کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ جو کام ہم نیکی سمجھ کر کر رہے ہیں کیا شریعت ہمیں وہ سب کرنے کی اجازت دیتی ہے؟ یا ہم نے خود سے گمان کر لیا ہے کہ جو ہم کرنے جا رہے ہیں وہ سب ٹھیک ہے؟
اس کبیرہ گناہ کو ہمارے معاشرے میں بہت معمولی سمجھا جاتا ہے اور سوچیں جن لوگوں نے یہ پیشہ اپنا رکھا ہے باعث ِ ہلاکت اور عذاب کے سوا کچھ نہیں۔
جھوٹ کی مذمت
اس حدیث کے مطابق ہمارے معاشرے تھیٹر میں کام کرنے والے، کامیڈی شو کرنے والے اور دیگر ایسے لوگ جو محض لوگ کو ہنسانے کی خاطر جھوٹ بولتے ہیں۔
اور افسوس جھوٹ تو جھوٹ، اب تو گفتگو محض فحاشی اور عریانی پر مبنی ہوتی ہے جسے آج کے نوجوان بہت شوق سے دیکھتے، اور ایک دوسرے کو شئیر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
مذاق میں جھوٹ کی ممانعت
اوپر بیان کی گئی حدیث میں جھوٹ بولنے والے کو سختی سے ڈرایا گیا ہے اور جھوٹے شخص کے لئے ہلاکت کی سخت وعید بیان کی گئی ہے جو محض لوگوں کو ہنسانے کے لئے اکثر اوقات جھوٹ بولتا دکھائی دیتا ہے۔
یہ بہت ہی بری بات ہے اور کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے۔ یہ بری عادات اور بُرے اخلاق میں سے ایک ہے جس سے ہر مسلمان کو اپنا دامن ہمیشہ ہمیشہ بچا کر رکھنا چاہیے، اور اس سے ناصرف دور رہنا چاہیے بلکہ اپنی زبان کو جھوٹ سے پاک صاف رکھنا چاہیے۔
جب لوگوں کو یہ علم ہو جائے کہ سامنے والا شخص جھوٹ بول رہا ہے تو سننے والے پر لازم ہوتا ہے کہ وہ کنارہ کشی کرے۔ بلکہ دیکھنے میں آتا ہے کہ سننے والے بھی جھوٹ بولنے والے کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں۔ اور یوں جھوٹ در جھوٹ آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ کیونکہ جھوٹ منافق کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
جھوٹ کے نقصانات
جھوٹ کے بے شمار نقصانات ہیں جو انفرادی اور اجتماعی طور پر معاشرے کو تباہ کر دیتے ہیں۔ جھوٹ انسان کے ایمان کو کمزور کرتا ہے، اس کی عزت کو مجروح کرتا ہے، اور اس کے دلی سکون کو ختم کر دیتا ہے۔
جھوٹ بولنے والا شخص کبھی بھی لوگوں کا قابل اعتماد نہیں بن سکتا۔ اس کی بات کا کوئی وزن نہیں ہوتا اور لوگ اس سے دور رہنے لگتے ہیں۔ جھوٹ معاشرے میں انتشار پیدا کرتا ہے اور لوگوں کے درمیان اعتماد کا خاتمہ کر دیتا ہے۔
قرآن کا پیغام
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جھوٹ بولنے والوں کے بارے میں واضح احکامات اور سخت وعیدیں بیان کی ہیں۔ قرآن ہمیں سچ بولنے کی ترغیب دیتا ہے اور جھوٹ سے سختی سے منع کرتا ہے۔
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جھوٹ بولنے والوں سے ناراض ہے اور ان کے لیے سخت عذاب کا وعدہ کیا ہے۔ قرآن میں جھوٹ کو گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔
احادیث کے مطابق - قرب قیامت کی نشانیاں
رسول اللہ ﷺ نے متعدد احادیث میں قرب قیامت کی نشانیوں میں جھوٹ کے عام ہونے کو بھی بیان فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے امت کو جھوٹ سے بچنے کی تعلیم دی اور اس کے انجام سے ڈرایا۔
دیگر تفاسیر کے مطابق
مفسرین اور علماء کرام نے جھوٹ کی مذمت اور اس کے نقصانات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ان کی تفاسیر سے ہمیں جھوٹ کی حقیقت اور اس کے برے انجام کا پتہ چلتا ہے۔
ائمہ کرام کے احکامات
ائمہ اربعہ اور دیگر اکابر علماء نے جھوٹ کے بارے میں واضح احکامات دیے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ جھوٹ ایک کبیرہ گناہ ہے اور اس سے ہر حال میں بچنا چاہیے۔
جھوٹ بولنے والوں کے لئے جزا و سزا
اللہ تعالیٰ نے جھوٹ بولنے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں سخت سزا کا وعدہ کیا ہے۔ جھوٹا شخص دنیا میں بھی رسوا ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اسے سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ احادیث اور آیات واضح کرتی ہیں کہ جھوٹ بولنا کتنا بڑا گناہ ہے اور اس کا انجام کتنا برا ہے۔ ہمیں اس سے بچنا چاہیے اور سچ بولنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔
موجودہ دور میں جھوٹ کی رونمائی
کیا ہم اس دور سے گزر رہے ہیں؟ آج کا دور میڈیا، سوشل میڈیا، اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ جھوٹ کی تشہیر اور پھیلاؤ بے مثال ہے۔
آج کے دور میں جھوٹ اتنا عام ہو گیا ہے کہ لوگ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ سمجھنے لگے ہیں۔ یہ قرب قیامت کی واضح نشانی ہے۔ ہمیں اپنی زبان کو جھوٹ سے بچانا چاہیے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرنی چاہیے۔
غور و غوض کے پہلو
جھوٹ کے بارے میں غور و فکر کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ اس سے ہمیں اپنے معاشرے کے حالات کو سمجھنے اور بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔
- انفرادی اثرات: جھوٹ انسان کے ایمان، اخلاق، اور شخصیت کو کس طرح متاثر کرتا ہے؟
- اجتماعی اثرات: جھوٹ کی وجہ سے معاشرے میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟
- معاشی اثرات: جھوٹ کی وجہ سے کاروبار اور معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
- نفسیاتی اثرات: جھوٹ بولنے والے کی نفسیات پر کیا اثرات ہوتے ہیں؟
- آخرت کے اثرات: جھوٹ بولنے والے کا آخرت میں کیا انجام ہو گا؟
نسل نو کی تعمیر اور اہم نصیحتیں
جھوٹ جیسی بری عادت سے بچنے کے لیے نسل نو کی تعمیر انتہائی ضروری ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو سچ بولنے کی عادت ڈالنی چاہیے اور انہیں جھوٹ کے نقصانات سے آگاہ کرنا چاہیے۔
اہم نصیحتیں
- سچ کی تربیت: بچوں کو سچ بولنے کی عادت ڈالیں۔
- جھوٹ کی مذمت: بچوں کو جھوٹ کے نقصانات بتائیں۔
- نیک نمونہ: خود بھی سچ بولیں تاکہ بچے آپ سے سیکھ سکیں۔
- معاف کرنے کا طریقہ: بچوں کو بتائیں کہ اگر غلطی ہو جائے تو معاف کیا جا سکتا ہے۔
- قرآن و احادیث کی تعلیم: بچوں کو قرآن و احادیث کی تعلیم دیں تاکہ وہ جھوٹ کی برائی کو سمجھ سکیں۔
جھوٹ سے بچنے کا طریقہ
اور اس کے برعکس ایسا شخص جو مذاق میں بھی جھوٹ سے احتراز کرے اس کے آپ ﷺ نے جنت کی ضمانت دی ہے۔
چند دن پہلے میں ایک آرٹیکل لکھا تھا کہ قرب قیامت جھوٹ کا ہرسو تیزی سے پھیل جانا۔ اس ٹاپک میں کافی تفصیل سے ذکر کیا تھا کہ کس طرح ہمارے معاشرے میں جھوٹ پھیل جائے گا۔
- اللہ کی یاد کا اہتمام
- قرآن کی تلاوت
- نماز کی پابندی
- نیک لوگوں کی صحبت
- سچ بولنے کی عادت ڈالیں