فرقہ خوارج نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اطاعت سے پیٹھ کیوں پھیر لی؟
قیامت کی بہت سی چھوٹی نشانیوں میں سے ایک، فرقہ خوارج کا ظہور ہے، جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے پیشین گوئی فرمائی تھی۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دو عظیم جماعتیں آپس میں لڑائی نہ کر لیں۔ ان کے درمیان قتل و خونریزی کا ایک عظیم معرکہ بپا ہو گا، حالانکہ دونوں کا مقصد ایک ہی ہو گا۔"
یہ لڑائی جنگ صفین کے نام سے جانی جاتی ہے، جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد 36ھ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان ہوئی۔
خوارج کا ظہور
آپ ﷺ کی وفات کے بعد کچھ گروہوں نے آپ کی تعلیمات کو چھوڑ دیا، جس کی وجہ سے مسلمان فرقوں میں بٹ گئے۔ انہی میں سے ایک فرقہ خوارج تھا، جو دراصل حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گروہ کے ہی کچھ باغی لوگ تھے۔
جب حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان تحکیم (فیصلہ کرنا) کی گئی، تو ان باغیوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اطاعت سے پیٹھ پھیر لی اور "حروراء" نامی ایک بستی (کوفہ کے قریب) میں جمع ہو گئے۔
خوارج کے عقائد
1. گناہ کبیرہ اور کفر
خوارج کے نزدیک وہ شخص جو گناہ کبیرہ (جیسے زنا یا شراب نوشی) میں ملوث ہو، وہ ابدی کافر اور دائمی جہنمی ہے۔ یہ بالکل غلط نظریہ تھا، کیونکہ اسلامی عقیدے کے مطابق گناہ گار فاسق ہوتا ہے، کافر نہیں، بشرطیکہ وہ اللہ کی ذات پر ایمان رکھتا ہو اور توبہ کر لے۔
2. حضرت علی و حضرت معاویہ کو کافر سمجھنا
انہوں نے نہ صرف حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کو کافر قرار دیا، بلکہ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی کافر سمجھا جنہوں نے تحکیم کے فیصلے کی حمایت کی تھی۔
3. فاسق حکمرانوں سے لڑنا جائز
ان کے نزدیک وہ حکمران جو گناہ کرے، اس سے لڑنا جائز ہے، چاہے وہ کفر تک نہ پہنچا ہو۔
4. خود کو اہلِ علم سمجھنا
خوارج خود کو بہت عبادت گزار اور دین دار سمجھتے تھے، حالانکہ ان کی عبادتیں صرف ظاہری تھیں۔
ذی الخویصرہ اور نبی کریم ﷺ کی پیشین گوئی
ایک شخص "ذی الخویصرہ" نامی بنو تمیم سے تعلق رکھتا تھا، جو اپنے آپ کو اہلِ علم سمجھتا تھا۔ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ غنیمت کا مال تقسیم کر رہے تھے کہ اس شخص نے کہا:
"اے محمد! عدل سے تقسیم کیجیے۔"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"تُبّا لک! اگر میں عدل نہ کروں گا تو پھر کون عدل کرے گا؟"
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: "یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے، میں اس کی گردن اڑا دوں۔"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"اسے چھوڑ دو۔ اس کے ساتھی ایسے ہوں گے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلے میں بہت معمولی خیال کرے گا، اور اپنے روزے کو بے وقعت جانے گا۔ یہ قرآن تو بہت پڑھیں گے، مگر قرآن ان کے گلوں سے اُتر کر دلوں تک نہیں پہنچے گا۔ یہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے آرپار نکل جاتا ہے۔"
آپ ﷺ نے ان کی ایک نشانی بھی بتائی:
"ان میں ایک شخص ہو گا جس کا بازو عورت کے پستان کی طرح ہو گا۔"
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کوشش
جب خوارج نے علیحدگی اختیار کی، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں سمجھانے کے لیے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بھیجا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"میں ان سے زیادہ عبادت گزار لوگ نہیں دیکھے۔ ان کی پیشانیاں سجدوں کے نشانات سے بھری تھیں، ہاتھ اونٹ کے گھٹنوں جیسے سخت ہو چکے تھے۔"
انہوں نے خوارج سے پوچھا: "تمہارے اعتراضات کیا ہیں؟"
خوارج نے تین اعتراضات پیش کیے:
انسانوں کو حکم بنانا
"اللہ نے فرمایا: 'حکم صرف اللہ کا ہے'، پھر آپ نے انسانوں کو حکم بنایا؟"
لڑائی کرنا، مگر غنیمت نہ لینا
"اگر وہ مومن تھے، تو ان سے لڑنا کیسے جائز ہوا؟ اور اگر کافر تھے، تو غنیمت کیوں نہیں لی؟"
امیر المومنین کا لفظ حذف کرنا
"آپ نے تحکیم کے معاہدے میں 'امیر المومنین' کا لفظ مٹا دیا، کیا آپ امیر الکافرین ہیں؟"
ابن عباس کا جواب
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ہر اعتراض کا منطقی اور قرآنی جواب دیا:
- تحکیم کا مطلب اللہ کے حکم کو چھوڑنا نہیں، بلکہ اختلاف کو ختم کرنے کا ایک وسیلہ تھا۔
- جنگ کے بعد غنیمت نہ لینا بے گناہ مسلمانوں کا خون بچانے کی خاطر تھا، کیونکہ دونوں فریق مسلمان تھے۔
- لفظ "امیر المومنین" کا حذف صلح کے لیے تنازعہ ختم کرنے کا ایک انتظامی فعل تھا، نہ کہ عقیدے کی تردید۔
اس مناظرے کے نتیجے میں دو ہزار خوارج تائب ہو گئے، جبکہ باقی ہٹ دھرمی پر اتر آئے۔
خوارج کی سرکشی اور نہروان کی جنگ
خوارج نے معاشرے میں فساد برپا کر دیا۔ وہ ہر راستے پر لوگوں کو تنگ کرتے، اور جو بھی مسلمان گزرنا چاہتا، اسے مار ڈالتے۔
انہوں نے صحابی رسول حضرت عبداللہ بن خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا اور ان کی حاملہ بیوی کا پیٹ چیر دیا۔
جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: "کس نے قتل کیا؟"
تو انہوں نے جواب دیا: "ہم سب نے مل کر قتل کیا ہے۔"
اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نہروان کے مقام پر ان کے خلاف جنگ کی، جس میں خوارج کو سخت شکست دی گئی اور ان کا فتنہ ختم ہو گیا۔
نتیجہ
خوارج کا فتنہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دین کی ظاہری عبادتیں اور انتہا پسندی، بغیر علم اور رحمت کے، انسان کو گمراہی کے راستے پر لے جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں خوارج جیسی گمراہیوں اور فتنوں سے محفوظ رکھے اور ہمیں قرآن و سنت کی روشنی میں چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔