عذابِ الہی کو دعوت دینے والے تین گھر
رسول اللہ ﷺ نے تین گھروں کے بارے میں خبردار کیا جو اللہ کے عذاب کو دعوت دیتے ہیں۔ جانئے وہ کون سے ہیں اور اپنے گھر کو کیسے بچائیں۔
تعارف
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے رہنے کے لیے گھر جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی۔ گھر انسان کے لیے سکون، آرام اور حفاظت کی جگہ ہوتا ہے۔ یہ وہ مقدس جگہ ہے جہاں انسان اپنے خاندان کے ساتھ زندگی گزارتا ہے، اللہ کی عبادت کرتا ہے اور اپنے بچوں کی تربیت کرتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے گھر کو سکون کا مقام قرار دیا ہے:
"اور اللہ نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو سکون کی جگہ بنایا۔"
لیکن جب گھر میں اللہ کی نافرمانی ہونے لگے، اس کی حدود کو پامال کیا جانے لگے، تو یہی گھر اللہ کے غضب اور عذاب کو دعوت دینے کا سبب بن جاتا ہے۔ احادیث مبارکہ میں ایسے تین گھروں کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ کے عذاب کے مستحق ہو جاتے ہیں۔ یہ تین گھر وہ ہیں جن میں:
- شراب نوشی کی جاتی ہو
- کتا پالا جاتا ہو (ضرورت کے بغیر)
- گانا بجانا ہوتا ہو
آئیے ان تینوں گھروں کو تفصیل سے پہچانیں اور اپنے گھروں کو ان مصیبتوں سے بچانے کی کوشش کریں۔
پہلا گھر: وہ گھر جس میں شراب پینے والے رہتے ہوں
شراب اسلام میں سب سے بڑے گناہوں میں سے ایک ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شراب کو نجس اور شیطانی عمل قرار دیا ہے:
"اے ایمان والو! شراب، جوا، بت اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے بچو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔"
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"شراب تمام برائیوں کی جڑ ہے۔" (نسائی)
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
جب کوئی گھر شراب نوشی کا مرکز بن جاتا ہے، تو اس گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے، بلکہ شیاطین کا مسکن بن جاتا ہے۔ ایسے گھر میں بیماری، بداخلاقی، غربت اور تباہی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
ایک اور حدیث میں آتا ہے:
"شراب نہ پیو، کیونکہ یہ تمام برائیوں کی کنجی ہے۔" (ابن ماجہ)
جس گھر میں شراب پی جائے، وہاں دیگر گناہوں کے لیے راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔ زنا، جھوٹ، چوری، بدکاری جیسے گناہ ایسے ہی گھروں سے پھیلتے ہیں۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو جن قوموں میں شراب عام ہوئی، وہ تباہ و برباد ہوئیں۔
دوسرا گھر: وہ گھر جس میں کتا پالا جائے
حیوانات سے محبت اور ان کی دیکھ بھال کرنا انسانی فطرت ہے، لیکن اسلام نے بعض جانوروں کو گھر میں رکھنے سے منع فرمایا ہے، جن میں کتا بھی شامل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔" (بخاری و مسلم)
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ کتا پالنے والے گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ فرشتوں کا نہ آنا اس بات کی علامت ہے کہ اس گھر میں برکت نہیں ہوتی، اللہ کی رحمت نہیں ہوتی اور شیاطین زیادہ فعال ہو جاتے ہیں۔
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:
"جس نے شکار یا کھیتی باڑی یا مویشیوں کی حفاظت کے سوا کسی اور مقصد کے لیے کتا پالا، تو اس کے عمل سے ہر روز دو قیراط نیکی کم ہوتی ہے۔" (بخاری)
یعنی ضرورت کے بغیر صرف تفریح یا سجاوٹ کے لیے کتا پالنا منع ہے۔ اس سے فرشتوں کی برکتیں اٹھ جاتی ہیں اور گھر کی روحانی برکت کم ہو جاتی ہے۔
- شکار کے لیے
- کھیتی باڑی یا مویشیوں کی حفاظت کے لیے
- گھر یا جائیداد کی حفاظت کے لیے (شدید ضرورت کی صورت)
کتا پالنے کے نقصانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کی لعاب دہن ناپاک ہے اور اگر یہ برتن وغیرہ کو چاٹ لے تو انہیں دھونا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ کتے کی موجودگی میں فرشتے نہیں آتے، جس کا مطلب ہے کہ اس گھر میں روحانی برکتیں کم ہو جاتی ہیں۔
تیسرا گھر: وہ گھر جس میں گانا بجانا ہو
موسیقی اور گانا بجانا اسلام میں حرام ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو کھیل تماشے کی باتیں خریدتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے گمراہ کریں۔" (لقمان: 6)
اس آیت میں "لہو الحدیث" سے موسیقی اور گانے بجانے مراد ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"میری امت میں کچھ لوگ شراب کو حلال کر لیں گے جسے وہ دوسرے ناموں سے پکاریں گے، ان کے سروں پر گانے والیاں گائیں گی اور موسیقی بجائی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں بندر اور خنزیر بنا دے گا۔" (ابن ماجہ)
ایک اور حدیث میں ہے:
"گانا بجانا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے جیسے پانی سبزہ اگاتا ہے۔" (بیہقی)
جس گھر میں گانا بجانا، فحش فلمیں دیکھنا یا غیر شرعی تفریحات کا اہتمام ہو، وہ گھر اللہ کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے۔ ایسے گھروں میں اخلاقی گراوٹ، بے حیائی اور نفاق پیدا ہوتا ہے۔
- دل میں نفاق پیدا کرتا ہے
- اللہ کی یاد سے غافل کر دیتا ہے
- اخلاقی گراوٹ کا باعث بنتا ہے
- بے حیائی کو فروغ دیتا ہے
- فرشتوں کی رحمت سے محروم کر دیتا ہے
آج کے دور میں ٹیلی ویژن، موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے موسیقی اور گانے بجانے کا رواج بہت عام ہو گیا ہے۔ ہمیں اپنے گھروں کو ان آلودگیوں سے پاک رکھنا چاہیے اور اپنے بچوں کی تربیت اس طرح کرنی چاہیے کہ وہ ان چیزوں سے دور رہیں۔
ان تینوں گناہوں کا مشترکہ نقصان
ان تینوں گناہوں میں کچھ مشترکہ نقصانات ہیں جو ہر اس گھر میں پائے جاتے ہیں جہاں یہ گناہ ہوتے ہیں:
- اللہ کی رحمت سے محرومی: ان تینوں گناہوں کی وجہ سے اللہ کی رحمت اور برکتیں گھر سے اٹھ جاتی ہیں۔
- فرشتوں کا نہ آنا: ان گناہوں کی وجہ سے رحمت کے فرشتے گھر میں داخل نہیں ہوتے۔
- شیاطین کا مسکن: یہ گناہ شیاطین کو گھر میں آنے کی دعوت دیتے ہیں۔
- اخلاقی گراوٹ: ان گناہوں کی وجہ سے گھر کے افراد کی اخلاقیات گر جاتی ہیں۔
- خاندانی انتشار: ان گناہوں کی وجہ سے خاندان میں جھگڑے اور اختلافات بڑھ جاتے ہیں۔
- معاشی بربادی: شراب اور موسیقی پر پیسہ خرچ کرنے سے معاشی حالت خراب ہوتی ہے۔
- اولاد کی بری تربیت: ان گناہوں والے گھر میں بچوں کی تربیت بری ہوتی ہے۔
اپنے گھر کو کیسے بچائیں؟
ہمیں اپنے گھروں کو ان تباہیوں سے بچانا ہوگا۔ ہمارے گھر اللہ کی عبادت، ذکر و اذکار اور پاکیزہ گفتگو کا مرکز ہونے چاہئیں۔ تب ہی ہمارے گھروں پر اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کے دروازے کھلیں گے۔
کچھ عملی اقدامات جو ہم اپنے گھروں کو بچانے کے لیے کر سکتے ہیں:
- گھر میں شراب کو آنے سے روکیں: شراب کی خریداری، فروخت یا استعمال سے گریز کریں۔
- کتے کو گھر سے باہر رکھیں: اگر کتا پالنا ضروری ہے تو اسے گھر کے اندر نہ رکھیں، بلکہ صحن یا باہر رکھیں۔
- گانا بجانے سے گریز کریں: گھر میں موسیقی، گانے اور غیر شرعی تفریحات سے پرہیز کریں۔
- گھر کو ذکر و عبادت کا مرکز بنائیں: گھر میں قرآن پاک کی تلاوت، اذکار اور نماز کا اہتمام کریں۔
- بچوں کی تربیت کریں: بچوں کو ان گناہوں کے نقصانات سے آگاہ کریں۔
- نیک لوگوں سے تعلق رکھیں: ایسے لوگوں سے دوستی کریں جو اللہ کی راہ پر ہوں۔
خلاصہ
اللہ تعالیٰ نے ہمیں گھر جیسی نعمت دی ہے تاکہ ہم اس میں اس کی عبادت کریں، اپنے خاندان کی تربیت کریں اور پاکیزہ زندگی گزاریں۔ لیکن جب گھر میں گناہ ہونے لگیں تو یہ نعمت عذاب کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
- شراب پینے والا گھر اللہ کے عذاب کو دعوت دیتا ہے۔
- کتا پالنے والا گھر فرشتوں کی رحمتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔
- گانا بجانا والا گھر نفاق اور اخلاقی گراوٹ کا مرکز بن جاتا ہے۔
ہمیں اپنے گھروں کو ان تباہیوں سے بچانا ہوگا۔ ہمارے گھر اللہ کی عبادت، ذکر و اذکار اور پاکیزہ گفتگو کا مرکز ہونے چاہئیں۔ تب ہی ہمارے گھروں پر اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کے دروازے کھلیں گے۔
آئیے ہم اپنے گھروں کو شراب، کتے اور گانے بجانے جیسی لعنتوں سے پاک کریں اور انہیں اللہ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیابی عطا کرے گا۔