- تعارف
- 1. دعا اور استغفار
- 2. صدقہ و خیرات
- 3. قرض اور نذر کی ادائیگی
- 4. رشتہ داروں سے سلوک
- 5. والدین کے دوستوں سے سلوک
- 6. ایصال ثواب
- 7. وصیت پوری کرنا
- 8. علم نافع کا بندوبست
- 9. قبر کی زیارت
- 10. اجتماعی نیکیوں کا اہتمام
- تفاسیر کی روشنی میں والدین کے حقوق
- قرآن و احادیث کی روشنی میں
- ائمہ اربعہ کے احکامات
- دور جدید کی جاہلیت
- غور و فکر کے پہلو
- اختتام
اسلام ایک ایسا مکمل دین ہے جو انسان کی پیدائش سے لے کر وفات تک اور اس کے بعد کے مراحل تک کی رہنمائی کرتا ہے۔ والدین کا مقام اسلام میں انتہائی بلند ہے، حتیٰ کہ ان کے انتقال کے بعد بھی اولاد کی ذمہ داریاں ختم نہیں ہوتیں بلکہ ان کی بخشش، درجات کی بلندی اور ان کے نام سے نیکیوں کا تسلسل جاری رکھنا اولاد کا عظیم فرض ہے۔
والدین کی وفات کے بعد بھی ان کے ساتھ نیکی کا سلسلہ جاری رکھنا اولاد کی ذمہ داری ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، نفع بخش علم، اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔" (صحیح مسلم) اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ نیک اولاد کی دعا اور نیک اعمال والدین کے لیے بعد از مرگ بھی فائدہ مند ہیں۔
1. دعا اور استغفار کرنا
والدین کی وفات کے بعد ان کے لیے دعا اور استغفار کرنا ایک ایسا نیک عمل ہے جو نہ صرف اُن کی آخرت کے درجات کو بلند کرتا ہے بلکہ خود اولاد کے لیے باعثِ رحمت اور اجر عظیم بنتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، نفع بخش علم، اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔" (صحیح مسلم) اس حدیثِ مبارکہ میں واضح طور پر یہ بات بتائی گئی ہے کہ نیک اولاد کی دعا والدین کے لیے بعد از مرگ فائدہ مند عمل ہے، جو اُن کے حساب و کتاب میں جاری رہتا ہے۔
روزانہ والدین کے لیے مغفرت، بخشش، اور درجات کی بلندی کی دعا کرنا نہ صرف اولاد کا دینی فریضہ ہے بلکہ یہ احسان اور وفا کا اعلیٰ ترین درجہ بھی ہے۔ قرآن مجید میں ایک عظیم دعا سکھائی گئی ہے: رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا (سورۃ الاسراء، آیت 24) "اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی۔" یہ دعا محض الفاظ نہیں بلکہ محبت، شکرگزاری، اور اخلاص کا ایک مضبوط مظہر ہے۔
امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ والدین کے ساتھ احسان کا سب سے افضل ذریعہ اُن کے لیے دعا کرنا ہے۔ دعا ایک ایسا روحانی تحفہ ہے جو نہ قبر کی دیواروں میں رکتا ہے، نہ زمان و مکان کی قیود کا محتاج ہوتا ہے۔ ایک نیک اولاد جب سچے دل سے اپنے ماں باپ کے لیے استغفار کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اُن کی قبروں کو منور کر دیتا ہے، عذاب کو دور کر دیتا ہے اور اُنہیں جنت کے باغوں کی ہوا نصیب فرماتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ روزانہ کم از کم ایک بار سچے دل سے اپنے والدین کے لیے دعا کرے، کیونکہ یہ اُن کا ہم پر سب سے بنیادی حق ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
2. والدین کی وفات کے بعد صدقہ و خیرات کرنا
والدین کی وفات کے بعد صدقہ و خیرات کرنا اُن کے حق میں ایک ایسا عظیم عمل ہے جو نہ صرف اُن کی مغفرت اور درجات کی بلندی کا سبب بنتا ہے بلکہ قیامت کے دن اُن کے لیے جاری نیکی کا خزانہ بھی بن جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "انسان کے والدین کے ساتھ بعد از وفات سب سے بہترین بھلائی یہ ہے کہ وہ ان کے لیے دعا کرے، استغفار کرے، ان کا قرض ادا کرے، ان کے دوستوں کی عزت کرے، اور ان کے رشتہ داروں سے تعلق جوڑے جیسے تعلق صرف ان کے ذریعے ہوتا تھا۔" (صحیح ابوداؤد)
صدقہ جاریہ، جیسے پانی کا نل لگوانا، مسجد میں پنکھا یا قالین رکھوانا، قرآن پاک وقف کرنا، کھانے کا اہتمام کرنا، یا اسپتال میں مریضوں کے لیے سہولیات مہیا کرنا، ایسے اعمال ہیں جو مستقل طور پر والدین کے لیے نیکیوں کا ذریعہ بنتے ہیں۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ: "اگر اولاد اپنے والدین کی نیت سے صدقہ کرے تو اُس کا ثواب اُن تک ضرور پہنچتا ہے، کیونکہ اولاد والدین کا ہی جزو ہے۔"
یہ عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ترین احسانات میں شمار ہوتا ہے۔ ایسے نیک اعمال والدین کے نامہ اعمال کو بعد از وفات بھی روشن رکھتے ہیں، قبر کی وحشت کو کم کرتے ہیں اور ان پر اللہ کی رحمت نازل کرتے ہیں۔ ایک پانی کا نل یا ایک قرآنِ مجید، جب تک لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں گے، والدین کے لیے نیکی لکھی جاتی رہے گی۔ ہمیں چاہیے کہ والدین کی بخشش کے لیے زندگی بھر صدقہ و خیرات کا اہتمام کرتے رہیں، کیونکہ یہ اُنکی ابدی راحت کا بہترین ذریعہ ہے۔
3. والدین کے قرض یا نذر ادا کرنا
اسلام میں قرض کی ادائیگی اور نذر پوری کرنے کو نہایت سنجیدہ ذمہ داری قرار دیا گیا ہے، خصوصاً جب یہ ذمہ داری والدین کی طرف سے رہ گئی ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مومن کی روح اُس کے قرض کی ادائیگی تک معلق رہتی ہے۔" (سنن ابن ماجہ) یعنی جب تک کسی مرحوم مومن کا قرض ادا نہ ہو، اُس کی روح کو مکمل نجات نہیں ملتی۔ یہ حدیث والدین کے قرض کے حوالے سے ہماری ذمے داری کو اجاگر کرتی ہے۔
اگر والدین نے کسی کا قرض دینا تھا یا کوئی نذر مانی تھی (مثلاً صدقہ دینا، روزہ رکھنا، یا قربانی کرنا)، اور وہ ان کے دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے پوری نہ ہو سکی، تو اُسے ادا کرنا اولاد کا شرعی اور اخلاقی فرض ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں کہ قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرنا یا اُسے اہمیت نہ دینا گناہ کبیرہ میں شامل ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف مرحوم کی روح متاثر ہوتی ہے بلکہ اللہ کے ہاں اس کا سخت محاسبہ بھی ہو سکتا ہے۔
والدین کی زندگی میں جو حقوق دوسروں پر باقی رہ گئے ہوں، ان کی ادائیگی والدین کی مغفرت، قبر کی راحت، اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اولاد والدین کے ترکے یا اپنی ذاتی حیثیت سے اُن کا قرض چکائے، اُن کی نذریں (عبادات یا صدقات) مکمل کرے، تاکہ اُن کی روح کو سکون اور رحمت نصیب ہو۔
4. والدین کے رشتہ داروں سے حسن سلوک
اسلامی تعلیمات میں صلہ رحمی (رشتہ داروں سے تعلق جوڑنا) کو بڑی فضیلت دی گئی ہے، اور یہ عمل والدین کی وفات کے بعد اُن کے ساتھ وفاداری کا ایک عظیم مظہر سمجھا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "سب سے بڑی نیکیوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان اپنے والد کے دوستوں اور تعلق داروں سے اُن کے بعد بھی تعلق قائم رکھے۔" (صحیح مسلم)
والدین کے قریبی رشتہ دار جیسے چچا، خالہ، ماموں، پھوپھی سے ملاقات، ان کے ساتھ ادب و محبت کا رویہ، عیادت کے وقت اُن کی خبر گیری، عید یا دیگر مواقع پر تحائف دینا، ان کی مالی یا اخلاقی مدد کرنا، اور وقتاً فوقتاً میل جول رکھنا، یہ سب وہ اعمال ہیں جو والدین کی نیکیوں کا تسلسل بن جاتے ہیں۔
امام ابو حنیفہؒ صلہ رحمی کو والدین کے بعد سب سے افضل نیکی قرار دیتے ہیں، کیونکہ رشتہ داروں سے تعلق والدین کی عزت اور اُن کے مقام کا احترام بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا، جو اولاد اپنے والدین کے رشتہ داروں سے نرمی، محبت، اور خیر خواہی کا برتاؤ کرتی ہے، وہ نہ صرف اپنے ماں باپ کو خوشی پہنچاتی ہے بلکہ اللہ کی طرف سے بھی مغفرت اور صلہ رحمی کے انعامات کی مستحق بن جاتی ہے۔
5. والدین کے دوستوں سے حسن سلوک
والدین کے انتقال کے بعد ان کے دوستوں سے حسن سلوک اور تعلق نبھانا ایک نہایت افضل عمل ہے، جسے نبی کریم ﷺ نے "ابر البر" یعنی سب سے بڑی نیکیوں میں شمار فرمایا ہے۔ حدیث مبارکہ ہے: "سب سے بڑی نیکیوں میں سے ایک نیکی یہ ہے کہ بیٹا اپنے والد کے دوستوں سے تعلق قائم رکھے۔" (صحیح مسلم) یہ عمل والدین کے ساتھ حقیقی وفاداری اور ان کی یاد سے جڑے احترام کا مظہر ہوتا ہے۔
امام مالکؒ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ والدین کے دوستوں سے تعلق رکھنا بھی ایک دینی عمل ہے، اور یہ گویا والدین سے تعلق کو برقرار رکھنے کے مترادف ہے۔ ان دوستوں کی عزت کرنا، ان کا احترام کرنا، وقتاً فوقتاً ان کے ساتھ ملاقات کرنا، اور ضرورت پڑنے پر ان کی مدد کرنا، یہ سب وہ اعمال ہیں جو والدین کو بعد از مرگ خوشی پہنچاتے ہیں اور اللہ کی رضا کا باعث بنتے ہیں۔
6. ایصالِ ثواب (نیک اعمال کا ہدیہ کرنا)
اسلام میں ایصالِ ثواب ایک مبارک اور مؤثر ذریعہ ہے جس کے ذریعے زندہ افراد اپنے مرحوم والدین یا دیگر عزیزوں کو نیکیوں کا تحفہ پیش کر سکتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اقْرَؤُوا الْقُرْآنَ عَلَى مَوْتَاكُمْ" (سنن ابن ماجہ) "اپنے مرحومین پر قرآن پڑھو۔" ایصالِ ثواب کا مطلب یہ ہے کہ انسان کوئی نیک عمل جیسے تلاوتِ قرآن، نفل نماز، صدقہ، روزہ، حج، عمرہ، قربانی، یا دعا وغیرہ کرے اور اُس کا ثواب اللہ کے حضور اپنے والدین کو بخشدے۔
ائمہ اربعہ میں سے تین امام ایصالِ ثواب کے مکمل قائل ہیں۔ جب کوئی اولاد سچے دل سے والدین کے لیے قرآن کی تلاوت کرتی ہے، نوافل پڑھتی ہے، صدقہ دیتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس عمل کو قبول فرما کر اُس کا پورا اجر والدین کی مغفرت اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ یہ عمل محبت اور وفاداری کا ایک عظیم مظہر ہے جو والدین کی روح کو سکون بخشتا ہے۔
7. والدین کی وصیت پوری کرنا
والدین کی زندگی میں کی گئی شرعی وصیت کو ان کی وفات کے بعد پورا کرنا اولاد کی ایک اہم دینی، اخلاقی اور شرعی ذمہ داری ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "وصیت ہر مسلمان پر حق ہے۔" (سنن ابن ماجہ) وصیت دراصل کسی مسلمان کی آخری خواہشات ہوتا ہے جو اس نے اپنی زندگی میں اللہ کی رضا اور بھلائی کے لیے کیا ہو۔
امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ ایسی تمام وصیتیں جو شریعت کے دائرے میں ہوں، اُن کو پورا کرنا لازمی ہے۔ والدین کی وصیت کو پورا کرنا نہ صرف ان کے ساتھ وفاداری کا مظہر ہے بلکہ یہ اللہ کی رضا کا بھی ذریعہ ہے۔ وصیت کی تعمیل سے والدین کی روح کو سکون ملتا ہے اور اولاد کو بھی اجر عظیم ملتا ہے۔
8. علمِ نافع یا صدقۂ جاریہ کا بندوبست کرنا
والدین کی وفات کے بعد ان کے لیے علمِ نافع یا صدقۂ جاریہ کا بندوبست کرنا ایک ایسی دائمی نیکی ہے جو اُن کے نامۂ اعمال میں مسلسل اضافہ کرتی رہتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں سوائے تین کے: صدقۂ جاریہ، نفع بخش علم، اور نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔" (صحیح مسلم)
اگر کوئی اولاد اپنے والدین کے نام سے دینی علم پھیلانے کی کوشش کرے، چاہے وہ ایک چھوٹا آن لائن لیکچر ہو یا کسی یتیم بچے کو قرآن سکھانا ہو، تو اس کا اجر والدین کو مسلسل پہنچتا رہتا ہے۔ اسی طرح والدین کے نام پر کوئی مدرسہ، مسجد، یا دینی ادارہ قائم کرنا بھی صدقہ جاریہ ہے جس کا ثواب انہیں ہمیشہ ملتا رہے گا۔ یہ عمل والدین کے لیے سب سے بڑی نیکیوں میں سے ایک ہے۔
9. والدین کی قبر پر جانا اور دعا کرنا
والدین کی قبر پر جانا، ان کے لیے دعا اور تلاوت کرنا نہ صرف ایک سنت عمل ہے بلکہ والدین کے ساتھ محبت، وفاداری اور آخرت کی تیاری کا بہترین ذریعہ بھی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "قبروں کی زیارت کیا کرو، یہ تمہیں آخرت کی یاد دلاتی ہے۔" (صحیح مسلم) قبر پر جا کر دعا، قرآنِ پاک کی تلاوت، سورہ فاتحہ، سورہ یٰسین یا دیگر اذکار پڑھنا والدین کے لیے ایصالِ ثواب کا ذریعہ بنتا ہے۔
امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ قبر کی زیارت کرنا اور وہاں دعا کرنا مستحب عمل ہے جو مرحوم کو خوشی پہنچاتا ہے۔ قبر پر جانے سے اولاد کو بھی اپنی موت کی یاد آتی ہے اور وہ اپنی آخرت کی تیاری کرتا ہے۔ یہ عمل والدین کی مغفرت اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بھی ہے۔
10. والدین کے نام سے اجتماعی نیکیوں کا انتظام
والدین کی وفات کے بعد اُن کے نام سے اجتماعی نیکیوں کا اہتمام کرنا ایک عظیم صدقۂ جاریہ ہے، جو ان کے لیے دائمی رحمت، درجات کی بلندی، اور مغفرت کا ذریعہ بنتا ہے۔ مثلاً: والدین کے نام پر کنواں یا پانی کا نل کھدوانا، یتیموں اور مسکینوں کو کھانا کھلانا، قرآن مرکز، دینی ادارہ یا مدرسہ قائم کرنا، اُن کی طرف سے حج و عمرہ کی نیابت کرنا۔ یہ سب وہ کام ہیں جن کا ثواب نہ صرف والدین کو مسلسل پہنچتا رہتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرماتا ہے۔
امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں کہ اجتماعی نیکیوں کا اہتمام والدین کی مغفرت کا بہترین ذریعہ ہے، خاص طور پر جب یہ نیکیاں دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائیں۔ اس لیے اولاد کو چاہیے کہ اپنے والدین کی نیت سے ایسے نیک اعمال کا اہتمام کرے جو دوسروں کے لیے بھی نفع بخش ہوں۔
📖 تفاسیر کی روشنی میں والدین کے حقوق
تفسیر ابن کثیر
امام ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: "اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم عبادت کے بعد ذکر کیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ والدین کا مقام اللہ کی عبادت کے بعد سب سے بلند ہے۔"
امام ابن کثیر کے مطابق والدین کے ساتھ نیکی کرنا عبادت کے بعد سب سے افضل عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کی وفات کے بعد بھی ان کے لیے نیکیوں کا سلسلہ جاری رکھنا اولاد کا فرض ہے۔
تفسیر القرطبی
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "والدین کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آنا، ان کی اطاعت کرنا، اور ان کے بعد ان کے لیے دعا کرنا سب سے بڑی نیکیوں میں شامل ہے۔"
اس تفسیر کے مطابق والدین کے لیے دعا کرنا بھی ان کے ساتھ نیکی کا ایک حصہ ہے۔ اولاد کو چاہیے کہ وہ اپنے والدین کے لیے زندگی بھر دعا کرتی رہے۔
تفسیر الجلالین
تفسیر جلالین میں ہے: "والدین کے ساتھ احسان کا تقاضا ہے کہ ان کے لیے دعا کریں، ان کی مغفرت طلب کریں، اور ان کے بعد ان کے رشتہ داروں سے تعلق رکھیں۔"
یہ تفسیر اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ والدین کی وفات کے بعد بھی ان کے ساتھ احسان کا سلسلہ جاری رہتا ہے، اور اولاد کو چاہیے کہ وہ ان کے لیے دعا، مغفرت اور رشتہ داروں سے تعلق کے ذریعے ان کے ساتھ نیکی کرتی رہے۔
📚 قرآن و احادیث کی روشنی میں والدین کے حقوق
قرآن مجید میں والدین کا مقام
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے۔ "اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا۔" (سورۃ الاحقاف، آیت 15)
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ والدین کے ساتھ نیکی کرنا اللہ کا حکم ہے، اور یہ حکم ان کی وفات کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔
احادیث نبوی ﷺ میں والدین کے بعد کے حقوق
صحیح مسلم (حدیث نمبر 1631):
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "بیشک نیکی کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ انسان اپنے والد کے دوستوں سے تعلق رکھے۔"
یہ حدیث اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ والدین کی وفات کے بعد ان کے دوستوں سے تعلق رکھنا بھی ایک نیکی ہے جو ان کے ساتھ وفاداری کا مظہر ہے۔
سنن ابی داود (حدیث نمبر 5141):
"آپ ﷺ نے فرمایا: 'جو شخص اپنے والدین کی وفات کے بعد ان کے لیے دعا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے مغفرت اور رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہے۔'
یہ حدیث اولاد کو والدین کی وفات کے بعد دعا کرنے کی ترغیب دیتی ہے، کیونکہ یہ عمل اللہ کی رحمت اور مغفرت کا ذریعہ ہے۔
🕌 ائمہ اربعہ کے احکامات
امام ابو حنیفہ کا موقف
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "والدین کی وفات کے بعد ان کے لیے دعا کرنا، ان کا قرض ادا کرنا، اور ان کے رشتہ داروں سے تعلق رکھنا سب سے بڑی نیکیوں میں شامل ہے۔"
امام ابو حنیفہ کے مطابق والدین کی وفات کے بعد ان کے ساتھ نیکی کا سلسلہ جاری رکھنا انتہائی اہم ہے، اور یہ عمل اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے۔
امام مالک کا بیان
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "والدین کی وفات کے بعد ان کی مغفرت کے لیے دعا کرنا اور ان کے دوستوں سے تعلق رکھنا والدین کے ساتھ احسان کا بہترین طریقہ ہے۔"
امام مالک نے اس بات پر زور دیا کہ والدین کی وفات کے بعد ان کے دوستوں سے تعلق رکھنا بھی ان کے ساتھ احسان کا حصہ ہے۔
امام شافعی کا موقف
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "اولاد کو چاہیے کہ اپنے والدین کی وفات کے بعد ان کے لیے صدقہ و خیرات کرے، ان کی قبر پر جائے، اور ان کے لیے دعا کرے۔ یہ سب اعمال والدین کی مغفرت کا ذریعہ ہیں۔"
امام شافعی نے والدین کی وفات کے بعد صدقہ، قبر کی زیارت اور دعا کو ان کی مغفرت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
امام احمد بن حنبل کا بیان
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "والدین کی وفات کے بعد ان کے لیے دعا کرنا اور ان کا قرض ادا کرنا اولاد کا فرض ہے۔ اگر اولاد ایسا کرتی ہے تو والدین کی روح کو سکون ملتا ہے۔"
ائمہ اربعہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ والدین کی وفات کے بعد ان کے لیے دعا، صدقہ، قرض کی ادائیگی اور رشتہ داروں سے تعلق رکھنا اولاد کی اہم ذمہ داریاں ہیں۔
🌍 دور جدید کی جاہلیت اور والدین کے حقوق
دور جدید میں والدین کے حقوق کی پامالی
آج کے دور میں والدین کے حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔ بوڑھے والدین کو اولاد کی طرف سے نظر انداز کیا جا رہا ہے، انہیں اولڈ ہومز میں چھوڑ دیا جا رہا ہے، اور ان کی وفات کے بعد بھی ان کے لیے دعا اور صدقہ کرنا بھول جاتے ہیں۔
دور جدید کی جاہلیت کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ اولاد اپنے والدین کو بوجھ سمجھنے لگی ہے۔ جب والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں تو اولاد انہیں اپنے گھروں میں جگہ دینے سے گریز کرتی ہے، ان کی دیکھ بھال نہیں کرتی، اور ان کی وفات کے بعد ان کے لیے دعا اور صدقہ کرنا بھول جاتی ہے۔
جاہلیت کے جدید نقصانات
- والدین کی بے عزتی: بوڑھے والدین کو بے عزت کیا جا رہا ہے، انہیں برا بھلا کہا جا رہا ہے۔
- والدین کو اولڈ ہومز میں چھوڑنا: اولاد اپنے بوڑھے والدین کو اولڈ ہومز میں چھوڑ کر اپنی ذمہ داری سے منہ موڑ رہی ہے۔
- دعا اور صدقہ کا ترک: والدین کی وفات کے بعد اولاد ان کے لیے دعا اور صدقہ کرنا بھول جاتی ہے۔
- رشتہ داروں سے تعلق کا خاتمہ: والدین کی وفات کے بعد اولاد رشتہ داروں سے تعلق ختم کر دیتی ہے۔
- مال کی لالچ: والدین کے انتقال کے بعد اولاد ان کے ترکے کے لیے آپس میں لڑنے لگتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور اپنے والدین کے ساتھ احسان کرو۔" (سورۃ البقرہ، آیت 83) یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ والدین کے ساتھ احسان کرنا اللہ کا حکم ہے، اور یہ حکم ان کی وفات کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔
🤔 غور و فکر کے پہلو
کیا ہم اپنے والدین کے حقوق ادا کر رہے ہیں؟
ہر اولاد کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیا وہ اپنے والدین کے حقوق ادا کر رہی ہے؟ کیا وہ ان کی زندگی میں ان کا خیال رکھتی ہے؟ کیا وہ ان کی وفات کے بعد ان کے لیے دعا اور صدقہ کرتی ہے؟
کیا ہم دور جدید کی جاہلیت کا شکار تو نہیں؟
ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔ کیا ہم اپنے بوڑھے والدین کو نظر انداز کر رہے ہیں؟ کیا ہم انہیں اولڈ ہومز میں چھوڑ رہے ہیں؟ کیا ہم ان کی وفات کے بعد ان کے لیے دعا کرنا بھول رہے ہیں؟
والدین کے بعد ہماری ذمہ داری کیا ہے؟
- دعا اور استغفار: روزانہ والدین کے لیے دعا کریں۔
- صدقہ و خیرات: والدین کے نام سے صدقہ کریں۔
- قرض کی ادائیگی: والدین کا قرض ادا کریں۔
- رشتہ داروں سے تعلق: والدین کے رشتہ داروں سے تعلق رکھیں۔
- والدین کے دوستوں کا احترام: والدین کے دوستوں کی عزت کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں والدین کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں دور جدید کی جاہلیت سے بچائے۔ آمین!
اولاد کا فرض ہے کہ رہے یہ نسب باقی ہے
دعا، صدقہ، حج، اور سلوکِ قرابتی
سب ہیں برِ والدین کی حقیقت باقی ہے