دوستو! ہمیں اکثر محاورے سننے کو ملتے ہیں۔ جیسے کہ موسیقی روح کی غذا ہے، محض لوگوں کا ہنسانا بھی نیکی کا کام ہے، جی ہم تو دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں، ہم لوگوں کے دکھ بانٹتے ہیں تاکہ وہ دنیا میں خوش وخرم اپنی زندگی بسر کرے، ہم تو لوگوں کے مرجھائے ہوئے چہروں پر خوشیاں بکھیرتے ہیں وغیرہ۔
کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ جو کام ہم نیکی سمجھ کر کر رہے ہیں کیا شریعت ہمیں وہ سب کرنے کی اجازت دیتی ہے؟ یا ہم نے خود سے گمان کر لیا ہے کہ جو ہم کرنے جا رہے ہیں وہ سب ٹھیک ہے؟
اس کبیرہ گناہ کو ہمارے معاشرے میں بہت معمولی سمجھا جاتا ہے اور سوچیں جن لوگوں نے یہ پیشہ اپنا رکھا ہے باعث ِ ہلاکت اور عذاب کے سوا کچھ نہیں۔
ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا کہ "ہلاکت ہے اس کے لئے جو اس غرض سے جھوٹ بولے کہ اس سے لوگ ہنسیں، ہلاکت ہے اس کے لیے، ہلاکت ہے اس کے لئے"۔
اس حدیث کے مطابق ہمارے معاشرے تھیٹر میں کام کرنے والے، کامیڈی شو کرنے والے اور دیگر ایسے لوگ جو محض لوگ کو ہنسانے کی خاطر جھوٹ بولتے ہیں۔
اور افسوس جھوٹ تو جھوٹ، اب تو گفتگو محض فحاشی اور عریانی پر مبنی ہوتی ہے جسے آج کے نوجوان بہت شوق سے دیکھتے، اور ایک دوسرے کو شئیر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
بہت سے فنکار جنھوں نے اپنے آخری ایام بڑی اذیت ناک حالات سے دوچار ہو کر گزارے اور پھر اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ اللہ کی ناراضگی لے کر بھلا کس کا فائدہ ہوا آج تک اس دنیا میں نا اس دنیا میں۔
اوپر بیان کی گئی حدیث میں جھوٹ بولنے والے کو سختی سے ڈرایا گیا ہے اور جھوٹے شخص کے لئے ہلاکت کی سخت وعید بیان کی گئی ہے جو محض لوگوں کو ہنسانے کے لئے اکثر اوقات جھوٹ بولتا دکھائی دیتا ہے۔
یہ بہت ہی بری بات ہے اور کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے۔ یہ بری عادات اور بُرے اخلاق میں سے ایک ہے جس سے ہر مسلمان کو اپنا دامن ہمیشہ ہمیشہ بچا کر رکھنا چاہیے، اور اس سے ناصرف دور رہنا چاہیے بلکہ اپنی زبان کو جھوٹ سے پاک صاف رکھنا چاہیے۔
ماسوا ئے ان صورتوں کے جن میں شریعت کی طرف سے جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ جیسے مذاق میں جھوٹ بولنے کی شدید ممانعت کی گئی ہے، بالکل اسی طرح سننے والوں کے لیے اس کا سننا بھی ممانعت کا باعث ہے۔
جب لوگوں کو یہ علم ہو جائے کہ سامنے والا شخص جھوٹ بول رہا ہے تو سننے والے پر لازم ہوتا ہے کہ وہ کنارہ کشی کرے۔ بلکہ دیکھنے میں آتا ہے کہ سننے والے بھی جھوٹ بولنے والے کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں۔ اور یوں جھوٹ در جھوٹ آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ کیونکہ جھوٹ منافق کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
اور اس کے برعکس ایسا شخص جو مذاق میں بھی جھوٹ سے احتراز کرے اس کے آپ ﷺ نے جنت کی ضمانت دی ہے۔ جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا "میں اس شخص کو جنت کے ادنی درجہ میں ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑے سے اجتناب کرے، اور اس شخص کو جنت کے درمیانے درجہ میں ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو جھوٹ چھوڑ دیتا ہے اگرچہ وہ مذاق ہی کیوں نہ کر رہا ہو، اور اس شخص کو جنت کے اعلیٰ درجہ میں ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں جس کا اخلاق اچھا ہو"۔
چند دن پہلے میں ایک آرٹیکل لکھا تھا کہ قرب قیامت جھوٹ کا ہرسو تیزی سے پھیل جانا۔ اس ٹاپک میں کافی تفصیل سے ذکر کیا تھا کہ کس طرح ہمارے معاشرے میں جھوٹ پھیل جائے گا۔
اللہ رب العزت سے استدعا ہے کہ کبیرہ گناہ سے بچنے کی ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔