عذاب الہیٰ کو دعوت دینے والے تین گھر

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے رہنے کے لیے گھر جیسی نعمت عطا فرمائی۔ گھر انسان کے لیے سکون، آرام اور حفاظت کی جگہ ہوتا ہے۔ لیکن جب گھر میں اللہ کی نافرمانی ہونے لگے، اس کی حدود کو پامال کیا جانے لگے، تو یہی گھر اللہ کے غضب اور عذاب کو دعوت دینے کا سبب بن جاتا ہے۔ احادیث مبارکہ میں ایسے تین گھروں کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ کے عذاب کے مستحق ہو جاتے ہیں۔ آئیے ان گھروں کو پہچانیں اور اپنے گھروں کو ان مصیبتوں سے بچانے کی کوشش کریں۔

1. وہ گھر جس میں شراب پینے والے رہتے ہوں

شراب اسلام میں سب سے بڑے گناہوں میں سے ایک ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"شراب تمام برائیوں کی جڑ ہے۔" (نسائی)

ایک اور حدیث میں ہے:

"شراب پینے والا، اسے پلانے والا، اسے بیچنے والا، اسے خریدنے والا، اسے پلانے والا، اسے اٹھانے والا اور اس کی طرف لے جانے والا سب پر اللہ کی لعنت ہے۔" (ابن ماجہ)

جب کوئی گھر شراب نوشی کا مرکز بن جاتا ہے، تو اس گھر میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے، بلکہ شیاطین کا مسکن بن جاتا ہے۔ ایسے گھر میں بیماری، بداخلاقی، غربت اور تباہی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔

ایک اور حدیث میں آتا ہے:

"شراب نہ پیو، کیونکہ یہ تمام برائیوں کی کنجی ہے۔" (ابن ماجہ)

جس گھر میں شراب پی جائے، وہاں دیگر گناہوں کے لیے راستہ ہموار ہو جاتا ہے۔ زنا، جھوٹ، چوری، بدکاری جیسے گناہ ایسے ہی گھروں سے پھیلتے ہیں۔

2. وہ گھر جس میں کتا پالا جائے

حیوانات سے محبت اور ان کی دیکھ بھال کرنا انسانی فطرت ہے، لیکن اسلام نے بعض جانوروں کو گھر میں رکھنے سے منع فرمایا ہے، جن میں کتا بھی شامل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔" (بخاری و مسلم)

ایک اور حدیث میں ہے:

"جس نے شکار یا کھیتی باڑی یا مویشیوں کی حفاظت کے سوا کسی اور مقصد کے لیے کتا پالا، تو اس کے عمل سے ہر روز دو قیراط نیکی کم ہوتی ہے۔" (بخاری)

یعنی ضرورت کے بغیر صرف تفریح یا سجاوٹ کے لیے کتا پالنا منع ہے۔ اس سے فرشتوں کی برکتیں اٹھ جاتی ہیں اور گھر کی روحانی برکت کم ہو جاتی ہے۔

3. وہ گھر جس میں گانا بجانا ہو

موسیقی اور گانا بجانا اسلام میں حرام ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"میری امت میں سے کچھ لوگ شراب کو حلال کر لیں گے جسے وہ دوسرے ناموں سے پکاریں گے، ان کے سروں پر گانے والیاں گائیں گی اور موسیقی بجائی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں بندر اور خنزیر بنا دے گا۔" (ابن ماجہ)

ایک اور حدیث میں ہے:

"آواز والا باجا (گانا بجانا) نفاق پیدا کرتا ہے جیسے پانی سبزہ اگاتا ہے۔" (بیہقی)

جس گھر میں گانا بجانا، فحش فلمیں دیکھنا یا غیر شرعی تفریحات کا اہتمام ہو، وہ گھر اللہ کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے۔ ایسے گھروں میں اخلاقی گراوٹ، بے حیائی اور نفاق پیدا ہوتا ہے۔

خلاصہ

اللہ تعالیٰ نے ہمیں گھر جیسی نعمت دی ہے تاکہ ہم اس میں اس کی عبادت کریں، اپنے خاندان کی تربیت کریں اور پاکیزہ زندگی گزاریں۔

  1. شراب پینے والا گھر اللہ کے عذاب کو دعوت دیتا ہے۔
  2. کتا پالنے والا گھر فرشتوں کی رحمتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔
  3. گانا بجانا والا گھر نفاق اور اخلاقی گراوٹ کا مرکز بن جاتا ہے۔

ہمیں اپنے گھروں کو ان تباہیوں سے بچانا ہوگا۔ ہمارے گھر اللہ کی عبادت، ذکر و اذکار اور پاکیزہ گفتگو کا مرکز ہونے چاہئیں۔ تب ہی ہمارے گھروں پر اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کے دروازے کھلیں گے۔

آئیے ہم اپنے گھروں کو شراب، کتے اور گانے بجانے جیسی لعنتوں سے پاک کریں اور انہیں اللہ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنائیں۔