دوستو! لفظ فاسق اور فاجر دونوں ہی عربی زبان سے اردو زبان میں شامل ہوئے ہیں۔ دونوں کا مطلب بھی تقریباً ملتا جلتا ہے۔ فاجر کا مطلب ایسا شخص جو گناہ کی لت میں لت پت ہو، گنہگار شخص، حق بات سے منہ موڑنے والا، جبکہ فاسق ایسے شخص کو کہتے ہیں جو اللہ رب العزت کی اطاعت سے دور ہو گیا ہو، حرام کام ارتکاب ہو، غیر عادل شخص، اللہ رب العزت کی نافرمانی کرنے والا، شرعی حدود کو توڑنے والا، ایسا شخص جو سب کچھ جانتے ہوئے بھی کہ میں جو کر رہا ہوں وہ درحقیقت غلط ہے اور پھر بھی خواہشات کی تکمیل کے لیے گناہ کی لت میں گر جانا فاسق کے زمرے میں آتا ہے۔ جیسے اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا "اور جو لوگ نافرمان ہوئے سو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ وہ جب بھی اس سے نکل بھاگنے کا ارادہ کریں گے تو اس میں لوٹا دیئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اِس آتشِ دوزخ کا عذاب چکھتے رہو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے"

کچھ عرصہ قبل میں نے آرٹیکل لکھے تھے۔ قوم کی قیادت گھٹیا اور فاسق لوگوں کے ہاتھوں میں کیوں ہو گی"، آج کا عنوان بھی انھی سے ملتا جلتا ہے جو آپ سب کے گوش گزار کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ آپ ﷺ نے جن قیامت کی جن نشانیوں کا ذکر فرمایا تھا ان بہت سی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ فسق و فجور کا ارتکاب کرے یا پھر عاجز، کمزور، مفلس، بنیاد پرست ہونے کا الزام قبول کرے، یعنی اس کو بزدل، کمزور، عاجز ہونے کا طعنہ دیا جائے گا۔ ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا "لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں آدمی کو بدکاری، یا رماندگی میں سے ایک کے انتخاب کا اختیار دیا جائے گا، جو شخص اس زمانے کو پائے اسے چاہیے کہ عاجز بن جائے مگر فاسق و فاجر نہ بنے"۔

دوستو! اس روایت کے مطابق یہ علامت صغریٰ پوری طرح سے ہمارے موجودہ دور میں ظاہر ہو چکی ہے۔ ایسا لاکھوں اندیا میں ایک مسلمان لڑکی کی حجاب کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی یعنی جو عورت حجاب کی پابندی کرتی ہے اسے طعنہ دیا جاتا ہے کہ وہ رجعت پسند اور عاجز خاتون ہے، اسی طرح بےحیائی پھیلانے والے ٹی وی چینل نہ دیکھنے والے کو بھی اسی طرح کے طعنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ یہ شخص ترقی پسند نہیں، زمانے کے ساتھ نہیں چلتا، قدامت پسند ہے، وغیرہ، ہمارے ارد گرد معاشرے میں نظر دوڑائیں تو رشوت خوری، سفارش، قتل و غارت، خونریزی، بدعنوانی، چوری چکاری، ڈاکہ زنی، ناحق زمین پر قبضہ کرنا، عادل کا عدل نہ کرنا، قبر پرستوں اور مزارات پر چادر نہ چڑھانا، ان سب کو کسے نیک راستے کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ اگر آسان الفاظ میں سمجھاؤں تو آدمی کو دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرنے کا فیصلہ کرنا پڑتا ہے یا تو وہ بھیانہ کی طرح فسق و فجور اور بدکاری میں شریک ہو جائے اور لوگوں کی لعن طعن، طعن و تشنیع سے پاک ہو جائے، یا پھر اللہ رب العزت کو راضی کرنے کے لیے خود پر کمزور، قدامت پرستی، فرسودہ سوچ، بنیادی پرست ہونے کا الزام برداشت کر لے مگر یاد رہے گناہ کی دلدلی، نافرمانیوں والی زندگی سے دور رہے، اور ایسے لوگوں سے بھی دور رہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات و تعلیمات کی دھجیاں بکھیرنے میں مصروف عمل ہیں۔ اسی حدیث کے پیش نظر ذرا آج ملک پاکستان کے حالات کا جائزہ بھی لیں تاکہ بات سمجھ آئے کہ کس طرح تعلیماتِ اسلامی کو فراموش کر کے ہم بد مستی کے عالم میں کھوئے ہوئے ہیں۔ منصف کا انصاف کرنا، حکمران کا عوام سے دھوکہ کرنا، طاقت کا غلط استعمال، ذرائع کا ناجائز استعمال، بدعنوانی کا بولا بالا، طاقت اور خواہشات کی تکمیل کے لیے کیے جانے والے بند مہمات، وغیرہ ایسے حالات و واقعات میں انسان کو عاجز رہنے کا حکم فرمایا گیا ہے کیونکہ اس دور میں انسان فاسق و فاجر زیادہ ہے بندسبت عاجز، کمزور رہنے کے۔ فیصلہ آپ کیجئے، کیا ہم اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چل رہے ہیں؟ کیا رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں؟ کیا ہم قرآن و حدیث کے مطابق فیصلے کر پا رہے ہیں؟ کیا ہم تنہائی میں اپنے نفس کو برائیوں سے بچا پا رہے ہیں؟ کیا ہم اپنی ذمہ داریاں ٹھیک سے سرانجام دے رہے ہیں؟ کیا ہم دوسروں کا حق مار رہے ہیں؟ کیا ہم معاشرے میں محفوظ ہیں؟ کیا ہماری عزتیں محفوظ ہیں جو سوشل میڈیا پر ناچتی دکھائی دیتی ہیں؟

دوستو! اپنے آپ کو بھی بچاؤ اور اپنے اہل و عیال کو بھی بچاؤ یہ دور فتنوں کا دور ہے۔

اللہ رب العزت ہم سب کو اپنی امان میں رکھے۔ آمین