حجاز کی سرزمین پر عذابِ آگ اور اس کی حقیقت
مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا ایمان ہے کہ قیامت ہر صورت آنی ہے۔ یہ دنیا کی زندگی عارضی زندگی ہے اس کو فنا ہونا ہے۔ قیامت کب برپا ہو گی عالم الغیب اللہ رب العزت کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ہاں جتنا علم اللہ نے آپ ﷺ سکھلایا آپ ﷺ کے ذریعے قیامت تک آنے والے انسانوں تک کے لیے وہ رہنمائی موجود ہے۔
آپ ﷺ نے قیامت کی بہت ساری نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔ ان بہت ساری نشانیوں میں سے کچھ ظاہر ہو چکی ہیں، کچھ وقت کے ساتھ ساتھ ظاہر ہورہی ہیں اور کچھ کو ابھی ظاہر ہونا ہے جو اپنے مقررہ وقت پر ظاہر ہونگی۔ قیامت کی بہت ساری چھوٹی نشانیوں میں سے ایک نشانی ارض حجاز سے اٹھنے والی عظیم آگ کا ظاہر ہونا بتایا گیا ہے۔
آپ ﷺ نے بیان فرمایا: "کہ ارض حجاز میں مدینہ منورہ کے قریب ایک عظیم آگ ظاہر ہو گی"۔ کچھ مؤرخین نے وثوق سے لکھا ہے کہ یہ آگ ظاہر ہو چکی ہے۔ اس کے ظاہر ہونے سے پہلے کئی سارے زلزلے آئے جو اس کا پیش خیمہ تھے۔
ابن کثیرؒ بیان کرتے ہیں: "ارض حجاز سے وہ عظیم آگ ظاہر ہو چکی ہے جس سے بصریٰ اور شام کے شہر حوران سے گزرنے والے اونٹوں کی گردنیں روشن ہوگئی تھیں"۔
نبی کریم ﷺ نے اس نشانی کا ذکر کچھ اس طرح سے کیا تھا کہ: "قیامت اس وقت تک ہرگز قائم نہ ہو گی جب تک ارض حجاز سے ایک ایسی آگ ظاہر نہ ہو جائے جس سے بصریٰ کے اونٹوں کی گردنیں روشن ہو جائیں گی"۔
بعض روایات کے مطابق یہ آگ ایک ماہ تک جاری رہی اور بعض کے مطابق یہ آگ تین ماہ تک موجود رہی۔ یہ آگ اللہ کی طرف سے ایک عذاب کی صورت میں نازل ہوئی جس کا اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے کہ یہ آگ کس قدر شدید ہو گی جو لوگوں کی نافرمانیوں کے عوض درپیش آئی۔
کہا جاتا ہے کہ اس آگ اتنی عظیم تھی کہ مدینہ کی خواتین اس کی روشنی میں سوت کاتا کرتی تھیں۔ بعض روایات کے مطابق یہ آگ چار میل لمبی اور چار میل چوڑی اور ڈیڑھ قامت گہری وادی میں بھڑک رہی تھی۔ اس کی حرارت سے پتھر تیزی سے پگھل جاتے تھے۔
حتی کہ جو چیز اس آگ کے راستے آتی وہ راکھ کا ڈھیر بنتی چلی جاتی۔ جس پہاڑ سے لاوا باہر نکل رہا تھا یہ وادی حرہ میں موجود ہے جو آج کل خاموشی کا لبادہ اوڑھے ہوا ہے۔ اللہ کے حکم سے اس کا آتش فشاں 654 ہجری بمطابق 1256 عیسوی میں امڈ کر آیا تھا۔
اس سے پہلے زلزلے کے بہت سے جھٹکے اور ہولناک دھماکے سنائی دئیے گئے تھے۔ ریکارڈ کے مطابق اس آگ سے نکلنے والا لاوا تقریباً 52 کلومیٹر کی مسافت تک جا پہنچا اور اس کی حدیں مدینہ کے موجودہ ائر پورٹ کے جنوبی کنارے تک پہنچ گئیں۔ پگھلاہوا گرم لاوا ایک ایسے مقام پر آکر رک گیا جہاں سے مدینہ منورہ صرف 12 کلومیٹر کی مسافت پر تھا، پھر اللہ کے حکم سے اس کا رخ شمال کی جانب ہو گیا۔
علامہ ابو شامہ فرماتے ہیں: "کہ جمادی الآخرہ 654 ہجری کی تین تاریخ اور بدھ کی رات تھی، جب مدینہ منورہ میں ایک ہولناک گونج سنائی دی، اس کے بعد زلزلہ آیا، اس نے زمین، دیواروں، چھتوں، لکڑیوں اور دروازوں تک کو لرزا دیا۔ یہ سلسلہ ماہ مذکورہ میں بدھ کی رات سے شروع ہو کر جمعتہ المبارک کے دن تک جاری رہا، پھر اس کے بعد ایک عظیم آگ مدینہ کے مقام حرہ میں، جو بنو قریظہ کے قریب تھا، ظاہر ہوئی۔ یہ آگ ہمیں مدینہ میں اپنے گھروں میں بیٹھے نظر آرہی تھی۔ ہمیں یوں محسوس ہوا کہ یہ ہمارے قریب ہی موجود ہے۔ مدینہ کی وادیاں اس آگ سے بھر گئیں۔ آگ ان میں وادی شظا کی جانب یوں چل رہی تھی جس طرح پانی بہتا ہے۔ یہ آگ بلند و بالا عمارات کی طرح بڑی بڑی چنگاریاں پھینک رہی تھی"۔