آپ ﷺ کی وفات کے سات سال بعد عمواس کے لوگوں پر کیسا عذاب نازل ہوا؟
یہ واقعہ قیامت کی چھوٹی نشانیوں میں سے ایک ہے جس کی نبی کریم ﷺ نے اپنی حدیث مبارکہ میں نشاندہی فرمائی تھی۔ یہ واقعہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں پیش آیا۔ اس حدیث میں استعمال ہونے والا لفظ "مُوتَانُ" مبالغے کا صیغہ ہے، جس کے معنی ہیں کہ بہت بڑی تعداد میں لوگوں کی موت واقع ہوگی — جیسا کہ آج کل وبائی امراض کی وجہ سے ہزاروں اور لاکھوں افراد ایک ساتھ لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔
روایات کے مطابق، اس وباء سے تقریباً پچیس ہزار مسلمان متاثر ہو کر دار فانی سے کوچ کر گئے۔
عمواس کہاں تھا؟
عمواس، بیت المقدس (قبلہ اول) کے قریب فلسطین میں واقع ایک چھوٹی سی بستی تھی۔ عام طور پر اسے "ایمواس" کہا جاتا ہے، جبکہ عربی میں اسے "ایموس" بھی کہا جاتا تھا۔ تاریخی طور پر، یہ جگہ پہلی صدی عیسوی سے رومی فوج کے تسلط میں رہی اور ایک مضبوط فوجی کیمپ کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔ رومیوں کے ہاں اسے "نِک پولِس" کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، شاید تیسری صدی عیسوی کے آغاز تک، یہ بستی ایک چھوٹے سے شہر میں تبدیل ہو چکی تھی۔ جنگِ یرموک کے بعد مسلمانوں نے بازنطینیوں سے اس علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔
طاعونِ عمواس کیسے پھیلا؟
جب مسلمان فوجیں شام پر قبضہ کر کے واپس لوٹیں، تو انہوں نے عمواس کو اپنا کیمپ بنایا، جہاں مالِ غنیمت کی تقسیم سے لے کر فوجیوں کی تنخواہوں تک کا انتظام کیا جاتا تھا۔ اسی دوران وہاں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی۔
طاعون ایک بہت ہی خطرناک اور مہلک وبائی بیماری ہے۔ اس کی علامت عام طور پر جسم کے کسی حصے میں ایک پھوڑا یا سوزش ظاہر ہونا ہوتی ہے، جس کے ساتھ شدید درد اور بے چینی بھی ہوتی ہے۔ اس پھوڑے سے خارج ہونے والا زہریلا مادہ جسم میں تیزی سے پھیلتا ہے، جس کے نتیجے میں مریض کی موت واقع ہو جاتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے اس طرح کی کثرتِ موت کو "قُعَاصُ الْغَنَم" (بکریوں کا طاعون) سے تشبیہ دی تھی، کیونکہ اس مرض میں بھی ایک ایسا ہی زخم/پھوڑا بنتا ہے، جس سے ایک گاڑا زہریلا مادہ خارج ہوتا ہے اور مریض موت کا شکار ہو جاتا ہے۔
قیامت کی نشانی
ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"قیامت سے پہلے چھ چیزیں واقع ہوں گی..."
اور ان چھ میں سے ایک، وبائی امراض کی وجہ سے کثرتِ اموات تھی، جس کی تشبیہ آپ ﷺ نے بکریوں کے ریوڑ سے دی — جیسے ریوڑ بھر کی بکریاں ایک ہی بیماری سے ایک کے بعد ایک مرتی جاتی ہیں، اسی طرح لوگوں کی موتیں ہوں گی۔
متاثر ہونے والے صحابہ کرام
طاعونِ عمواس میں بہت سے نامور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی اس وباء کی لپیٹ میں آ کر اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے، جن میں شامل ہیں:
- حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ (ان کی دو بیویاں اور ایک بیٹا بھی متاثر ہوئے)
- حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ
- حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ (معاذ رضی اللہ عنہ کے جانشین)
- حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ
- حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ
- حضرت سہیل بن ہشام رضی اللہ عنہ
- حضرت حرث بن ہشام رضی اللہ عنہ (اور ان کے خاندان کے ستر افراد جو شام میں رہائش پذیر تھے)
- حضرت ابو جندل رضی اللہ عنہ (حضرت سہیل رضی اللہ عنہ کے بیٹے)
معاشرتی اور معاشی حالات
اس وباء نے نہ صرف مسلمان فوجیوں کو بلکہ علاقے کے مقامی باشندوں — عیسائیوں اور یہودیوں — کو بھی شدید متاثر کیا۔ ہر طرف موت ہی موت نظر آ رہی تھی۔ لوگ بے سروسامانی کے عالم میں جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔
اس وبا کے دوران، غلّے اور دیگر اشیائے خوردونوش کی ذخیرہ اندوزی بھی جاری رہی، جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ ذخائر میں چوہوں کی کثرت ہو گئی، جن سے طاعون مزید پھیلا۔ اس کے جواب میں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ذخیرہ اندوزی پر مکمل پابندی عائد کر دی۔
جغرافیائی پھیلاؤ
آپ ﷺ کی وفات کے تقریباً سات سال بعد، یہ پہلی بڑی قدرتی آفت "عمواس" میں پھوٹی۔ اس کے بعد سخت قحط پڑا، جس سے مسلمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ مرض سویز کے نزدیک سے شروع ہو کر قسطنطنیہ تک پہنچ گیا۔ یہ فلسطین کے مشرقی علاقوں سے لے کر اسکندریہ (مصر) کے مغربی حصوں تک تیزی سے پھیل چکا تھا۔
صرف وہ عرب قبائل بچ سکے جو تیزی سے مشرق کی طرف — خراسان کی سمت — نقل مکانی کر چکے تھے۔
نتیجہ
آج کی دنیا میں طبی سائنس نے وبا جیسی بیماریوں کے علاج میں کافی پیش رفت کی ہے، لیکن یہ بات یقینی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی ناراضگی نازل ہو، تو تمام انسانی کوششیں بے اثر ہو جاتی ہیں۔ جو اللہ چاہتا ہے، وہی ہوتا ہے۔
اللہ رب العزت سے ہم سب کی دعا ہے کہ وہ ہمیں ایسی مہلک وباﺅں اور آفتوں سے محفوظ رکھے۔
آمین۔