محترم قارئین کرام! زکوۃ اسلام کا چوتھا اہم بنیادی رکن ہے۔ زکوۃ ادا کرنے سے انسان کا مال مصیبتوں اور آزمائشوں سے پاک ہو جاتا ہے۔ جو شخص صدق دل سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ رب العزت اس بندے سے راضی ہو جاتا ہے۔
اس لئے ہمیں چاہیے کہ بدنیتی اور تنگ دلی کی بجائے ہمیشہ خوش دلی سے اللہ کے راستے میں مال خرچ کریں، ہر وقت اور حال میں اللہ رب العزت کا شکر ادا کریں کیونکہ اسی ذات نے ناصرف ہمیں توفیق دی بلکہ مال و دولت عطا فرمایا تاکہ ہم اسی کے بتائے ہوئے راستے میں اپنا مال خرچ کریں۔
"کہ جو سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور سے اللہ کے راستہ میں خرچ نہیں کرتے، آپ ان کو دردناک عذاب کی بشارت سنا دیجئے کہ ایک دن یہ سونا چاندی جہنم کی آگ میں گرم کر کے ان کی پیشانیوں، پیٹھوں اور پہلوؤں کو اس سے داغا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ تمھارا وہ خزانہ ہے جس کو تم جمع کیا کرتے تھے"۔
ارشاد ربانی ہے: "رحمٰن کے خاص بندے وہ ہیں جو زمین پر وقار اور متانت کی چال سے چلتے ہیں"۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کہ اللہ کی زمین پر اکڑ کر، اترا کر نہیں چلتے، اگر کوئی جاہل ان سے بدکلامی کرتے ہیں تو وہ خود کو کنارہ کش کرتے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں اپنے رب کے ہاں سجدے اور قیام و رکوع کی حالت میں راتیں گزارتے ہیں۔ جو ہر وقت اللہ سے گڑگڑا کر دعائیں کرتے ہیں کہ اے ہمارے اللہ! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو فضول خرچی، بخل سے اجتناب کرتے ہوئے صحیح جگہ خرچ کرتے ہیں جہاں حکم فرمایا گیا ہے۔
جو اللہ رب العزت کے سوا کسی اور کو اپنا معبود نہیں بناتے، اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہیں۔
اللہ کے نبی ﷺ نے ہمیں قیامت صغریٰ کی بہت سے نشانیوں سے آگاہ فرمایا ہے اور لوگوں کو اس سے بار بار بچنے کی تلقین کی ہے۔ ان بہت سی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ "لوگوں کا خوش دلی سے زکوٰۃ ادا نہ کرنا"۔
گویا قرب قیامت میں ایسے لوگ ہوں گے جو اللہ کے اس حکم کو پامال کریں۔ اور آج ہم اس نشانی کو پورا ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، جب ہم اللہ کے اس عظیم حکم کو اپنی خواہشوں کے مطابق چلانے کی کوشش کریں گے تو نتیجہ اور اس نتیجے کے برعکس مضر اثرات ہمارے معاشرے پر پڑیں گے۔
ارشاد نبوی ﷺ: "اور جب زکوۃ کو جرمانہ سمجھا جانے لگے"۔
اس دنیا میں لوگ خالی ہاتھ ہیں اور خالی ہاتھ ہی رخصت ہونا ہے، کوئی اپنے ساتھ کچھ نہیں لے کر جاتا، سوائے اپنے اعمال کے۔ ذرہ سوچیں جب اللہ رب العزت اس انسان سے یہ سوال پوچھیں گے کہ "مال کہاں سے کمایا اور کیسے، کہاں خرچ کیا"۔
تب ہم اپنے رب کو کیا جواب دیں گے؟ کہ ہم نے حرام طریقے سے مال کمایا اور اپنی اولاد کے سکھ چین اور عارضی دنیا کے آرائش کے لئے لوگوں کا حق مارا۔ ایسے لوگوں سے قیامت کے دن اللہ کلام نہیں کریں گے اور نہ ہی ان کو پاک فرمائیں گے اور نہ ہی ان کو دیکھیں گے۔
بھلا دولت مند انسان کو وہ نیند اور سکھ کہاں حاصل ہوتا ہے جو پانچ وقت کی نماز پڑھنے والے ایک انسان کے پاس ہوتا ہے؟ اسے محض فریضہ ادائیگی کے علاوہ اور کچھ یاد نہیں رہتا، جبکہ دولت مند انسان ہر وقت مشکل، پریشانی، دکھ اور بیماریوں کے گرد پھنسا رہتا ہے۔
ہمیں یہ کب سمجھ آئے گی کہ زکوۃ ہماری بھلائی کے لئے ہے، ہمارے ہی مال کو پاک صاف کرنے کے لئے ہے؟ اس سے صرف اور صرف ہمیں ہی فائدہ ہوگا۔ زکوۃ دینے والا کبھی بخیل نہیں ہو سکتا، اس میں کبھی دولت کی حرص نہیں ہوتی اور معاشرے میں غربت، افلاس، تنگی ختم ہوتی ہے۔
ایک مسلمان سے مطلوب یہ ہے کہ اس کا دل اپنے مال اور سونے چاندی وغیرہ کی زکوۃ نکالتے وقت مطمئن اور راضی ہو، اس لیے کہ یہ زکوۃ مال کو پاک کرنے اور اللہ کی قربت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہ کوئی ٹیکس یا جرمانہ نہیں ہے۔
لیکن آخری زمانے میں مال کی شدید ہوس اور بخل لوگوں کے دلوں میں جمع ہو جائے گا۔ بعض مالدار اشخاص زکوۃ دیتے وقت یہ خیال کریں گے کہ یہ کوئی جرمانہ یا ٹیکس ہے جو ان سے زبردستی وصول کیا جا رہا ہے۔
ایسا شخص اس کی ادائیگی تو کر دے گا مگر بوجھل دل کے ساتھ۔ یہی وجہ ہے کہ اسے نیک نیت نہ ہونے کی بنا پر کوئی ثواب نہیں ملے گا۔
آج ہمارے ملک میں ہر دوسرا بندہ مال تو کما رہا ہے چاہے وہ کوئی بھی ذرائع استعمال کرتا ہو، لیکن زکوۃ ادا کرنے میں تنگ دلی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ بات وہ بھی جانتے ہیں کہ مال جائز طریقے سے نہیں کمایا گیا، یا پھر ختم ہونے کا ڈر، جس کی وجہ سے زکوۃ ادا نہیں کرتے اور معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا جا رہا ہے۔
لوگ مفلسی اور بے روزگاری کی وجہ سے خودکشی کر رہے ہیں، معاشرے میں زنا، شراب اور جوا، دھوکا دہی، فراڈ کا بازار گرم ہے اور اس کی وجہ امیر لوگوں کا درست طریقے سے زکوۃ ادا نہ کرنا ہے۔
اگر یہ لوگ زکوۃ کی رقم سے کسی کو کوئی کاروبار شروع کروا دیں تو نا صرف معاشرے میں غربت کم ہو گی بلکہ کسی کی تھوڑی سی مدد سے وہ اپنے بال بچوں کو رزق حلال سے دو وقت کی روٹی کھلا پائے گا۔
اللہ رب العزت سے استدعا ہے کہ وہ ہمیں توفیق عطا فرمائے اور ہمارے دلوں کو کھول دے اور زکوۃ دینے والوں کو ہدایت نصیب فرمائے تاکہ وہ دوسروں کی مدد کرنے میں میانہ روی اختیار فرمائیں۔ آمین