عرب دنیا میں بت پرستی کا دوبارہ آغاز

عرب دنیا میں بت پرستی کا دوبارہ آغاز

عرب دنیا میں بت پرستی کا دوبارہ آغاز

1- عرب کے موجودہ حالات

عرب ممالک کی تاریخ اور ثقافت اسلامی تعلیمات پر مبنی ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں ان ممالک میں مختلف سماجی، معاشرتی، اور مذہبی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ خاص طور پر کچھ عرب ممالک جیسے دبئی اور سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں میں مذہبی روایات میں تبدیلیاں اور مختلف نئے رجحانات نظر آ رہے ہیں۔

ایک وقت تھا جب یہ ممالک سخت اسلامی قوانین کے تحت چلتے تھے، اور وہاں بت پرستی کا کوئی وجود نہیں تھا۔ لیکن موجودہ حالات میں، ان ممالک میں غیر مسلم اور مغربی ثقافت کا اثر بڑھ رہا ہے اور اسلامی تعلیمات کو کمزور کیا جا رہا ہے۔

اللہ کے نبی حضرت محمد ﷺ نے متعدد پیشین گوئیاں فرمائی ہیں کہ اہل عرب کے لیے ہلاکت ہے، کہیں عمارتوں کے حوالے سے، کہیں جنگوں کے حوالے سے، کہیں سرزمین کے حوالے سے، کہیں لالچ اور فسادات کے حوالے سے، غرض یہ کہ اہل عرب اللہ کی شدید ناراضگی اور پکڑ سے دوچار ہوں گے۔

وہ سرزمین جو شرک اور بت پرستی کا گڑھ تھی اور بت پرستی اپنے پورے جوبن پر تھی۔ مگر اللہ رب العزت نے اپنے پیارے حبیب کو توفیق عطا فرمائی اور اپنے لشکروں سے ان کی مدد کی حتی کہ انھوں نے تمام بتوں کا خاتمہ کر دیا اور اللہ رب العزت کی توحید کا علم بلند کر دیا۔

2- حالہی میں دبئی اور خلیجی ریاستوں میں مندروں کا بننا اور اللہ کی ناراضگی کے آثار

دبئی اور دوسری خلیجی ریاستوں میں حالیہ دنوں میں مندروں کی تعمیر کا عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جو کبھی اسلامی تعلیمات کے عین مطابق چلتے تھے، لیکن اب وہاں بتوں کی پوجا کے لیے خصوصی جگہیں وقف کی جا رہی ہیں اور ان کی مذہبی رسومات میں بھی بڑا اہتمام دکھائی دیتا ہے۔ یہ تبدیلیاں اس بات کی نشانی ہیں کہ ان ممالک میں اسلامی روایات اور اقدار کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

قرآن اور احادیث کے مطابق، بت پرستی اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے اور یہ عمل اللہ کی ناراضگی کا سبب بنتا ہے۔ حالیہ دنوں میں سمندری طوفانوں، بارشوں اور سیلابوں کو اللہ کی ناراضگی کے آثار کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ایسی بارشوں کا برسنا جس سے محض نقصان ہو، جب کسی قوم کے اعمال اللہ کی مرضی کے خلاف ہوتے ہیں، تو وہ قوم قدرتی آفات کا شکار ہوتی ہے۔ ان آفات کا مقصد انسانوں کو تنبیہ کرنا اور انہیں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنے کا موقع دینا ہوتا ہے۔

3- اسلام اور قرآن کا معدوم ہونا

اسلام اور قرآن کے اصولوں کا معدوم ہونا بھی ان تبدیلیوں کا ایک نتیجہ ہے۔ عرب ممالک، جو کبھی اسلامی دنیا کے مرکز تھے، اب ان میں مغربی ثقافت اور خیالات کا غلبہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ ایسے ممالک میں جہاں قرآن اور سنت کو زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کے طور پر اپنایا جاتا تھا، اب وہاں اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے۔

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور یہ انسانیت کی رہنمائی کے لیے نازل کیا گیا تھا۔ جب لوگ اس کلام کو چھوڑ کر دوسرے نظریات اور عقائد کو اپنانے لگتے ہیں، تو وہ اللہ کی رحمت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ قرآن اور اسلام کے اصولوں کا معدوم ہونا انسانیت کے لیے ایک بڑے نقصان کی علامت ہے، اور اس کا اثر دنیا بھر میں مسلمانوں پر پڑے گا۔

قرب قیامت جب اسلام اور قرآن دونوں کو اٹھا لیا جائے گا تو محض اندھیرے اور گمراہی کے علاوہ کچھ باقی نہ رہے گا۔ نہ کوئی امید کی روشنی ہو گی اور نہ ہی کوئی راہ ہدایت نصیب ہو گی۔

4- اہل عرب کے لئے ہلاکت کی وعید

اسلامی تعلیمات کے مطابق، اہل عرب کے لیے یہ ایک بڑی تنبیہ ہے کہ اگر وہ اللہ کی طرف سے دی گئی ہدایات سے ہٹ کر بت پرستی جیسے شرک کے کاموں میں ملوث ہو جائیں گے تو انہیں سخت عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قرآن اور احادیث میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ جو قوم اللہ کے احکامات کو چھوڑ کر شرک اور بدعت میں مبتلا ہوتی ہے، اس کے لیے ہلاکت کی وعید ہے۔

اہل عرب، جو اسلامی تاریخ کے اولین محافظ اور حامل تھے، ان کے لیے یہ ایک بڑی آزمائش کا وقت ہے۔ اگر وہ دوبارہ بتوں کی پوجا شروع کرتے ہیں اور اسلامی اصولوں کو نظر انداز کرتے ہیں، تو یہ ان کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں تباہی کا سبب بنے گا۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک بڑی آزمائش ہے اور انہیں جلد از جلد ایسے راستوں کو، ایسے فیصلوں کو، ایسے قوانین کو ترک کرنا چاہیے جو محض اللہ کی ناراضگی کا سبب بنیں۔

یوں تو عرب ممالک میں مندروں کی موجودگی کئی دہائیوں سے ہے، نہ صرف متحدہ عرب امارات بلکہ عمان اور بحرین میں بھی۔ بحرین کے دارالحکومت منامہ میں شریناتھ جی کا مندر ایک سو سے زیادہ پرانا ہے، جسے سندھی ہندو برادری نے بنایا تھا، جو تقسیم ہند سے پہلے ٹھٹھہ (اب پاکستان کے صوبہ سندھ) سے آئے تھے۔

سعودی عرب میں رہنے والے اور کام کرنے والے بہت سے ہندو بھی خاص موقعوں پر اس مندر میں عبادت کرنے آتے ہیں۔ عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہندوؤں کے دو مندر ہیں۔ ایک موتیشور مندر ہے، جو بھگوان شنکر کا ہے اور پرانے مسقط کے مطره علاقے میں واقع ہے۔ یہ مندر مشرق وسطیٰ کے قدیم ترین ہندو مندروں میں سے ہے اور 125 سال سے زیادہ پرانا سمجھا جاتا ہے۔

دوسرا مندر مسقط کے روئی علاقے میں ہے، جو کرشن اور شنو کا ہے اور 150 سال پرانا ہے۔ عمان کے سلطان نے یہ مندر گجراتی برادری کے لیے دوستی کے نشان کے طور پر بنوایا تھا۔ دبئی کی انڈین کمیونٹی میں جنوبی ہندوستانیوں کے علاوہ سندھی، مراٹھی، گجراتی، پنجابی اور دیگر برادریاں بھی رہتی ہیں، اور وہاں مختلف مذاہب کی عبادت گاہیں کئی دہائیوں سے موجود ہیں۔ مذہبی تقریبات اور تہوار عموماً انہی مندروں میں منائے جاتے ہیں، اور دیوالی کے رات دبئی اور آس پاس کے شہروں میں انڈیا کی طرح چراغاں ہوتا ہے۔

5- اللہ کی ذات پر یقین ختم ہو جانا جس کی وجہ سے لوگ دوبارہ بتوں کی پوجا کرنا شروع کر دیں گے

اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سب سے اہم اللہ کی وحدانیت پر ایمان ہے۔ جب کسی قوم کا اللہ پر ایمان کمزور پڑ جاتا ہے تو وہ دوسرے باطل نظریات اور عقائد کی طرف مائل ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں، عرب ممالک میں اللہ کی ذات پر یقین اور ایمان میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے، جس کی وجہ سے وہاں بت پرستی جیسے شرک کے اعمال دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں۔

جیسا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جبتک قبیلہ دوس کی خواتین کی سرینیں 'ذو الخلصہ' کے ارد گرد حرکت نہ کرنے لگیں۔" "ذو الخلصہ" ایک بت کا نام ہے، جس کی پوجا قبیلہ دوس کے لوگ دور جاہلیت میں کیا کرتے تھے۔ مطلب یہ کہ ان کی خواتین اس بت کے گرد طواف کرنے کے باعث متحرک نظر آئیں گی۔ یعنی اس قبیلے کے لوگ اسلام سے مرتد ہو کر بتوں کی پوجا اور ان کی تعظیم کی طرف لوٹ جائیں گے۔

یاد رہے قبیلہ دوس ایک قدیم عرب قبیلہ ہے جو یمن کے علاقے میں آباد تھا۔ یہ قبیلہ اپنی بہادری، مہمان نوازی اور فصاحت و بلاغت کے لیے مشہور تھا۔ قبیلہ دوس کے سردار طفیل بن عمرودوسی نے اسلام کے ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا اور قبیلے کو بھی اسلام کی دعوت دی۔ طفیل بن عمرودوسی نے اپنی قوم کے اندر اسلام کے پیغام کو عام کیا اور ان کی کوششوں سے قبیلے کے کئی افراد نے اسلام قبول کیا۔

قبیلہ دوس، جیسے دیگر عرب قبائل، اسلام سے پہلے جاہلیت کے دور میں بت پرستی کرتا تھا۔ اس دور میں، عربوں میں بت پرستی عام تھی، اور ہر قبیلے کے اپنے مخصوص بت ہوتے تھے جن کی وہ عبادت کرتے تھے۔ قبیلہ دوس بھی اس روایت کا حصہ تھا۔ بت پرستی ان کے روزمرہ کے معمولات اور عقائد کا حصہ تھی، اور وہ اسے اپنے آباؤاجداد سے وراثت میں ملے مذہب کے طور پر اپنائے ہوئے تھے۔ جب اسلام کا پیغام ان تک پہنچا تو قبیلہ دوس نے اسلام قبول کر لیا اور بت پرستی کو ترک کر دیا۔ تاہم، ابتدائی دور میں بت پرستی ان کی تاریخ کا ایک حصہ رہی، جو جاہلیت کے دور کی علامت تھی۔

قرب قیامت یہی قبیلہ اور ارد گرد کے دوسرے عرب قبائل پھر سے بت پرستی کی طرف مائل ہوں گے اور پھر سے اپنے دادا، دستگیر اور مشکل کشا اور نذر و نیاز کا سلسلہ پھر سے رائج ہو گا۔ چونکہ خون میں بت پرستی موجود ہے اس ضمن میں عرب پھر سے اس دور میں چلا جائے گا جہاں سے اللہ کے حکم سے آپ ﷺ نے ان کو نکالا تھا۔

بت پرستی وہ عمل ہے جو اسلامی تعلیمات کے عین مخالف ہے۔ اسلام نے ہمیشہ اللہ کی وحدانیت کو بنیاد بنایا ہے اور شرک کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا ہے۔ جب لوگ اللہ پر یقین ختم کر دیتے ہیں اور اس کی جگہ بتوں یا دوسرے باطل خداؤں کی پوجا شروع کر دیتے ہیں، تو وہ گمراہی کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔ عرب ممالک میں حالیہ برسوں میں یہ رجحان دیکھنے کو ملا ہے کہ لوگ دوبارہ بتوں کی پوجا کی طرف مائل ہو رہے ہیں، جو کہ ایک بہت بڑی گمراہی کی علامت ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ دین سے دوری ہے اور خرافات کا بول بالا ہے۔ سوشل میڈیا، موویز، ڈرامے، سٹیج شوز یہ سب مسلمانوں کی بربادی کا منہ بولا ثبوت ہے۔

خلاصہ

بعض عرب قبائل کا دوبارہ بتوں کی پوجا شروع کرنا اسلامی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے۔ یہ عمل اللہ کی ناراضگی کا سبب بن سکتا ہے اور ان کے لیے دنیا اور آخرت میں ہلاکت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ موجودہ حالات میں دبئی اور سعودی عرب جیسے ممالک میں مندروں کی تعمیر اور بت پرستی کے رجحانات کا بڑھنا اس بات کی نشانی ہے کہ اسلامی اصولوں کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس گمراہی سے بچنے کی کوشش کریں اور اللہ کی وحدانیت پر یقین کو مضبوط رکھیں تاکہ وہ اللہ کی رحمت کے مستحق بن سکیں۔