اہل عرب کو ہلاک کردینے والا فتنہ کیسا ہوگا؟
دوستو! کافی عرصہ پہلے میں نے ایک آرٹیکل "عربوں کے لئے ہلاکت ہے ایسا آپ ﷺ نے کیوں کہا؟" لکھا تھا پھر اس کے بعد "قرب قیامت عیسائی زیادہ اور عرب کم کیوں ہو جائیں گے" کے نام سے تفصیلا ذکر کیا کہ ایسا اہل عرب کے لیے کیوں کہا گیا ہے۔ آج اسی آرٹیکل سے ملتا جلتا ایک اور بیان تفصیلا ملاحظہ فرمائیں۔
اللہ رب العزت کے سوا کوئی شخص نہیں جانتا کہ قیامت کب واقع ہو گی؟ لیکن وہ کب آئے گی؟ کس دن آئے گی ہمارے ایمان کا اہم حصہ ہے، آپ ﷺ نے انسانیت کی بھلائی کے لیے ہر وہ چھوٹی سے چھوٹی بات بیان فرمائی ہے۔
ایک فرمان کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا "ایک ایسا فتنہ ظاہر ہو گا جو سب عربوں کو لیپٹ میں لے لے گا۔ اس میں قتل ہونے والے جہنم میں جائیں گے۔ اس فتنے میں زبان کی کاٹ تلوار سے زیادہ ہو گی۔"
اس روایت کے مطابق فتنے میں ہونے والے مقتول جہنم کی آگ کا ایندھن ہوں گے۔ کیونکہ یہ لوگ رب العزت کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی بجائے شیطان کی اتباع اور خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے دنیا کی خاطر لڑیں گے۔ اس لیے اس لڑائی کے سبب وہ عذاب جہنم کے مستحق بن جائیں گے۔
یوں تو وہ مسلمان کی حیثیت سے ہی مریں گے لیکن انھیں جہنم کی سزا دی جائے گی لیکن یہ ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہیں گے۔ واللہ اعلم یہ لوگ کتنا عرصہ دوزخ میں رہیں گے ایسے لوگ شدید وعید کا ہدف ہوں گے کیونکہ اس لڑائی سے ان کا مقصود دین کی سر بلندی، کسی مظلوم کا دفاع یا کسی مستحق کی مدد نہ ہو گا بلکہ محض سرکشی، بغاوت، عداوت، باہمی اختلافات اور مال و متاع کی حرص و ہوس ان کے پیش نظر ہو گی۔
ایک اور اشارہ جو اس حدیث میں دیا گیا ہے وہ زبان کی تاثیر، یعنی طعن و تشنیع اور اس کی طرف سے لڑائی پر ترغیب تلوار کی کاٹ سے کہیں زیادہ ہو گی۔ ایک اور مقام پر کچھ یوں الفاظ سے ذکر کیا گیا ہے کہ زبان کی طلاقت اور درازی اس وقت تلوار سے زیادہ اثر رکھتی ہو گی۔
ایسی مثالیں تو ہم اپنی روزمرہ زندگی میں دیکھ رہے ہیں۔ ہر دن کچھ نا کچھ سننے اور دیکھنے کو مل رہا ہے جیسا کہ بدزبانی، طعنہ زنی، دست درازی، فحش گفتگو، زناکاری، چوری، ڈاکہ زنی، وغیرہ نوبت قتل و غارت، جھوٹی شان و شوکت کو برقرار رکھنے اور زبان کا استعمال کرنے سے رشتے ناطے کھوکھلے ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
اپنے اپنوں سے دور اجنبیوں اور بیگانوں کی سی زندگی گزار رہے ہیں۔ معاشرے میں بگاڑ آئے دن دیکھنے کو مل رہا ہے۔
اہل عرب ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف عمل ہیں وہ چاہے اونچی عمارتوں کی تعمیرات ہو، یا پھر دنیا جہاں کی زیبائش و آرائش کی اشیاء ہوں، یا شیطان کو راضی کرنے کے لیے دھوکہ دہی کا سامان اکٹھا کرنا ہو، سب ویسا ہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے جیسا کہ پیشین گوئی فرمائی گئی۔