محترم قارئین کرام! آج کا ٹاپک لکھتے ہوئے بہت شرم اور تکلیف محسوس ہورہی ہے کیونکہ یہ نشانی بھی قیامت کی ان بہت ساری نشانیوں میں سے ایک ہے جو آج کے زمانے میں اپنے عروج پر ہے۔ اور جس کی پیشن گوئی آپ ﷺ نے فرمائی تھی۔
پہلا حصہ: والدین کی بے حرمتی کا عام ہونا
دورِ حاضر کی یہ نشانی اپنے پورے جوبن پر ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مزید تیز ہوتی چلی جارہی ہے۔ آج جس اخبار یا نیز چینلز کو دیکھیں تو ماں جیسی ہستی کی بے حرمتی کی خبریں چینلز کی زینت بنی ہوتی ہیں۔ کہیں پہ جائیداد کے عوض ماں کا قتل، تو کہیں بیوی کی ناچاقی کے عوض ماں کو گھر سے بے دخل کر دیا جاتا ہے، اولاد تھوڑا سا پڑھ لکھ جائے تو وہ اپنے والدین کی عزت کرنا بھول جاتے ہیں ناصرف بھول جاتے ہیں بلکہ ان کو اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے، اور جس عمر میں اس کو آرام کرنا چاہیے وہ بڑھاپے کی وجہ سے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی پائی جاتی ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ ماں کے ساتھ بدسلوکی کی مثالیں بھی تیز ہوتی جارہی ہے جبکہ دوسری طرف لوگ اپنے بچوں کی شادیوں کے وقت عجیب وغریب شرائط طے کرتے نظر آتے ہیں۔ جن میں سے ایک تو بہت عام ہے کہ شادی کے بعد لڑکا اور لڑکی الگ گھر میں رہیں گے جبکہ ماں باپ کا حق ادنی سا رہ جاتا ہے۔
دوسرا حصہ: ماں کی تنہائی اور بیوی کی اطاعت
ہم دیکھتے ہیں کہ گھر میں ماں بالعموم تنہا اور افراد خانہ سے الگ تھلگ رہتی ہے۔ اس کی اولاد کم ہی اس کی زیارت و ملاقات کرتی ہے۔ جبکہ آدمی کی بیوی اور بچے اس کے ساتھ عزت اور آسودگی کی زندگی سے لطف اندوز ہوتے اور سیرو سیاحت میں مشغول رہتے ہیں۔ اگر ماں اور باپ اولاد کے ساتھ گھر میں اکٹھے رہتے ہوں تو ان کے لیے بالعموم وہ انتظام و اہتمام دیکھنے میں نہیں آتا جو دوسرں کے لئے کیا جاتا ہے۔
تیسرا حصہ: معاشرتی بگاڑ اور اسلامی تعلیمات
اہل مغرب کا آج یہ نعرہ ہے کہ عورت آزاد ہونی چاہیے جبکہ اسلام نے عورت کو پردے میں محفوظ رہنے کا حکم دیا ہے۔ جب عورت آزاد ہوتی ہے تو معاشرے میں بے حیائی، عریانی اور فحاشی کو جنم دیتی ہے۔ کیونکہ مرد و عورت کو اسلام نے اپنی اپنی حدود بیان کی ہے جس کو توڑنے کی صورت میں معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ جو نسل در نسل پروان چڑھتا چلا جاتا ہے۔ اور جس میں بگاڑ پیدا ہوجائے وہ ٹھیک نہیں ہوتا بلکہ روز بروز اللہ کے عذاب کو دعوت دیتا چلا جاتا ہے۔
ڈراموں، فلموں میں دکھائے جانے والے کردار اسی پس منظر کی عکاسی کرتے دکھائی دیتے ہیں، گھر گھر میں ٹی وی، کیبل اور انٹرنیٹ کے ذریعے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ساس، سسر آنے والی بہو کے دشمن ہوتے ہیں اس لئے پہلے سے ہی ذہنی طور پر تیار ہوتی ہے جس سے مسائل بڑھتے ہیں اور نتیجہ قتل وغارت تک جاتا ہے۔
جن گھروں میں یہ عظیم ہستیاں نہیں رہتیں ان گھروں کی مثال قبرستان سے دی جاتی ہے یا صحرا میں کھڑا تن تنہا درخت کے مانند ہوتا ہے جس کے نا تو پھل کسی کو کوئی فائدہ دے سکتے ہیں اور نا چھاؤں۔ میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ بیوی کی کوئی اہمیت نہیں ہے، نہیں بلکہ بیوی کے اپنے حقوق ہیں جو کہ اس کے شوہر کے ذمہ ہیں اور اللہ نے پورے کرنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ بیوی کے کہنے پر آپ ماں باپ جیسی ہستی کی بے حرمتی کرنا شروع کردیں۔