فہرست مضامین
قارئین کرام!
ہمیں اس بات کا فخر کرنا چاہیے کہ ہم مسلمان ہیں، مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ماننے والے ہیں۔ ایک پیاری بات یہ ہے کہ اللہ کے نبی حضرت محمد ﷺ نے اپنی امت کو ہر وہ چھوٹی سے چھوٹی بات بھی بتائی جس میں امت کی بھلائی اور بہتری پوشیدہ تھی۔
فخر ہے مجھے اس امتی کا پیروکار ہونے کے ناطے کہ جس کی پہلی وحی اور پہلا لفظ ہی "اقراء" ہے یعنی علم حاصل کرنے کی اہمیت بتائی "ماں کی گود سے لے کر قبر تک علم حاصل کرنا، اسی طرح علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے" وغیرہ وغیرہ۔
صفائی کو نصف ایمان کہا گیا، مسلمان دن میں پانچ بار نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، جسم کی صفائی، محلے کی صفائی، گھر کی صفائی غرض یہ کہ ہر ایک چیز جو امت کو بتلائی گئی اللہ کے نبی حضرت محمد ﷺ نے پہلے خود عمل کر کے دکھایا اور پھر امت پر لاگو کیا گیا۔
کچھ لوگوں کا تو ماننا ہے کہ جو احکامات بتلائے گئے تھے وہ صرف اسی دور پر لاگو ہوتے تھے جو اسی دور میں موجود تھے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے آپ ﷺ کی بتائی ہوئی ایک ایک بات سچی ہے اور قیامت تک کے آنے والے لوگوں تک کی رہنمائی موجود ہے۔
📜 تعارف: مسلمانوں کا سنہری دور
ایک زمانہ تھا جب مسلمان دنیا کے علم و تہذیب کے مرکز تھے۔ بغداد، قرطبہ، قاہرہ اور دمشق جیسے شہر علم و دانش کے مینارے تھے جہاں دنیا بھر کے طلبہ علم حاصل کرنے آتے تھے۔ مسلم سائنسدان، فلسفی، معالج اور ریاضی دان اپنے دور کے سب سے بڑے ماہر تھے۔
مسلمانوں نے ریاضی، فلکیات، طب، کیمیا، فلسفہ اور فن تعمیر میں ایسی خدمات انجام دیں جنہوں نے دنیا کی راہ بدل دی۔ الجبرا، الگوریتھم، صفر کا تصور، اور ہسپتالوں کا نظام سب مسلمانوں کی دین ہے۔
یہی وہ دور تھا جب یورپ تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا، جہاں لوگ نہانے کو کفر سمجھتے تھے اور جاہلیت کے اندھیروں میں زندگی بسر کر رہے تھے۔
🏛️ یورپ کا تاریک دور اور مسلمانوں کا عروج
تاریخی کتب گواہ ہیں اور چیخ چیخ کر حال یورپ بیان کرتی ہیں کہ ایک دور تھا جب فرانس کا بادشاہ دربار میں ننگا ہی چلا آیا کرتا تھا۔ کیونکہ جینے کا ڈھنگ، طریقہ سلیقہ اور تہذیب و تمیز سے خالی لوگ تھے یہ، ان کے وزراء، مشیر، اعلیٰ عہدیدار سب قضائے حاجت کے لیے دربار میں موجود پردوں کے پیچھے پیشاب کیا کرتے تھے۔
انہی بدبوؤں اور تعفن کے عوض ہی خوشبوؤں پر کام کیا گیا۔ جیسے میں ذکر کر چکا ہوں کہ جینے کا ڈھنگ نہیں تھا لہذا اہل یورپ میں نہانے کو کفر سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے یورپین لوگوں سے سخت بدبو آتی تھی، تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں آج بھی نہانے کو کفر سمجھا جاتا ہے یہاں تک کہ نہانے کے لیے گھروں میں حمام تک موجود نہیں ہیں۔
اسی طرح روس کے لوگ بھی صفائی پسند نہیں تھے، مشہور سیاح ابن الفضلان نے اپنے سفر نامے میں روس کے کچھ اس طرح حالات بیان کیے (احمد بن فضلان جو کہ غالباً عرب سفیر کا سیکرٹری تھا اور دسویں صدی عیسوی میں عباسی خلیفہ کے کہنے پر بغداد سے روس روانہ ہوا اور اس کے سفرنامہ سے قدیم روس کے کافی حالات و واقعات منظر عام پر آئے):
"کہ روس کا بادشاہ پیشاب آنے پر مہمانوں کے سامنے کھڑے کھڑے شاہی محل کی دیواروں پر پیشاب کرتا تھا اور بول و براز کرنے کے بعد کوئی استنجاء نہیں کرتا تھا، ایسی گندی مخلوق میں نے آج تک کہیں نہیں دیکھی"۔
📖 مسلمانوں کی علمی خدمات اور یورپ کا قرض
سفر نامہ ڈنمارک میں محمد اسلم علی پوری بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے یورپی دوست کے ہاں تشریف فرما تھا تو میں نے اسے بتایا کہ "جو تمہارے ہاں قالین، کافی، باتھ روم، شیمپو اور عورت کے پردے کے پیش نظر جو الگ تھلگ باورچی خانہ ہے سب مسلمانوں کی دین ہے یہاں تک کہ ہسپتال اور لیبارٹری کا تصور بھی مسلم سائنسدان ابولقاسم الزاہروی کے ذہن کی تخلیق ہے اسی طرح سائنسی اور دوسرے ڈھیر سارے علوم جو ہم نے تم کو دیے"۔
اس پر اس یورپی دوست نے ہنس کر پوچھا تو پھر ہمارا کیا ہے؟ تو محمد اسلم علی پوری نے جواب دیا کہ تمہارے پاس اس وقت "علم" ہے، ارے اسے حاصل کرنے کا تو ہمیں حکم دیا گیا تھا مگر افسوس! تم خوش قسمت ہو کہ آج تمہارے پاس علم کا خزانہ ہے۔ تمہیں ہم سلام پیش کرتے ہیں۔ جب کبھی ہم علم حاصل کر جائیں گے تو انشاء اللہ ہم بھی دنیا میں ترقی کر جائیں گے۔
لیکن آج موجودہ صورتحال یہ ہے کہ یورپ ہم سے ہمارا سارا علم، سائنس لے گیا اور بدلے میں دے گیا ہمیں احساس کمتری میں جینا، ہمیں فیشن نامی لفظوں کے ہیر پھیر میں بیہودگی دے گیا۔ ہمیں ماڈرن ازم کے نام پر کھلے عام بے حیائی دے دی۔ ہم نے ہر اس چیز کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا جو ہمارے لیے باعث تباہی بنتی چلی گئی۔
⚠️ زوال کے اسباب: کہاں غلطی ہوئی؟
انہوں نے آزادی کے نام پر غلط تعبیریں اور خواہشات کی راہ میں بھٹکنے دیا اور ہم بھٹکتے چلے گئے۔ پھر ایسا ہوا کہ وہ چاند پر جا رہے تھے اور ہم کفر پرستی کے فتوے لگانے میں مشغول ہو گئے۔ وہ مریخ کو تسخیر کرنے چلے تھے اور ہم 1300 سو سال گزرے ہمارے اسلاف کے مسلمان ہونے یا کافر ہونے پر بحث کرنے میں لگ گئے۔
ہائے افسوس! ہم نے آپ ﷺ کے کرتے مبارک، جوتے، عمامہ، رضائی، اور جانے کیا کیا بنا ڈالے، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے بتائے ہوئے راستے کو چھوڑ کر دین میں غلو اور کتب احادیث میں ردوبدل کرنے میں کوشاں ہیں۔
اہل یورپ نے سمندر میں پیٹرول کے ذخائر کرنا شروع کیے اور ہم نے پیٹرول سے جلاؤ، گھیراؤ، اور آگ لگانے کا کام شروع کیا۔ انہوں نے ادب و ادبیات میں شاہکار چیزیں پیدا کرنا شروع کیں جس سے نوجوان نسل کے افکار تبدیل ہو سکیں۔ جبکہ ہم نے لب و رخسار، چائے کی پیالی، کالج بیوٹی جیسے موضوعات پر اپنا ادب بند کر لیا۔
انہوں نے قرآن کو اپنی تحقیق کا حصہ بنا لیا اور ہم نے قرآن سمجھنے، پڑھنے اور عمل کرنے کی بجائے اچھے اچھے قیمتی غلاف بنانے شروع کر دیے اور الماریوں کی زینت بنا دیا۔ انہوں نے حضرت عمر فاروق کی سی سادگی اپنا لی اور ہم نے قارون کی عیاشی کو اپنا مقدر بنا لیا۔
💡 موجودہ حالات اور لمحہ فکریہ
جب وہ اپنے بچوں کو زندگی کی حقیقت اور ستاروں پر کمندیں ڈالنا سکھا رہے ہیں اور ہم کدو، بینگن اور دیگر اشیاء پر لفظ اللہ اور محمد کی تلاش میں لگوا رہے ہیں، ہم سکول، کالج، یونیورسٹی میں رٹے لگا کر فرسٹ، سیکنڈ اور تھرڈ پوزیشن لینے کے گر سکھانے میں لگے ہیں۔
آج ہم اپنی نسلوں کو مادیت پرستی کی بھٹی میں جھونک کر صرف پیسے کمانے کو کامیابی اور ترقی کا ستارہ قرار دے رہے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو جینا سکھا رہے ہیں اور ہم ایک دوسرے سے جیتنا سکھا رہے ہیں۔ جب وہ لوگ شیکسپئر اور گوئٹے کے کلام کو الہامی قرار دے رہے ہیں، ہم عین اسی وقت اقبال کے کلام کو مشکل، فرسودہ کہہ کر اپنے نصابوں سے فارغ کر رہے ہیں۔
جب تک مسلمان اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے رہے اور دنیا پر فاتح رہے اور جونہی اللہ کو چھوڑا، اللہ پاک نے بہترین قوم کو مغلوب بنا دیا اور غالب کر دیا ایک اجڈ اور گوار قوم کو۔
📝 نتیجہ اور راہ حل
مسلمانوں نے اپنا وقار کیسے کھویا؟ یہ سوال ہر مسلمان کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ہم نے اپنی تہذیب، اپنے علم اور اپنی پہچان کو کھو دیا کیونکہ ہم نے اپنے دین سے منہ موڑ لیا۔ ہم نے مغرب کی اندھی تقلید شروع کر دی اور اپنی اسلامی اقدار کو پس پشت ڈال دیا۔
حل یہ ہے کہ ہم اپنے دین کی طرف لوٹیں، قرآن و سنت کو اپنا رہنما بنائیں، علم حاصل کریں، اپنی نسلوں کو اسلامی تعلیمات سے آشنا کریں اور اپنی تہذیب پر فخر کریں۔ جب ہم اپنے دین پر مضبوطی سے قائم ہوں گے تو اللہ ہمیں دنیا میں بھی عزت دے گا۔
"اور تم اللہ کی مضبوط رسی کو مل کر تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔" (آل عمران: 103)
یہ لمحہ فکریہ ہے ہم سب کے لیے (اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔ آمین)