احمد قادیانی نے دعا مانگی کہ جھوٹا شخص طاعون سے مرے۔ اگلے ہی سال وہ ہیضہ کے مرض میں مبتلا ہو کر مر گیا۔
جھوٹی نبوت کے اثرات
ہر جھوٹا دعویدار معاشرے میں شر، فتنہ، تقسیم اور گمراہی پھیلاتا ہے۔ یہ لوگ عام طور پر:
- دین میں تحریف کرتے ہیں
- عوام کو الجھاتے ہیں
- شیطانی خیالات کو دین کا حصہ بتاتے ہیں
- نوجوانوں کو بے راہ روی پر چلاتے ہیں
- امت کو فرقوں میں بانٹ دیتے ہیں
نتیجہ
تاریخ گواہ ہے کہ ہر جھوٹا نبی اسی دنیا میں ذلیل و رسوا ہوا، اور اللہ نے ہر بار حق کو غالب کیا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان فتنوں سے محفوظ رکھے، ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے، اور ہم سب کی موت ایمان کی حالت میں ہو۔
آمین۔