⚠️ خبردار! گیارہویں منانا ایک بدعت ہے جس کی کوئی اصل اسلامی تعلیمات میں نہیں ہے۔ یہ عمل دین میں غیر شرعی اضافہ ہے۔
📜 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کرے جو اس میں نہیں ہے، وہ رد (مردود) ہے۔" (صحیح بخاری)
"گیارہویں" منانا ایک خاص رسم ہے جو برصغیر پاک و ہند میں بڑے پیمانے پر ہے۔ گیارہویں سے مراد معروف صوفی بزرگ شیخ عبدالقادر جیلانی (رحمہ اللہ) کے نام سے منسوب ایک دینی و روحانی تقریب ہے۔ اسے "گیارہویں شریف" یا "گیارہویں کا ختم" بھی کہا جاتا ہے۔ اس تقریب میں قرآن خوانی، نعت خوانی، اور شیخ عبدالقادر جیلانی کی تعلیمات اور زندگی پر تقریریں ہوتی ہیں، اور ان کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں۔ اس کا مقصد ان بزرگ کی روح کے ایصال ثواب اور ان کے روحانی مرتبے کی یاد دہانی ہوتا ہے۔
گیارہویں منانا کیا ہے؟
"گیارہویں" منانا ایک خاص رسم ہے جو برصغیر پاک و ہند میں بڑے پیمانے پر ہے۔ گیارہویں سے مراد معروف صوفی بزرگ شیخ عبدالقادر جیلانی (رحمہ اللہ) کے نام سے منسوب ایک دینی و روحانی تقریب ہے۔ اسے "گیارہویں شریف" یا "گیارہویں کا ختم" بھی کہا جاتا ہے۔
گیارہویں منانے کا طریقہ
گیارہویں منانے کا طریقہ کار مختلف علاقوں اور فرقوں میں تقریباً یکساں ہوتا ہے، جس میں درج ذیل اعمال شامل ہیں:
قرآن خوانی اور دعائیں
قرآن خوانی، نعت خوانی اور دعا کا اہتمام کیا جاتا ہے، جس میں شرکت کرنے والے لوگ شیخ عبدالقادر جیلانی کی روح کے ایصال ثواب کے لیے دعا کرتے ہیں۔
فاتحہ خوانی
مرنے والوں کے لیے فاتحہ خوانی اور دعا کی جاتی ہے، اور شیخ عبدالقادر جیلانی کے نام پر صدقہ و خیرات کیا جاتا ہے۔
کھانے کا اہتمام
گیارہویں کے موقع پر کھانے کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے، جو حاضرین میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کھانے کو صدقہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تاکہ اس کا ثواب شیخ عبدالقادر جیلانی کو پہنچایا جا سکے۔
گھروں میں خصوصی دعائیں
گیارہویں کے موقع پر گھروں میں بھی خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں، اور لوگ اپنی حاجات پوری ہونے کی دعا کرتے ہیں۔
گیارہویں شریف کا عرس
گیارہویں شریف کا عرس خاص طور پر شیخ عبدالقادر جیلانی کے مریدین اور پیروکاروں کے منایا جاتا ہے۔ یہ عرس دنیا بھر کے مختلف ممالک میں منایا جاتا ہے، خاص طور پر برصغیر پاک و ہند میں۔ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں مختلف مقامات پر شیخ عبدالقادر جیلانی کے نام پر گیارہویں شریف کا عرس منایا جاتا ہے۔
بریلوی مسلک میں گیارہویں
گیارہویں منانے کا سب سے زیادہ اہتمام بریلوی میں کیا جاتا ہے۔ کیونکہ بریلوی مسلک کے پیروکار اللہ رب العزت کے در کو چھوڑ کر صوفیائے کرام اور اولیاء اللہ کے عرس اور ان کے نام پر منائی جانے والی تقریبات پر بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں، اور گیارہویں شریف کو خاص طور پر عبدالقادر جیلانی کی یاد میں مناتے ہیں۔
⚠️ اہم انتباہ: لوگ اپنی منتیں اور مرادیں، نذر و نیاز، چڑھاوے، قربانیاں حتیٰ کہ ہر وہ کام جو اللہ کے نام سے شروع ہونا چاہیے یا یوں کہیں کہ جو صفات اللہ کی ہیں کسی اور کو دینا اللہ کی وحدانیت پر شک کرنا یا شریک کرنا ہے۔ کبھی یہی مسلک میلاد کے عرس مناتا نظر آتا ہے تو کبھی شب برات کی تقریبات میں ملوث ہوتا ہے اسی لیے اس مسلک کے پیروکار زیادہ تر شرک کی عمیق گمراہیوں میں مبتلا ہیں۔ جو کہ معاشرتی اور دینی سطح پر برے ہے۔
گیارہویں کے موقع پر کاروباری پہلو
پاکستان اور بھارت کے کچھ علاقوں میں گیارہویں کے موقع پر گوشت فروش، سبزی فروش اور دودھ فروش عام طور پر چھٹی کرتے ہیں یا اپنا کاروبار بند رکھتے ہیں۔ ان کا مقصد گیارہویں شریف کی عقیدت اور تقدس کی کے طور پر کاروبار بند کرنا ہوتا ہے تاکہ اس دن کو مکمل طور پر روحانی انداز میں گزارا جا سکے۔ اس کے علاوہ، بعض لوگ اس دن کی چھٹی کو عبادت اور دعا کے لیے مختص کرتے ہیں اور اپنے کاروبار کو بند کر کے دعاؤں اور ذکر و اذکار میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
مختلف مذاہب میں گیارہویں کا تصور
گیارہویں منانے کا تصور صرف مسلمانوں میں پایا جاتا ہے، اور خاص طور پر صوفیائے کرام کے پیروکار اس کا اہتمام کرتے ہیں۔ تاہم، گیارہویں منانے کا تصور دوسرے مذاہب جیسے ہندو مت، عیسائیت یا زرتشت مذہب میں موجود نہیں ہے۔
گیارہویں منانے کی ابتدا
گیارہویں منانے کی رسم کی ابتدا شیخ عبدالقادر جیلانی (رحمہ اللہ) کے وصال کے بعد ہوئی۔ شیخ عبدالقادر جیلانی، جنہیں "غوث اعظم" بھی کہا جاتا ہے، کی وفات کے بعد ان کے پیروکاروں نے ان کے ایصال ثواب کے لیے مختلف رسومات کا آغاز کیا، جس میں گیارہویں شریف بھی شامل ہے۔ یہ رسم صوفی روایات کے تحت برصغیر پاک و ہند میں زیادہ مقبول ہوئی اور وقت کے ساتھ ساتھ ایک مستند رسم کی شکل اختیار کر گئی۔
گیارہویں شریف کا کاروباری پہلو
گیارہویں شریف اور دیگر مذہبی تقریبات بعض مقامات پر نفع بخش کاروبار کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ اس موقع پر کھانے پینے کی اشیاء کی خرید و فروخت، کھانے کے بڑے پیمانے پر اہتمام، کیٹرنگ سروسز، اور دیگر خدمات مہیا کی جاتی ہیں، جو اس تقریب کو کاروباری سرگرمیوں سے منسلک کرتی ہیں۔ بعض اوقات گیارہویں کی رسومات کو بڑے پیمانے پر منانے کے لیے لوگ اپنی معاشی حیثیت سے زیادہ خرچ کرتے ہیں، جس سے یہ رسم ایک مالی بوجھ بھی بن جاتی ہے۔
اسلام میں گیارہویں منانے کا حکم
اسلام میں گیارہویں منانے کا کوئی ذکر قرآن و سنت میں نہیں ملتا۔ اسلام میں تمام عبادات اور رسومات کو نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
📜 نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "ہر نئی چیز دین میں بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی کا انجام جہنم ہے"۔ (صحیح مسلم)
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں گیارہویں جیسی نئی رسومات کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اگرچہ شیخ عبدالقادر جیلانی (رحمہ اللہ) ایک بہت بڑے ولی اللہ تھے، لیکن ان کی یاد میں گیارہویں منانا اسلام کی اصل تعلیمات کے خلاف ہے۔
مختلف مسالک میں گیارہویں
بریلوی مسلک
بریلوی مسلک میں گیارہویں شریف کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، کیونکہ یہ مسلک صوفیازم سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ عبدالقادر جیلانی کو روحانی پیشوا کے طور پر مانا جاتا ہے، اور ان کے نام پر گیارہویں منانے کا رجحان زیادہ تر اسی مسلک میں پایا جاتا ہے۔
اہل تشیع
اگرچہ اہل تشیع میں گیارہویں شریف کا رواج عام نہیں ہے، لیکن اہل تشیع میں اولیاء اور اماموں کے عرس اور ایصال ثواب کے لیے رسومات کا اہتمام کیا جاتا ہے، اور اس وجہ سے بعض مقامات پر گیارہویں کا بھی اہتمام ہو سکتا ہے۔
احمدی مسلک
احمدیوں میں بھی گیارہویں شریف کا اہتمام کیا جاتا ہے، لیکن ان کا اس رسم کو منانے کا طریقہ کار اور عقائد بریلوی مسلک سے مختلف ہو سکتے ہیں۔
📖 تفاسیر کی روشنی میں گیارہویں کا حکم
تفسیر ابن کثیر
امام ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: "دین اسلام مکمل ہے، کسی کو اس میں اضافہ کرنے کا حق نہیں۔ جو شخص دین میں کوئی نئی بات ایجاد کرتا ہے، وہ گویا یہ کہہ رہا ہے کہ دین نامکمل تھا۔"
امام ابن کثیر کے مطابق گیارہویں منانا جیسی رسومات دین میں اضافہ ہیں۔ جب اللہ نے دین کو مکمل کر دیا تو پھر کسی کو اس میں اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
تفسیر القرطبی
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "جو شخص دین میں ایسی چیز داخل کرتا ہے جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول نے نہیں دیا، وہ گویا اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے۔"
اس تفسیر کے مطابق گیارہویں منانا ایک ایسا عمل ہے جس کا حکم اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے نہیں دیا، اس لیے یہ نافرمانی ہے۔
تفسیر الجلالین
تفسیر جلالین میں ہے: "اللہ تعالیٰ نے دین کو مکمل کر دیا ہے، اب کسی کو اس میں کمی یا بیشی کرنے کا حق نہیں۔"
یہ تفسیر اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ دین مکمل ہے اور اس میں کسی اضافے کی گنجائش نہیں۔ گیارہویں منانا دین میں اضافہ ہے۔
❓ کیا دین مکمل نہیں ہے جو یہ مکمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟
کیا واقعی دین مکمل نہیں ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنا دین نامکمل چھوڑ دیا تھا کہ لوگ آکر اسے مکمل کر رہے ہیں؟
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر فرمایا: "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کیا۔" (سورۃ المائدہ، آیت 3)
📌 غور طلب بات: جب اللہ نے خود فرمایا کہ اس نے دین مکمل کر دیا ہے، تو پھر یہ لوگ کون ہیں جو آ کر گیارہویں، چالیسواں، تیجہ اور دیگر رسومات ایجاد کر کے دین کو "مکمل" کر رہے ہیں؟ کیا اللہ کا کہنا غلط تھا؟ یا یہ لوگ اللہ سے زیادہ سمجھدار ہیں؟
⚠️ انتباہ: جو لوگ دین میں نئی رسومات شامل کرتے ہیں، وہ دراصل یہ کہہ رہے ہیں کہ اللہ کا دین نامکمل تھا اور ہم اسے مکمل کر رہے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا گناہ ہے اور ایمان کے لیے خطرناک ہے۔
نبی کریم ﷺ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ دین مکمل ہے اور کسی کو اس میں اضافہ کرنے کا حق نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "میں تمہارے لیے دین کو مکمل کر کے چھوڑ گیا ہوں۔" (صحیح مسلم)
گیارہویں منانا، چالیسواں منانا، تیجہ منانا، اور اس طرح کی دیگر رسومات دراصل دین میں اضافہ ہیں۔ یہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اللہ کا دین نامکمل تھا اور ہم اسے مکمل کر رہے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا دین مکمل ہے اور کسی کو اس میں اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
📚 احادیث کی روشنی میں بدعات کا رد
صحیح بخاری کی روایات
صحیح بخاری (حدیث نمبر 2697):
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات ایجاد کرے جو اس میں سے نہ ہو، وہ مردود ہے۔"
یہ حدیث بدعات کی بنیاد ہے۔ گیارہویں منانا بھی اسی زمرے میں آتا ہے کیونکہ اس کی کوئی بنیاد قرآن و سنت میں نہیں۔
صحیح بخاری (حدیث نمبر 7320):
"آپ ﷺ نے فرمایا: 'تمہارے اعمال ہی تمہیں جنت یا دوزخ تک پہنچائیں گے۔' صحابہ نے پوچھا: کیا صرف ہمارے اعمال کی بنا پر؟ آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہاں، مگر اللہ کی رحمت کے ساتھ۔'
اس حدیث سے واضح ہے کہ جنت کا حصول اعمال اور اللہ کی رحمت پر منحصر ہے، نہ کہ کسی گیارہویں یا رسم پر۔
صحیح مسلم کی روایات
صحیح مسلم (حدیث نمبر 1018):
"آپ ﷺ نے فرمایا: 'ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔'
گیارہویں منانا ایک بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ اس لیے ہمیں اس سے بچنا چاہیے۔
سنن ابی داود
سنن ابی داود (حدیث نمبر 4609):
"آپ ﷺ نے فرمایا: 'اللہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو مسجد اور پاکیزہ بنایا ہے، اور میری امت کے لیے جہاں بھی نماز کا وقت آ جائے، وہیں نماز پڑھ لے۔'
اس حدیث سے یہ بھی واضح ہے کہ عبادت کے لیے کسی خاص جگہ یا وقت کی ضرورت نہیں، گیارہویں جیسی رسومات بھی اس کی خلاف ورزی ہیں۔
⚠️ جہالت کے نقصانات
جہالت کا دین پر اثر
جہالت دین کی پاکیزگی کو تباہ کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ جب لوگ اپنے دین کو صحیح طور پر نہیں جانتے تو وہ بدعات اور خرافات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
جہالت کی وجہ سے لوگ گیارہویں، چالیسواں، تیجہ جیسی رسومات کو دین سمجھنے لگتے ہیں، جبکہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ جہالت ہی ہے جو لوگوں کو حقیقی اسلام سے دور کرتی ہے۔
جہالت کے معاشرتی نقصانات
- دینی تعلیمات کا زوال: جب لوگ بدعات کو دین سمجھنے لگتے ہیں تو حقیقی اسلامی تعلیمات سے دور ہو جاتے ہیں۔
- مال کا ضیاع: لوگ گیارہویں اور دیگر رسومات پر بے تحاشا پیسہ خرچ کرتے ہیں جو کہ ان کا ضیاع ہے۔
- وقت کا ضیاع: لوگ اپنا قیمتی وقت ان رسومات میں ضائع کر دیتے ہیں جو دین کا حصہ نہیں۔
- معاشرتی تقسیم: بدعات فرقہ واریت کو بڑھاتی ہیں اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرتی ہیں۔
- دین کی بدنامی: جب لوگ ان بدعات کو اسلام کے نام پر کریں گے تو دین کی بدنامی ہوگی۔
جہالت سے بچنے کا طریقہ
جہالت سے بچنے کا واحد راستہ علم حاصل کرنا ہے۔ قرآن و سنت کا مطالعہ کریں، معتبر علماء سے سیکھیں، اور اپنے عقائد کو صحیح طریقے سے سمجھیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔" (سنن ابن ماجہ)
🤔 غور و فکر کے پہلو
کیا ہم دین کو صحیح طور پر جانتے ہیں؟
ہم میں سے ہر شخص کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ہم اپنے دین کو صحیح طور پر جانتے ہیں؟ کیا ہم قرآن و سنت کو سمجھتے ہیں یا محض روایات کی اندھی تقلید کر رہے ہیں؟
کیا ہم بدعات کا شکار تو نہیں؟
ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔ کیا ہم گیارہویں، چالیسواں، تیجہ جیسی رسومات میں حصہ لیتے ہیں؟ کیا ہم جانتے ہیں کہ یہ بدعات ہیں؟
ہم بدعات سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
- قرآن و سنت کا مطالعہ کریں: دین کے صحیح احکامات کو خود سمجھیں۔
- معتبر علماء سے رجوع کریں: کسی بھی عقیدے کو قبول کرنے سے پہلے اس کی شرعی حیثیت جانچ لیں۔
- بدعات سے دور رہیں: ایسی جگہوں اور اجتماعات سے اجتناب کریں جہاں بدعات کو فروغ دیا جاتا ہو۔
- دوسروں کو آگاہ کریں: اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بدعات کے نقصانات سے آگاہ کریں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور ہمیں ہر قسم کی بدعت سے بچائے۔ آمین!
نتیجہ
🌟 خلاصہ: اسلام میں گیارہویں منانے کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے۔ گیارہویں ایک علاقائی اور ثقافتی رسم ہے جو بعد میں مسلمانوں میں رائج ہوئی ہے۔ قرآن و سنت میں اس کی کوئی بنیاد نہیں ملتی، اور علماء کے مطابق ایسی رسومات کو بدعت کہا جاتا ہے۔
📖 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی، اور اسلام کو تمہارے لیے دین کے طور پر پسند کیا"۔ (سورۃ المائدہ: 3)
🕌 لہذا، مسلمانوں کو دین کی اصل تعلیمات کی پیروی کرتے ہوئے غیر ضروری رسومات سے بچنا چاہیے، اور اپنی عبادات کو قرآن و سنت کے مطابق انجام دینا چاہیے۔
اللہ ہمیں بدعات سے بچائے اور سنت کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!