آپ ﷺ نے اپنی امت کو آسمانی بجلی گرنے کے بارے میں کیا فرمایا؟

قیامت کی اہم نشانیوں میں سے ایک
آسمانی بجلی گرنے کے بارے میں حدیث

قیامت: ایک خوفناک حقیقت

قارئین کرام! قیامت اس خوفناک چیخ کا نام ہے جو صور اسرافیل سے شروع ہوتے ہی کائنات میں ایک خوفناک زلزلے میں بدل دی جائے گی۔ قیامت کا ذکر قرآن مجید فرقان ِ حمید میں متعدد جگہ پر بیان کیا گیا ہے، قیامت کب آئے گی اس کا علم تو صرف اللہ رب العزت کے پاس ہے کیونکہ وہ عالم الغیب ہے۔

قیامت کا ذکر اللہ نے نبیوں اور فرشتوں کو بھی نہیں بتایا، یہی بات ہے جب حضرت جبریل امین نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی تو ان کو بھی یہی جواب ملا کہ "جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ سائل سے زیادہ نہیں جانتا"۔

بہر حال قیامت ہی ہے جس کا ذکر اور تبلیغ دیگر انبیاء کرام اپنی امتوں کو کرتے آئے ہیں اور عذاب الہیٰ سے ڈراتے آئے ہیں، کئی قوموں کا ذکر اللہ نے قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے، لیکن آپ ﷺ نے اپنی امت کو نہ صرف ڈرایا بلکہ واضع نشانیاں بھی بتلائی اور یہ بھی فرمایا کہ قیامت بہت قریب ہے، کیونکہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا قیامت تک تو یوں سلسلہ نبوت اختتام ہوا اور دین اسلام جس کو اللہ نے چن لیا تھا آپ کے آنے سے مکمل ہوا۔

اور پھر آپ ﷺ کے اس دنیا سے رخصت ہوتے ہی قیامت کی نشانیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ قیامت کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا "اپنی دونوں انگلیوں کو ایک ساتھ ملاکر میں اور قیامت اس طرح ساتھ ہیں" گویا ایک ساتھ پیدا ہوئے۔

قرآن و حدیث میں قیامت کا ذکر

ارشاد ربانی ہے "قیامت نزدیک آپہنچی اور چاند شق ہوگیا۔ اور یہ کہہ کر لوگوں کو چونکایا سو کیا یہ لوگ بس قیامت کے منتظر ہیں کہ وہ ان پر دفعتاَ آپڑے؟ سو یاد رکھو کہ اس کی (متعدد) علامتیں آچکی ہیں، سو جب قیامت ان کے سامنے آکھڑی ہوگی اُس وقت ان کو سمجھنا کہاں میسر ہوگا"

پھر دوسری جگہ یوں ارشاد فرمایا "لوگ آپ ﷺ کو قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی تو آپ ﷺ ان سے فرما دیجیے کہ اس کا علم میرے اللہ ہی کے پاس ہے"

ارشاد نبوی ﷺ ہے "موت قیامت ہے۔۔پس جو مَرا اُس کی قیامت تو آہی گئی"

معاشرے میں قیامت کا تصور

ہمارے معاشرے میں لوگوں کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت صرف اتنی ہے کہ جس نے مرنا تھا بس اسی نے ہی مرنا تھا۔ ہم نے تھوڑی نہ مرنا ہے اس وجہ سے لوگوں میں احساس اور موت کا خوف ختم ہوتا جارہا ہے بس مرنے پر اکٹھے ہوتے ہیں اور دنیا و جہاں کی باتیں ہوتی ہیں اور جا کر قبرستان میں دفن کر دیتے ہیں۔

موت کا خوف نہ ہونے کی وجہ سے قیامت کا خوف بھی ایک ماورائی تصور ہونے لگا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے "قرب قیامت لوگوں کا اپنے رب کی ذات پر توکل اور بھروسہ ختم ہو جائے گا" گویا خدا کا تصور ہی ماند ہوتا جائے گا یہی وجہ ہے کہ سب تعلیمات کو ایک سائیڈ رکھ کر برائی کے کاموں کو فروغ دیا جارہا ہے۔

آسمانی بجلی کا عذاب

قیامت کی بہت ساری نشانیوں پر میں ذکر کر چکا ہوں ان نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی امت کو بتلائی کہ قرب قیامت لوگ آسمانی بجلی گرنے سے کثیر تعداد میں موت کا شکار ہوں گے۔

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے قریب آسمانی بجلیاں کثرت سے گریں گی حتی ٰ کہ ایک شخص کسی قوم کے پاس آکر سوال کرے گا: آج تم میں سے کون کون بجلی کا شکار ہو کر فوت ہوا؟ وہ کہیں گے: فلاں اور فلاں شخص آج اس کی زد میں آکر ہلاک ہو گیا ہے"۔

یہ نشانی اس طرح سے تو ظاہر نہیں ہوئی جس طرح آپ ﷺ نے فرمائی ہے گویا وقت مقررہ پر ضرور ہوگی آپ ﷺ کی ہر بتلائی ہوئی بات حق اور سچ ہے، تاہم یہ بھی فرمایا کہ جب تک تم میں مغفرت کرنے والے اور نیک اعمال کرنے والے موجود ہوں گے۔ اللہ بھی معاف فرمادیں گے لیکن جیسے ہی رفتہ رفتہ نیک لوگ اس دنیا فانی سے رخصت ہوتے جائیں گے اور معاشرے میں سمجھانے والے نہیں رہیں گے تو عذاب الہی ٰ سے کوئی بچا نہیں سکتا۔

ابھی بھی جب ہمارے اردگرد آسمانی بجلی گرنے کی خبریں موصول ہوتی ہیں تو دل دہل جاتا ہے اور فورا اپنے رب کی طرف استغفار کرتے ہیں۔ بارشوں کے دنوں میں آسمانی بجلی گرتی ہے تو اس بات کی علامت ہے کہ کس کثرت کے ساتھ یہ زمین پر گرتی جائے گی اور لوگوں ہلاکت ہوگی۔

تاریخی عذاب: قوم ثمود اور عاد

"صاعقۃ" اس ہولناک بجلی کو کہتے ہیں جو زبردست دل دہلادینے والی کڑک اور چمک کے ساتھ آسمان سے زمین پر گرتی ہے۔ اللہ رب العزت نے قوم ثمود (حضرت صالح ﷺ کی قوم) کو ایسی ہی آسمانی بجلی اور تیز پتھروں سے ہلاک کیا تھا۔

ارشار باری تعالیٰ ہے "رہے ثمود سو ہم نے ان کی بھی رہبری کی، پھر بھی انھوں نے ہدایت پر اندھے پن کو ترجیح دی جس کی بنا پر انھیں رسوا کن عذاب آسمانی بجلی نے ان کے کرتوتوں کے باعث پکڑلیا"۔

نیز ارشاد ہوا "پھر اگر یہ اعراض کریں تو کہہ دیجیے: کہ میں تمھیں اس کڑک (عذاب آسمانی) سے ڈراتا ہوں جو قوم عاد (حضرت ھود ﷺ کی قوم) اور ثمود کی کڑک جیسی ہوگی"۔

کہیں پر اللہ نے اس طرح فرمایا "ثمود تو طاغیہ (بے حد خوفناک آواز) سے ہلاک کردئیے گئے"۔

اللہ رب العزت کسی بھی قوم کو اس وقت تک ہلاک نہیں فرماتا جبل تک کہ ان میں کوئی سمجھانے والا نہ بھیج دے تاکہ وہ انکو گمراہی سے بچائے اور حق کی دعوت دے۔

حضرت ھود ﷺ کو قوم عاد کی طرف بھیجا گیا۔ دعوت تبلیغ کے بعد بھی وہ سرکشی کرتے رہے اور پھر تیز تند ہواؤں نے جس میں زبردست پچھاڑ تھی جو مسلسل سات راتیں اور آٹھ دن تک چلتی رہی اور یوں ساری آن بان کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا۔ وہ ہوا اس قدر تیز تھی کہ اگر تم دیکھ لیتے تو لوگ کھجور کے درختوں کے کٹے تنوں کی طرح پڑے ہوئے ہیں۔ اس ہوا کی وجہ سے ان کے عالیشان محلات بھی خا کستر ہو کر رہ گئے۔ ان کی ہر نشانی ان کی اپنی پہچان بنی ہوئی تھی، قوم عاد نے اپنے حضرت ھود ﷺ کے ساتھ بدسلوکی کی تھی اور بغاوت اور سرکشی پر اتر آئی تھی اس لئے اللہ نے ان کو دنیا میں ہی عبرت کا نشان بنا دیا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا؟