آپ ﷺ کا اس دنیا سے رخصت ہو جانا

آپ ﷺ کا اس دنیا سے رخصت ہو جانا

آپ ﷺ کا اس دنیا سے تشریف لے جانا ہی امت مسلمہ کے لئے عظیم ترین سانحہ تھا۔ کیونکہ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آنے والا، نہ کوئی آسمان سے وحی نازل ہونی ہے، نہ کوئی کتاب آنی ہے، نہ کوئی شریعت آنی ہے نہ کوئی سمجھانے والا، نہ روکنے ٹوکنے والا، کیونکہ سب کچھ اللہ رب العزت نے آپ ﷺ کے ذریعے، اور آپ ﷺ پر خاتم النبیین کی مہر لگا کر مکمل کر دیا۔ قیامت تک شریعت محمدی ﷺ ہی ہدایت اور نجات کا واحد ذریعہ ہے۔ جس میں کسی قسم کا کوئی شک موجود نہیں ہے۔ اگر کسی نے اعراض کیا یا منہ موڑ لیا گویا اس نے اپنے لئے جہنم خرید لی۔

قیامت صغریٰ کی اس نشانی سے صاف پتہ چلتا ہے کہ آپ ﷺ کا اس دنیا سے تشریف لے جانا امت کے لئے کس قدر کٹھن اور دشوار گزار ہے۔ آپ ﷺ کے جانے کے بعد ہی بہت سے لوگوں کا دین اسلام سے منہ موڑ لینا، دین میں ردوبدل کرنا، بدعت کا تیزی سے سرایت کرنا، شرک کے شکنجے میں جھکڑے جانا، گمراہی کی دلدل میں دھنستے چلے جانا، فتنوں کا طویل سلسلہ شروع ہو جانا اس نشانی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ان میں سے کون سی ایسی خرافات رہ گئی ہے جو آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم اسے مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے"۔ میری سنت اور کتاب اللہ (قرآن مجید)۔

قرآن مجید میں بھی فرمایا گیا: "اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقے میں مت پڑجاؤ"۔

دوستو! آج اس خرافات کے دور میں ہم روز مرہ اپنے اردگرد نئے نئے گروہوں کو دیکھ رہے ہیں جن کا طریقہ خود ساختہ ہے ان کے اعمالوں میں شریعت محمدی کی مہر نہیں ہے۔ ذرا سوچیں! جس کام کو اللہ کے رسول نے خود نہیں کیا اور نہ ہی صحابہ کرام میں سے کسی نے کیا۔ وہ کام خدا کے نزدیک کیسے قابل قبول ہوگا۔ کیونکہ اطاعت محمد ﷺ ہی اطاعت خداوندی ہے۔

قیامت کی نشانیاں

ایک صحابی بیان کرتے ہیں: "میں غزوہ تبوک کے موقع پر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ چمڑے کے ایک خیمے میں تشریف فرماتھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: قیامت سے پہلے چھ نشانیاں شمار کر لو:

  1. میری وفات
  2. پھر بیت المقدس کی فتح
  3. پھر وہ زبردست موت جو تم میں بکری کی قعاص بیماری کی طرح پھیل جائے گی
  4. پھر مال کثرت، حتی کہ ایک شخص کو سو دینار دئیے جائیں گے مگر پھر بھی راضی نہ ہوگا
  5. پھر ایک فتنہ نمودار ہوگا عربوں کے گھر میں داخل ہو جائے گا
  6. پھر تمہاری بنو اصفر (روم، یورپ اور امریکہ کے لوگوں) سے صلح ہو جائے گی مگر وہ تم سے بدعہدی کریں گے اور تمہاری طرف اسی 80 جھنڈوں تلے جمع ہوکر آئیں گے اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوجی ہوں گے"

جب آپ ﷺ کی وفات ہوئی تو مدینہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی آنکھوں کے سامنے اندھیرے چھاگئے تھے۔ دروازہ نور بند ہو چکا تھا اب تو محض وہ خرافات شروع ہونے جارہی تھی جس کا آپ ﷺ نے نبوت والی زبان سے فرما دیا تھا۔

آپ ﷺ کی وفات کے ساتھ ہی آسمان سے وحی کی آمد کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور ملتِ اسلامیہ میں فتنوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ بعض قبائل کا اسلام سے مرتد ہو جانا اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

آج امت مسلمہ ذلیل و خوار ہو رہ گئی ہے اس کی وجہ قرآن و حدیث سے منہ موڑ کر پس پشت ڈالنا ہے اور اپنے ذاتی مفادات کو مقدم رکھنا ہے چاہے وہ اسلام میں حرام ہی کیوں نہ ہو۔ اب تو خرافات اتنی تیزی سے رائج ہو رہے ہیں کہ لگتا ہی نہیں کہ جو کام ہم کر رہے ہیں کیا وہ شریعت میں موجود ہے یا نہیں کیونکہ لوگ اس قدر متنفر ہوتے جارہے ہیں اسلامی تعلیمات سے کہ شاید آنے والی نسلیں ان احکامات کو بوجھ سے زیادہ نہیں سمجھیں گے۔

یا پھر آج کے لوگ یہ کہتے دکھائی دے رہے ہیں کہ یہ احکامات پچھلے لوگوں کے لئے تھے ہمارے لئے نہیں۔ آج کے لوگ مادہ پرست ہو چکے ہیں خون سفید ہوتے جارہے ہیں گویا ہم نے مرناہی نہیں۔

اللہ پاک ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے اور دین پر من و عن چلنے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اس مضمون پر اپنا ردعمل دیں