آپ ﷺ نے عرب کی چراگاہوں کے بارے میں کیا پیشین گوئی فرمائی۔

اللہ کے رسول ﷺ کی ایک اہم پیشین گوئی

عرب کی چراگاہوں کے بارے میں پیشین گوئی

دوستو! اہل عرب کے لیے میں پہلے بھی کئی آرٹیکلز آپ سب کے گوش گزار کر چکا ہوں۔ اہل عرب کے لیے جو پیشین گوئیاں آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس نے امت کی ہدایت و رہنمائی کے لیے فرمائی ہیں۔ وہ سب اپنے مقررہ وقت پر نمایاں ہوتی جا رہی ہیں۔

کہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ عربوں کے لئے ہلاکت ہے، تو کہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اہل عرب کم اور عیسائی زیادہ ہو جائیں گے، کہیں یہ فرمایا گیا کہ اہل اونچی اونچی عمارتیں قائم کر لیں اور اس پر ترائیں گے، اہل عرب کو ہلاک کردینے والا فتنہ کیسا ہوگا؟ غرض یہ کہ ہر طرف عرب کے لیے ہلاکت کا ہی سامان ہے۔

آج کا عنوان بھی اہل عرب کے لیے ہے جس میں چند اور نشانیاں بھی ذکر کی گئی ہیں۔ ہم لوگ یہ بات تو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اہل عرب کا تقریباً کل رقبے کا ستّر فیصد حصہ غیر گنجان، بنجر اور ویران صحراؤں پر مشتمل ہے۔ ان کے پاس زیادہ تر پہاڑ بھی سنگلاخ اور خشک چٹانوں پر مشتمل ہیں۔ یہ سرزمین زیادہ تر تیل کی دولت سے مالا مال ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق سعودیہ عربیہ 75 فیصد، ایران 45 فیصد، عراق 70 فیصد جبکہ کویت 90 فیصد تیل حاصل کرتا ہے۔

اہل عرب میں زیادہ تر کنسٹرکشن کا کام چلتا رہتا ہے۔ آئے دن کوئی نہ کوئی بلڈنگ توڑی جاتی ہے اور پھر پہلے سے بھی زیادہ اونچی بنائی جاتی ہے۔ اگر ہم عرب ریاستوں کو دیکھیں تو بلند و بالا عمارتیں بنانے اور آئے دن نت نئے منصوبے سننے کو ملتے رہتے ہیں۔

آپ ﷺ نے قیامت کی بہت ساری نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی بتائی کہ عرب میں چراگاہوں اور نہروں کا ظہور ہو گا۔ جیسے ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا "قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جبتک سرزمین عرب چراگاہوں اور نہروں میں تبدیل نہ ہو جائے۔ اور جبتک ایک سوار عراق اور مکہ کے درمیان سفر نہ کر لے جسے محض استہ بھول جانے کے سوا کسی نقصان کا خوف نہ ہو۔ اور جبتک "ہرج" کی کثرت نہ ہو جائے۔ صحابہ کرام نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺ یہ ہرج کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا قتل و خونریزی۔"

اسی طرح آپ ﷺ نے اسی روایت کو دوسرے مقام پر کچھ یوں ارشاد فرمایا "قیامت قائم نہ ہو گی جبتک کہ مال کی کثرت نہ ہو جائے۔ مال کی ریل پیل اس قدر ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر کسی حاجت مند کو تلاش کرے گا مگر اسے کوئی ایسا شخص نہ مل سکے گا جو اس مال کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو۔ اور جبتک سرزمین عرب چراگاہوں اور نہروں کی زمین نہ بن جائے۔"

چراگاہوں کے سرسبز و شاداب ہونے کے بارے میں مزید ایک طویل حدیث کا ذکر آپ کے ساتھ کرتا ہوں تاکہ موجودہ حالات اور بیان کی گئی نشانی اور واضح ہو سکے تاہم یہ نشانی پوری نہیں ہوئی لیکن شروع ہو چکی ہے یوں کہوں تو ابتدائی حالات شروع ہو چکے ہیں۔

ایک روایت کے مطابق حضرت معاذ بن جبل بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ آپ ﷺ کے ہمراہ غزوہ تبوک کے سفر پر روانہ تھے۔ آپ ﷺ نمازیں جمع کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے ادا فرمایا۔ ایک روز آپ ﷺ نے نماز کو مؤخر کر دیا، پھر نکلے اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے ادا کیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ساتھیوں سے فرمایا: تم لوگ کل انشاءاللہ تبوک کے چشمے پر پہنچو گے۔ تم سورج کے بلند ہو جانے کے بعد ہی وہاں پہنچو گے۔ تم میں سے جو بھی وہاں پہنچ جائے اسے چاہیے کہ وہ اس چشمے کے پانی کو میری آمد تک استعمال نہ کرے، معاذ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ دو شخص ہم سے پہلے ہی وہاں پہنچے ہوئے تھے۔ چشمے سے پانی بڑی مشکل سے تھوڑا تھوڑا نکل رہا تھا۔ آپ ﷺ نے ان دونوں سے پوچھا: کیا تم نے یہ پانی استعمال کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے ان دونوں پر بہت ناراضی اور خفگی کا اظہار کیا۔ پھر صحابہ کرام نے چشمے کا پانی اپنے ہاتھوں سے تھوڑا تھوڑا کر کے جمع کیا حتی کہ وہ کچھ مقدار میں جمع ہو گیا۔ آپ ﷺ نے اس پانی سے اپنے ہاتھ اور چہرہ مبارک دھویا اور پھر اس پانی کو واپس چشمے میں ڈال دیا۔ پانی ڈالتے ہی چشمہ پوری قوت سے اُبل پڑا اور نہایت کثرت اور تیزی سے بہنے لگا۔ لشکر کے لوگوں نے خوب سیر ہو کر پیا۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا "اے معاذ! اگر تمھاری عمر نے وفا کی تو تم دیکھو گے کہ یہ سارا علاقہ باغات اور آبادی سے معمور ہو جائے گا۔"

اہل علم کا کہنا ہے کہ پچھلے چند سالوں سے آب و ہوا کی تبدیلیوں کے باعث شدید بارشیں بمعہ برفباری ہو رہی ہے۔ جس سے مسلسل پیداوار اور خوشحالی کی کثرت ہو رہی ہے۔ اللہ رب العزت ہر چیز پر قادر ہے کہ وہ صحرائے عرب کو باغات، میدانوں اور گھنے سایوں میں تبدیل کر دے۔ وہ چاہے تو ہرے بھرے باغات کو صحراؤں میں تبدیل کر دے اگر ہم سورۃ قلم میں باغ والوں کا قصہ پڑھ لیں تو اللہ رب العزت کی یہ بات اور بھی واضح ہو جائے گی۔ تاہم میرا مقصد اہل عرب کی موجودہ صورت حال بیان کرنا ہے اس لیے آج اگر سرزمین تبوک کو دیکھیں تو بڑی بڑی زرعی سکیموں کی صورت ہمارے سامنے ہے جو دور دراز علاقوں تک پھیلتی جا رہی ہیں۔ یوں کہوں کہ سنگلاخ اور خشک چٹانیں اب تیزی سے سرسبز و شاداب ہو رہی ہیں، موسم کی تبدیلی کی وجہ سے پہاڑوں پر برف پڑنا شروع ہو گئی ہے جس سے چشمے اور نہروں کا ظہور ہو رہا ہے۔

اس پوسٹ پر اپنا ردعمل ظاہر کریں