غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی فہرست میں انتالیسواں گناہ عالم کا اپنے علم پر عمل نہ کرنا ہے۔ یہ ایک ایسی حالت کو ظاہر کرتا ہے جس میں ایک عالم دین، جو علم کا خزانہ رکھتا ہے، خود اس پر عمل نہیں کرتا۔ قرآن و حدیث کے مطابق، عالم وہ شخص ہوتا ہے جسے اللہ نے علم سے نوازا ہوتا ہے، اور اس کے فرائض میں یہ شامل ہے کہ وہ دوسروں کو علم سکھانے کے ساتھ ساتھ خود بھی اس علم پر عمل کرے۔
📖 عالم کا علم پر عمل نہ کرنا: ایک سنگین گناہ
لیکن جب عالم خود اپنے علم پر عمل نہیں کرتا، تو وہ دوسروں کو گمراہ کرنے اور خود گمراہی کا شکار ہونے کا سبب بن جاتا ہے۔ علم کا مقصد صرف سیکھنا نہیں بلکہ اس پر عمل کرنا اور دوسروں کو اس کی روشنی دینا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
🏜️ دور جاہلیت میں علماء کی بے عملی
دور جاہلیت میں علمائے دین کی بے عملی کا بھی ذکر ملتا ہے۔ قرآن مجید میں بنی اسرائیل کے علماء کی مثال دی گئی ہے جو اپنی کتابوں کو تو محفوظ رکھتے تھے، مگر ان کے احکامات پر عمل نہیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رویے کو سخت ناپسند فرمایا اور اس کا موازنہ گدھے سے کیا جو کتابیں اٹھاتا ہے مگر ان کا کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا:
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ علمائے حق اگر اپنے علم پر عمل نہ کریں تو وہ صرف کتابوں کو محفوظ رکھنے والے رہ جاتے ہیں، ان کا علم دوسروں کے لیے بے فائدہ اور خود ان کے لیے وبال بن جاتا ہے۔
📜 قرآن میں علماء کی بے عملی کی مذمت
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں علماء کی بے عملی کی متعدد جگہوں پر مذمت فرمائی ہے۔ علماء کو چاہیے کہ وہ دوسروں کو جو کچھ سکھاتے ہیں، خود بھی اس پر عمل کریں۔
🕊️ دوسرے مذاہب میں عالم کی بے عملی
دوسرے مذاہب میں بھی عالم کا اپنے علم پر عمل نہ کرنا ایک بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر عیسائیت میں بھی علمائے دین کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا جو وہ لوگوں کو اچھائی کی تعلیم دیتے مگر خود اس پر عمل نہ کرتے:
اسی طرح ہندو مذہب اور بدھ مت میں بھی گرو اور عالم کے لیے یہ فرض قرار دیا گیا ہے کہ وہ جو سکھاتا ہے، خود بھی اس پر عمل کرے۔ تاہم، ان مذاہب میں اس کی عدم پیروی کو بھی ایک بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔
📋 عالم کے عمل نہ کرنے کی وجوہات
عالم کا اپنے علم پر عمل نہ کرنے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں:
- دنیاوی مال و دولت کی محبت: علمائے کرام بعض اوقات دنیاوی مال و دولت کے چکر میں اپنے فرائض کو بھول جاتے ہیں۔
- ریاکاری: لوگوں کے سامنے علم کی نمائش کرنا اور دنیاوی فائدہ اٹھانا علم پر عمل کرنے کے بجائے ترجیح بن جاتا ہے۔
- نفس کی پیروی: بعض اوقات عالم کا دل نفس کے زیر اثر ہوتا ہے اور وہ علم کے باوجود عمل کرنے سے قاصر رہتا ہے۔
- شہرت کا شوق: شہرت اور مقبولیت کے حصول کے لیے علم کا استعمال کرنا۔
- دینی فرائض میں سستی: دینی فرائض کو معمولی سمجھنا اور ان میں سستی کرنا۔
🌙 رسول اللہ ﷺ کا فرمان
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن عالم سے خصوصی طور پر اس کے علم کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ علم کا مقصد صرف سیکھنا نہیں بلکہ اس پر عمل کرنا اور دوسروں کو اس کی روشنی دینا ہے۔
⚖️ قیامت کے دن عالم سے سوال
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
یہ سوالات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ علم اللہ کی طرف سے ایک عظیم امانت ہے، اور اس پر عمل نہ کرنا اس امانت کی خیانت کے مترادف ہے۔
📚 ائمہ کرام کا موقف
ائمہ کرام نے بھی اس مسئلے پر سختی سے روشنی ڈالی ہے۔ امام غزالیؒ فرماتے ہیں:
امام ابن قیمؒ نے فرمایا: "علم کی حقیقت اس پر عمل کرنا ہے، ورنہ یہ صرف حجت اور وبال ہے۔"
🌍 آج کے دور میں علماء کی بے عملی
آج کے دور میں علماء اپنے علم پر عمل نہ کرنے کو معمولی سمجھنے لگے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیاوی لذات اور مال و دولت کی محبت نے انہیں اندھا کر دیا ہے۔ علماء کا علم پر عمل نہ کرنا صرف ان کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری امت کے لیے گمراہی کا سبب بنتا ہے۔
آج سوشل میڈیا پر دھاڑی کا مذاق بنایا جاتا ہے یا یوں سمجھ لیں کہ دھاڑی والے اب ٹک ٹاکر بن کر مذاق بنارہے ہیں۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ اللہ کی نشانیوں کو جھٹلانے اور ان کا مذاق بنانے والوں کے ساتھ کیا اللہ نے کیسا دردناک عذاب سے دوچار کیا آج وہ خود مذاق بن کر رہ گئے۔ کیا ہم اس نقش قدم پر نہیں چل رہے۔
یاد رکھیے! دجال کا فتنہ اسی وقت ظاہر ہوگا جب اہل علما اپنی امت میں وعظ نصیحت کرنا چھوڑ چکے ہونگے۔ عالم اپنے علم پر اتراتا پھرے گا۔ مساجد ویران ہوں گی۔ تبلیغ میں دم نہیں ہوگی کیونکہ اعمال علم کے مطابق نہیں۔ یعنی قول و فعل میں تضاد پایا جاتا ہے۔ عبادات میں خلوص کہاں ہوگا۔ ہمارے نصاب میں تبدیلیاں کر کے صرف وہ کچھ پڑھایا جا رہا ہے جو صرف ایک تاریخی اعتبار سے بتایا گیا اور واقعات کی طرح سمجھایا جاتا ہے۔ اس کے کیا نتائج ہوں گے یہ تو نہ ہم پڑھنا چاہ رہے ہیں اور پڑھانے والے آمادہ ہیں پڑھانے کو۔ اور پھر ہم توقع کرتے ہیں اے اللہ! ہم کو صلاح الدین ایوبی جیسی اولاد نصیب فرما۔
🛡️ علم پر عمل کرنے کے طریقے
عالم کو اپنے علم پر عمل کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات کرنے چاہییں:
- اخلاص نیت: علماء کو چاہیے کہ وہ علم سکھانے سے پہلے اپنے دل میں اخلاص پیدا کریں اور علم پر عمل کو ترجیح دیں۔
- تقویٰ اختیار کریں: علم کا اصل مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے، اس لیے تقویٰ اختیار کرنا ضروری ہے۔
- تزکیہ نفس: نفس کو علم کی روشنی سے منور کریں تاکہ علم پر عمل کرنا آسان ہو۔
- دوسروں کو پہلے عمل کی دعوت دیں: لوگوں کو پہلے عمل کی ترغیب دیں اور خود اس پر عمل کریں۔
- دنیاوی لالچ سے بچیں: دنیاوی مال و دولت اور شہرت کے لالچ سے بچیں۔
- علم کا استعمال عوام کی خدمت میں کریں: اپنے علم کو عوام کی خدمت اور ان کی ہدایت کے لیے استعمال کریں۔
🤲 نتیجہ
اللہ ہمیں اپنے علم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اس گناہ سے محفوظ رکھے۔ آمین!