دوستو! اللہ کے نبی حضرت محمد ﷺ نے قیامت کی جو نشانیاں اپنی امت کو بتلائی ہیں ان میں سے بہت ساری اس دنیا فانی میں واضح ہو چکی ہیں اور کچھ ابھی اپنے وقت مقرر پر واضح ہونا باقی ہیں۔
قرب قیامت کی جس نشانی پر آج میں بات کرنے جا رہا ہوں "عرب کے فاقہ زدہ چرواہوں کا عالیشان اور بلند و بالا عمارتیں تعمیر کرنا" نا صرف پوری طرح واضح ہو چکی ہے بلکہ ترقی کے نام پر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں شامل ہو رہے ہیں۔
یہ وہی لوگ ہیں جو برہنہ پا، فاقہ زدہ، ننگے پاوں، ننگے جسموں کے ساتھ بکریاں چرایا کرتے تھے آج عالیشان عمارات بنانے اور اپنے گھروں کی زینت و آرائش کے کام میں اس قدر مشغول اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اپنی بلند و بالا عمارات پر فخر و مباہات کا اظہار کرنے کے جوہر دکھانے میں مصروف عمل نظر آتے ہیں۔
کتب تاریخ کے سینوں میں مسلمانوں کے عروج وزوال کی داستانیں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہیں، جب تک مسلمان قرآن و حدیث کے بتائے ہوئے احکامات پر چلتے ہوئے اپنی تلواروں کو دشمنوں کے خون سے رنگتے رہے اور اسلام کا پیغام پہنچاتے رہے تب تک وہ دنیا پر فاتح اور غالب رہے۔
لیکن جیسے ہی مسلمانوں کی فتوحات کا دارومدار کفر وایمان کی بجائے دنیا کی مال ودولت جمع کرنے کے گرد گھومنا شروع ہوا، تلواروں کو رنگ لگنا شروع ہوتا چلا گیا، لوگ جذبہ ایمانی سے خالی ہو کر، آنکھوں میں بے غیرتی، بے حسی اور بے شرمی کا خنجر لیے لوگوں کی قبروں پر بلند و بالا عمارات بناتے چلے گئے۔
ایک روایت کے مطابق حضرت جبریل امین نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے اسلام، ایمان، احسان اور پھر قیامت کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے انھیں قیامت کی علامات کے بارے میں مطلع کرتے ہوئے فرمایا: "یہ کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے گی اور تو دیکھے گا کہ برہنہ پا، ننگے بدن فاقہ زدہ چروا ہے (اس قدر دولتمند ہو جائیں گے کہ) بلند و بالا عمارتوں کے بنانے میں ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کریں گے"۔
اسی طرح یہ بات ایک دوسری روایت میں بیان کی گئی ہے! "جب تو برہنہ پا، بھوکے اور فاقہ کشوں کو لوگوں کا سردار بنتے دیکھے تو سمجھ لینا کہ یہ قیامت کے آثار اور علامات میں سے ہے۔" آپ ﷺ سے پوچھا گیا: یارسول اللہ! یہ بھوکے، ننگے اور فاقہ کش بکریوں والے کون لوگ ہوں گے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: "عرب"۔
دوستو! گھر بنانا، عمارتیں تعمیر کرنا اور انھیں بلندی تک لے جانا کوئی حرام کام نہیں، اسلام نے کسی قسم کی کوئی شرط عائد نہیں کی اور نہ ہی پابندی عائد کی، خصوصاً جب ان میں تجارتی فوائد ہوں غرض یہ کہ ان تعمیرات کو محض فخر و غرور اور تکبر کے لیے تعمیر نہ کیا گیا ہو۔
عمارات کی تعمیر میں (زیادتی) دو طرح سے ہو سکتی ہے: ایک یہ کہ عمارات کئی کئی منزلیں بنا کر بے تحاشا بلند کرنا اور دوسرا انھیں خوب سجانا، مضبوط کرنا، منقش کرنا، وسیع کرنا، ان میں کثرت سے مجالس اور ملحقہ عمارات بنانا یہ سب کچھ موجودہ زمانے میں امر واقع کے طور پر موجود ہے، (بالکل ویسے جیسے کہ ہم آج کل اپنی مسجدوں کو دیکھ لیں، لوگ ایمان سے تو خالی ہو گئے ہیں لیکن مساجد خوبصورت، منقش، وسیع ہو گئی ہیں) جبکہ لوگوں کے پاس اموال کی کثرت ہو چکی ہے اور لوگوں پر دنیا کے دروازے کھول دیے گئے ہیں۔
آج کل لوگ اس قدر مصروف ہیں کہ اردگرد کے لوگوں کا پتہ ہی نہیں کہ شاید ان کو ایک وقت کا کھانا بھی میسر ہے یا نہیں، صلہ رحمی کی بجائے قطع رحمی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ لوگ اپنے قریبی رشتہ داروں سے بات کرنا اس لیے گوارا نہیں کرتے کہ ان کا گھر چھوٹا ہے اور ہمارا بڑا، ان کی حیثیت ہمارے برابر نہیں، ان کا کاروبار کمتر اور ہمارا کاروبار وسیع پیمانے پر پھیلا ہے۔
ہم نے اپنے مراسم بھی ایسے لوگوں سے وابستہ کر لیے ہیں جو ہماری طرح اونچی شان وشوکت کا مالک ہو، رسموں رواج، اور اونچ نیچ کی دیواروں کو ہم نے اپنے اردگرد اتنا مضبوطی سے کھڑا کر لیا ہے کہ اب ہم یہ سوچنے پر مجبور نظر آتے ہیں کہ ان کھوکھلی، اور بناوٹی دیواروں کو گرا دیا تو لوگ کیا کہیں گے۔ ہم یہ بھول جاتے کہ اس ضمن میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے کیا تعلیمات دی ہیں۔
لبِ لباب یہ ہے کہ عرب کے باشندے صحراؤں کے ان پڑھ بدو جو بکریاں چرانے والے تھے، صحراؤں کو چھوڑ کر شہروں کی طرف رخ کریں گے اور اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں مبالغہ آرائی کریں گے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی مقابلہ بازی کریں گے، گھروں، دکانوں اور پلازوں کی یہ سب تعمیر فخر و غرور اور تکبر کے لیے ہوگی۔ ہر شخص کی یہ خواہش ہو گی کہ اس کی عمارت دوسری تمام عمارات سے زیادہ بلند ہو اور خوبصورت ہو، آج کے زمانے میں عربوں میں بھی اور غیر عربوں میں بھی عمارتوں کی تعمیر میں مبالغے کا رواج عروج پر ہے (اوپر دی گئی حدیث میں صرف عرب کے لیے ہی نہیں کہا گیا بلکہ ہر اس شخص کے لیے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ جو بھی تعمیرات محض دکھلاوے کے لیے کرے گا وہ اس زمرے میں آتا ہے)۔
اور نہ صرف انفرادی سطح کے افراد بلکہ حکومتیں بھی اس دوڑ میں شامل ہو گئی ہیں۔ اور وہ بھی کمرشل پلازوں کے بنانے اور ان پر فخر و غرور کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ (اللہ پاک ہم سب کو ظاہری و پوشیدہ گناہوں سے پاک فرمائے اور رعایا کاری سے بچائے۔ آمین)