محترم قارئین کرام! آج کا ٹاپک لکھتے ہوئے بہت شرم اور تکلیف محسوس ہورہی ہے کیونکہ یہ نشانی بھی قیامت کی ان بہت ساری نشانیوں میں سے ایک ہے جو آج کے زمانے میں اپنے عروج پر ہے۔ اور جس کی پیشن گوئی آپ ﷺ نے فرمائی تھی۔

آپ ﷺ نے فرمایا: "جب فے کا مال آپس میں بانٹ لیا جائے، آدمی اپنی بیوی کی اطاعت اور ماں کی نافرمانی کرے، دوست کو قریب اور باپ کو دور کرے۔۔۔۔۔۔۔"

دورِ حاضر کی یہ نشانی اپنے پورے جوبن پر ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مزید تیز ہوتی چلی جارہی ہے۔ آج جس اخبار یا نیز چینلز کو دیکھیں تو ماں جیسی ہستی کی بے حرمتی کی خبریں چینلز کی زینت بنی ہوتی ہیں۔ کہیں پہ جائیداد کے عوض ماں کا قتل، تو کہیں بیوی کی ناچاقی کے عوض ماں کو گھر سے بے دخل کر دیا جاتا ہے، اولاد تھوڑا سا پڑھ لکھ جائے تو وہ اپنے والدین کی عزت کرنا بھول جاتے ہیں ناصرف بھول جاتے ہیں بلکہ ان کو اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے، اور جس عمر میں اس کو آرام کرنا چاہیے وہ بڑھاپے کی وجہ سے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی پائی جاتی ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ ماں کے ساتھ بدسلوکی کی مثالیں بھی تیز ہوتی جارہی ہے جبکہ دوسری طرف لوگ اپنے بچوں کی شادیوں کے وقت عجیب وغریب شرائط طے کرتے نظر آتے ہیں۔ جن میں سے ایک تو بہت عام ہے کہ شادی کے بعد لڑکا اور لڑکی الگ گھر میں رہیں گے جبکہ ماں باپ کا حق ادنی سا رہ جاتا ہے۔

"اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت مت کرو، اور تم (اپنے) ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جاویں، سو ان کو کبھی (ہاں سے) ہوں بھی مت کرنا اور نہ ان کو جھڑکنا، اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا، اور ان کے سامنے شفقت سے، انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا کہ اے پروردگار ان دونوں پر رحمت فرمائیں جیساکہ انہوں نے مجھ کو بچپن میں پالا پرورش کیا ہے"

ہم دیکھتے ہیں کہ گھر میں ماں بالعموم تنہا اور افراد خانہ سے الگ تھلگ رہتی ہے۔ اس کی اولاد کم ہی اس کی زیارت و ملاقات کرتی ہے۔ جبکہ آدمی کی بیوی اور بچے اس کے ساتھ عزت اور آسودگی کی زندگی سے لطف اندوز ہوتے اور سیرو سیاحت میں مشغول رہتے ہیں۔ اگر ماں اور باپ اولاد کے ساتھ گھر میں اکٹھے رہتے ہوں تو ان کے لیے بالعموم وہ انتظام و اہتمام دیکھنے میں نہیں آتا جو دوسرں کے لئے کیا جاتا ہے۔

جیسا کہ حدیث میں ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "کبیرہ گناہوں میں سے یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے والدین کو گالی دے، لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا کوئی آدمی اپنے والدین کو گالی بھی دے سکتاہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جی ہاں! آدمی کسی دوسرے کے والد کو گالی دیتاہے تو وہ بھی اس کے والد کو گالی دیتاہے، اور یہ دوسرے کی ماں کو گالی دیتاہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتاہے"۔

ایک اور مقام پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے والدین کا مطیع و فرماں بردار ہو تو اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور اگر والدین میں سے کوئی ایک (حیات) ہو (اور وہ اس کا مطیع ہو) تو ایک دروازہ کھول دیا جاتاہے۔ اور جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ وہ اپنے والدین کا نافرمان ہو تو اس کے لیے صبح کے وقت جہنم کے دو دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور اگر والدین میں سے کسی ایک کا نافرمان ہو تو ایک دروازہ جہنم کا کھول دیا جاتاہے۔ ایک شخص نے سوال کیا: اگرچہ والدین ظلم کریں؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگرچہ وہ دونوں اس پر ظلم کریں، اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں، اگرچہ وہ اس پر ظلم کریں"۔

اہل مغرب کا آج یہ نعرہ ہے کہ عورت آزاد ہونی چاہیے جبکہ اسلام نے عورت کو پردے میں محفوظ رہنے کا حکم دیا ہے۔ جب عورت آزاد ہوتی ہے تو معاشرے میں بے حیائی، عریانی اور فحاشی کو جنم دیتی ہے۔ کیونکہ مرد و عورت کو اسلام نے اپنی اپنی حدود بیان کی ہے جس کو توڑنے کی صورت میں معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ جو نسل در نسل پروان چڑھتا چلا جاتا ہے۔ اور جس میں بگاڑ پیدا ہوجائے وہ ٹھیک نہیں ہوتا بلکہ روز بروز اللہ کے عذاب کو دعوت دیتا چلا جاتا ہے۔

ڈراموں، فلموں میں دکھائے جانے والے کردار اسی پس منظر کی عکاسی کرتے دکھائی دیتے ہیں، گھر گھر میں ٹی وی، کیبل اور انٹرنیٹ کے ذریعے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ساس، سسر آنے والی بہو کے دشمن ہوتے ہیں اس لئے پہلے سے ہی ذہنی طور پر تیار ہوتی ہے جس سے مسائل بڑھتے ہیں اور نتیجہ قتل وغارت تک جاتا ہے۔

ماں جیسی عظیم ہستی کا تقدس ان لوگوں سے پوچھیں جن کا آنگن والدین کی دعاؤں سے خالی اور ویران پڑا ہوتا ہے۔ اسلام نے عورت کو صرف ایک مرد کی خدمت کا حکم دیا ہے اور بدلے میں اس ماں کے بطن سے نکلی اولاد کو اس کا ماتحت بنایا ہے اور ان کے جنت ماں کے پاؤں کے نیچے رکھ دی۔ اہل علم لوگ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ماں باپ کی عظمت کیا ہے۔

جن گھروں میں یہ عظیم ہستیاں نہیں رہتیں ان گھروں کی مثال قبرستان سے دی جاتی ہے یا صحرا میں کھڑا تن تنہا درخت کے مانند ہوتا ہے جس کے نا تو پھل کسی کو کوئی فائدہ دے سکتے ہیں اور نا چھاؤں۔ میں ہرگز یہ نہیں کہتا کہ بیوی کی کوئی اہمیت نہیں ہے، نہیں بلکہ بیوی کے اپنے حقوق ہیں جو کہ اس کے شوہر کے ذمہ ہیں اور اللہ نے پورے کرنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ بیوی کے کہنے پر آپ ماں باپ جیسی ہستی کی بے حرمتی کرنا شروع کردیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس گناہ کبیرہ سے بچائے اور اپنے والدین کے سائے میں رکھے۔ اللہ رب العزت ہم سب کو ماں باپ کی عزت اور خدمت کرنے کی توفیق عطا کرے۔۔۔۔ آمین