عشق یا دماغی خلل

عشق یا دماغی خلل

دوستو! جب ہم پیار، محبت اور عشق کی بات کرتے ہیں تو دھیان فوراً دوسری طرف نکل جاتا ہے۔ ہیر رانجھا، شیریں فرہاد، ممتاز محل اور انار کلی کے قصے ہمارے ذہن میں گھومنے لگتے ہیں، ہندی اور اردو فلموں کی کہانیاں یاد آ جاتی ہیں، ٹی وی ڈراموں کے کردار نظر کے سامنے آ جاتے ہیں اور اردو شاعری سے لے کر افسانوں اور ناولوں کے رومانوی مناظر کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کے کتاب کا کوئی صفحہ کھلتا ہوا یا اپنے اطراف کا کوئی واقعہ تازہ ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ فطری طور پر ہر انسان صنف مخالف کی کشش محسوس کرتا ہے اور اگر یہ بھی کہیں تو بیجا نہ ہوگا کہ تقریباً ہر انسان کی زندگی میں خاص طور پر عہد شباب میں کوئی نہ کوئی ایسا چھوٹا یا بڑا قلبی حادثہ ضرور رونما ہوتا ہے، جب وہ جنس مخالف کی کشش سے خود کو کھنچتا ہوا محسوس کرتا ہے۔

لیکن لوگ خامخواہ اسی کیفیت کو پیار، محبت اور عشق کا نام دیتے ہیں۔ کم از کم مجھے تو ایسی کسی کیفیت کو پیار، محبت اور عشق کا نام دینا علمی کج فہمی، جذبات اور تعلق کی فلاسفی سے عدم واقفیت اور ٹھاٹھے مارتے سمندر کو مٹھی میں قید کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔

جدید معاشرے میں محبت کا تصور

لوگوں نے پیار، محبت اور عشق کو بھی بازیچہ اطفال بنا رکھا ہے کہ ادھر کوئی نوجوان جوڑا ایک دوسرے سے قریب ہوا اور ادھر انہیں عاشق و معشوق کا نام دے دیا گیا۔ گویا عاشقی و معشوقی بھی گڑیا گڈے کا کھیل ہو کہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا، کسی مخالف جنس سے کچھ قربت ہوئی اور یہ کھیل شروع ہو گیا، جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے اور صاحب سراپہ عشق و وفا بن کر بزم عشاق میں آ بیٹھے۔

قف ہے کہ نفس کے کھیل کو، کریکٹر کی کمزوری کو، رنگارنگی اور لعولعاب کی کال کوٹھری کو پیار، عشق اور محبت پر قیاس کر لیا۔ اللہ اللہ ایسی گستاخی پیار، محبت اور عشق کی اس بازار جسم و ریا میں ہوئی کہ سچے پکے عاشق بھی منہ چھپائے گھر آ بیٹھ گئے۔

اس فضول اور لغو سوچ کی نشرو اشاعت میں ہمارے شعراء اور ارباب ادب و سخن کا عمل دخل بھی کچھ کم نہیں ہے۔ چاہے آتش کی بیاض ہو میر تقی میر کا دیوان، منیر نیازی کی کتھا ہو یا پروین شاکر کی قلیات، ہر جگہ پیار عشق اور محبت کا ایسا محدود اور پھیکا تصور تراشا گیا کہ کچھ سوچنے سمجھنے والا انسان اسے دماغ کا خلل نا کہے تو کیا کہے۔

البتہ اقبال اور غالب نے عشق کو سمجھا لیکن افسوس کے اکثر لوگوں نے انہیں نا سمجھا۔ کروڑوں اور اربوں میں کھیلتی بولی ووڈ ہو یا نجی ٹی چینلز کے رنگین ڈرامے سب نے پیار، عشق اور محبت کو جنس بنایا اور اس کی تجارت کی۔ گویے اور گائیک بھی پیچھے نہ رہے، زبان و بیان کے ٹھیکہ داروں نے بھی خوب خوب دکان چمکائی۔

حقیقی عشق کی پہچان

ہاں اس بندر بانٹ میں اگر برا ہوا تو بیچاری، پیار، محبت اور عشق کا کہ ایسی رسوا ہوئی کہ شریفوں نے ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے آنگن سے باہر نکال دیا اور بیچاری اندھیری گلیوں میں نفس کے پجاری آوارہ گردوں کے ہاتھ لگ گئی اور نا جانے ابھی اور اسے کتنے لوگوں کے کرتوتوں سے پامال ہونا ہے۔

کہ کسی سبزی فروش کی آٹھویں پاس بیٹی ہو یا کوئی گوالے کا ناکام بیٹا، کسی ارب پتی رئیس کی بگڑی ہوئی اولاد ہو یا کوئی فیشن اور گلیمر کی دنیا کی ہردل عزیز باربی ڈول، کسی یونیورسٹی کی کلاس سے بنک مارتا شہوت پرست جوڑا ہو یا کوئی خوف خدا سے عاری بازار حسن کے تاجر و مزدور، ہر کسی نے اپنے دھندے کو پیار، محبت اور عشق کا نام دے رکھا ہے۔

میرے نزدیک اگر کوئی پسندیدگی کو پیار، محبت اور عشق کے سطح پر لے جائے، اس پر دیوانگی، اور وارفتگی کا جھوٹا راگ بجائے تو یہ جذبات کے ساتھ، حقیقت کے ساتھ اور سچے پکے عشاق کے ساتھ جن کا عشق زمانہ و مکان کی قید سے آزاد، ہمیشہ کے لئے امر ہوتا ہے، سراسر ظلم ہوگا۔

عشق کی حقیقی نوعیت

لیکن لوگ اس پر بھی بس نہیں کرتے، ایسے احساسات کو جو نفس کی قید میں الجھا، بدن کے تقاضوں میں جکڑا اور وقت اور ضرورت کی زنجیروں میں بندھا ہو کو بھی پیار، عشق اور محبت پر قیاس کرنے لگتے ہیں، حالانکہ یہ سب دماغ کا خلل، روح کی آورگی اور بدن کی بھوک کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

کہ جب روح نقل مکانی کر جائے، بدن کی بھوک مٹ جائے، اور وقت اپنے نشیب و فراز سے گزر کر بدل جائے تو کیا ہوتا ہے، بڑے بڑے عاشق و معشوق کہلانے والے بھی ایک دوسرے کے دشمن ہو جاتے ہیں اور نظریں ملانا تو درکنار نام سننے کے بھی رواں نہیں رہتے۔

اگر یہ سب نہ بھی ہو تو کم از کم وہ احساسات باقی نہیں رہتے جسے اچھے بھلے بھی اپنی کل متاع سمجھ بیٹھتے ہیں۔ پھر ایسے ہی دل جلے پیار، عشق محبت کو فریب، مال اور وقت کا ضیاع اور دماغ کا خلل قرار دیے پھرتے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے پیار، محبت اور عشق یا ان میں کچھ بھی کبھی کیا ہی نہیں ہوتا۔

سچے عشق کی نشانیاں

میں نے ہرگز یہ نہیں کہا کہ مرد و عورت کے بیچ کبھی کوئی عاشق و معشوقی قائم نہیں ہوتی، ایسا ہوتا ہے، یقیناً لوگ ایک دوسرے سے پیار، عشق اور محبت کرتے ہیں، لیکن ایسے عشق کا ادراک اور تجربہ ہمیں کم ہی ہوتا ہے۔

بات یہ ہے کہ سچے پکے عاشق کبھی اپنے عشق کا ڈھنڈورا نہیں پٹتے اور وہ اظہار کی رائج طریقوں کے بھی محتاج نہیں ہوتے۔ ایسے عشاق ہمارے گھروں میں بھی ہو سکتے ہیں، کم از کم میں نے اپنے گھر میں اپنے والدین کو ایسا ہی پاکیزہ رشتہ میں بندھے دیکھا۔

اقبال نے ستاروں سے آگے کی بات کی اور لوگ زمین سے اٹھنے کے لئے بھی تیار نہیں، غالب نے فلک کی رعنائی کا منظر باندھا لیکن لوگ ابھی دریاؤں اور پربتوں تک بھی نہیں پہنچے۔

سو لوگ جسے پیار محبت اور عشق کہتے ہیں عشاق اسے شناسائی سے بھی پہلے کی کوئی بے ضرر سی پسندیدگی یا کوئی وقتی اور حادثاتی تعلق سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔

میں نے اویس قرنی سے یہی سنا ہے،
رابعہ بصری مجھے یہی بتاتی ہیں،
سعدی، حافظ اور رومی کا مسلک بھی یہی ہے۔
بقول شاعر؛

مکتب عشق کہ دستور نرالے ہیں
اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یا د کیا

نتیجہ

اگر عقل سلیم ہو تو یہ بات سمجھنا مشکل نہیں کہ عشق مجازی بھی ہوتا، حقیقی بھی، کم بھی ہوتا اور زیادہ بھی اور گھٹتا بھی ہے اور بڑھتا بھی۔ مجازی عشق کی کچھ حدود ہوتی ہیں لیکن حقیقی تمام حدود قیود سے آزاد ہی رہتا ہے۔

دنیا میں بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو واقعی کسی سے پیار، محبت اور عشق کرنے لگتے ہیں لیکن ایسے لوگ تو آٹے میں نمک کے برابر ہوتے ہیں جو مجازی سے حقیقی اور حقیقی سے مجازی عشق کا سفر کرتے ہیں۔

پھر یہ عشق وہ نہیں ہوتا جس پر غالب کہ اٹھے کہ:
بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندا ہائے گل

کہتے ہیں جسے عشق وہ خلل ہے دماغ کا