غفلت میں چھپے 50 گناہ: 39 - عالم کا اپنے علم پر عمل نہ کرنا

عالم کا اپنے علم پر عمل نہ کرنا

غفلت میں چھپے 50 گناہوں کی فہرست میں انتالیسواں گناہ عالم کا اپنے علم پر عمل نہ کرنا ہے۔ اگر آپ مزید آرٹیکل پڑھنا چاہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔

عالم کا اپنے علم پر عمل نہ کرنا ایک ایسی حالت کو ظاہر کرتا ہے جس میں ایک عالم دین، جو علم کا خزانہ رکھتا ہے، خود اس پر عمل نہیں کرتا۔ قرآن و حدیث کے مطابق، عالم وہ شخص ہوتا ہے جسے اللہ نے علم سے نوازا ہوتا ہے، اور اس کے فرائض میں یہ شامل ہے کہ وہ دوسروں کو علم سکھانے کے ساتھ ساتھ خود بھی اس علم پر عمل کرے۔ لیکن جب عالم خود اپنے علم پر عمل نہیں کرتا، تو وہ دوسروں کو گمراہ کرنے اور خود گمراہی کا شکار ہونے کا سبب بن جاتا ہے۔

دور جاہلیت میں علمائے دین کی بے عملی کا بھی ذکر ملتا ہے۔ قرآن مجید میں بنی اسرائیل کے علماء کی مثال دی گئی ہے جو اپنی کتابوں کو تو محفوظ رکھتے تھے، مگر ان کے احکامات پر عمل نہیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رویے کو سخت ناپسند فرمایا اور اس کا موازنہ گدھے سے کیا جو کتابیں اٹھاتا ہے مگر ان کا کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا:

ارشاد ربانی: "ان کی مثال جن کو تورات کا بوجھ دیا گیا پھر انہوں نے اس کو نہ اٹھایا، اس گدھے کی طرح ہے جو کتابیں اٹھاتا ہے۔" اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ علمائے حق اگر اپنے علم پر عمل نہ کریں تو وہ صرف کتابوں کو محفوظ رکھنے والے رہ جاتے ہیں، ان کا علم دوسروں کے لیے بے فائدہ اور خود ان کے لیے وبال بن جاتا ہے۔

دوسرے مذاہب میں بھی عالم کا اپنے علم پر عمل نہ کرنا ایک بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر عیسائیت میں بھی علمائے دین کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا جو وہ لوگوں کو اچھائی کی تعلیم دیتے مگر خود اس پر عمل نہ کرتے:

"They tie up heavy, cumbersome loads and put them on other people's shoulders, but they themselves are not willing to lift a finger to move them." (Matthew 23:4)

اسی طرح ہندو مذہب اور بدھ مت میں بھی گرو اور عالم کے لیے یہ فرض قرار دیا گیا ہے کہ وہ جو سکھاتا ہے، خود بھی اس پر عمل کرے۔ تاہم، ان مذاہب میں اس کی عدم پیروی کو بھی ایک بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔

عالم کا اپنے علم پر عمل نہ کرنے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں:

دنیاوی مال و دولت کی محبت: علمائے کرام بعض اوقات دنیاوی مال و دولت کے چکر میں اپنے فرائض کو بھول جاتے ہیں۔

ریاکاری: لوگوں کے سامنے علم کی نمائش کرنا اور دنیاوی فائدہ اٹھانا علم پر عمل کرنے کے بجائے ترجیح بن جاتا ہے۔

نفس کی پیروی: بعض اوقات عالم کا دل نفس کے زیر اثر ہوتا ہے اور وہ علم کے باوجود عمل کرنے سے قاصر رہتا ہے۔

اسلام میں عالم کا اپنے علم پر عمل نہ کرنا سخت گناہ سمجھا گیا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "قیامت کے دن عالم کی کمر پر سخت بوجھ ہوگی، اور اس سے اس کے علم کے متعلق سوال کیا جائے گا کہ اس نے کہاں سے علم حاصل کیا اور کہاں استعمال کیا۔" اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن عالم سے خصوصی طور پر اس کے علم کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ علم کا مقصد صرف سیکھنا نہیں بلکہ اس پر عمل کرنا اور دوسروں کو اس کی روشنی دینا ہے۔

قرآن مجید اور احادیث میں اس بات کی سخت وعید دی گئی ہے کہ جو عالم اپنے علم پر عمل نہیں کرتا، اس کا انجام بہت برا ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "ایک شخص کو قیامت کے دن لایا جائے گا، اور وہ دوزخ میں ڈالا جائے گا، پھر اس کی آنتیں دوزخ میں باہر نکل آئیں گی اور وہ ان کے گرد چکر کاٹے گا، جیسے گدھا اپنی چکی کے گرد چکر کاٹتا ہے، تو دوزخ کے لوگ اس کے پاس آ کر کہیں گے کہ اے فلاں! تمہارے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیا تم ہمیں نیکی کا حکم نہیں دیتے تھے؟ تو وہ کہے گا کہ میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا تھا، لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتا تھا۔"

ایک حدیث میں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن بندہ اپنی جگہ سے قدم نہیں ہٹا سکے گا جب تک کہ اس سے پانچ سوالات نہ کر لیے جائیں: عمر کہاں گزار، جوانی کیسے گزاری، مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا، اور علم کہاں سے حاصل کیا اور کہاں استعمال کیا۔" یہ سوالات اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ علم اللہ کی طرف سے ایک عظیم امانت ہے، اور اس پر عمل نہ کرنا اس امانت کی خیانت کے مترادف ہے۔

ائمہ کرام نے بھی اس مسئلے پر سختی سے روشنی ڈالی ہے۔ امام غزالیؒ فرماتے ہیں: "علم وہ روشنی ہے جو دل میں روشنی پیدا کرتا ہے، مگر اگر اس علم پر عمل نہ کیا جائے تو یہ روشنی دل سے نکل جاتی ہے اور عالم اندھے کی طرح بن جاتا ہے۔"

آج کے دور میں علماء اپنے علم پر عمل نہ کرنے کو معمولی سمجھنے لگے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیاوی لذات اور مال و دولت کی محبت نے انہیں اندھا کر دیا ہے۔ علماء کا علم پر عمل نہ کرنا صرف ان کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری امت کے لیے گمراہی کا سبب بنتا ہے۔ آج سوشل میڈیا پر دھاڑی کا مذاق بنایا جاتا ہے یا یوں سمجھ لیں کہ دھاڑی والے اب ٹک ٹاکر بن کر مذاق بنارہے ہیں۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ اللہ کی نشانیوں کو جھٹلانے اور ان کا مذاق بنانے والوں کے ساتھ کواللہ نے کیسا دردناک عذاب سے دوچار کیا آج وہ خود مذاق بن کر رہ گئے۔ کیا ہم اس نقش قدم پر نہیں چل رہے۔

یاد رکھیے! دجال کا فتنہ اسی وقت ظاہر ہوگا جب اہل علما اپنی امت میں وعظ نصیحت کرنا چھوڑ چکے ہونگے۔ عالم اپنے علم پر اتراتا پھرے گا۔ مساجد ویران ہوں گی۔ تبلیغ میں دم نہیں ہوگی کیونکہ اعمال علم کے مطابق نہیں۔ یعنی قول و فعل میں تضاد پایا جاتا ہے۔ عبادات میں خلوص کہاں ہوگا۔ ہمارے نصاب میں تبدیلیاں کر کے صرف وہ کچھ پڑھایا جا رہا ہے جو صرف ایک تاریخی اعتبار سے بتایا گیا اور واقعات کی طرح سمجھایا جاتا ہے۔ اس کے کیا نتائج ہوں گے یہ تو نہ ہم پڑھنا چاہ رہے ہیں اور پڑھانے والے آمادہ ہیں پڑھانے کو۔ اور پھر ہم توقع کرتے ہیں اے اللہ! ہم کو صلاح الدین ایوبی جیسی اولاد نصیب فرما۔

اخلاص نیت: علماء کو چاہیے کہ وہ علم سکھانے سے پہلے اپنے دل میں اخلاص پیدا کریں اور علم پر عمل کو ترجیح دیں۔

تقویٰ اختیار کریں: علم کا اصل مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے، اس لیے تقویٰ اختیار کرنا ضروری ہے۔

تزکیہ نفس: نفس کو علم کی روشنی سے منور کریں تاکہ علم پر عمل کرنا آسان ہو۔

اللہ ہمیں اپنے علم پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اس گناہ سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

مزید آرٹیکل پڑھنے کے لیے ویب سائٹ وزٹ کریں۔

جوا کھیلنا، بیوی کو خاوند کے خلاف بھڑکانا، لعنت کرنا، احسان جتلانا، دیوث بننا، میلاد منانا، حلالہ کرنا یا کروانا، ہم جنس پرستی

جاندار کو آگ میں جلانا، پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا، سود کھانا، ظلم کرنا، رشوت لینا یا دینا، زنا کرنا