دین کی پاکیزگی پر 50 بدعتی حملے
قل خوانی کرنا - اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بدعات کا خاتمہ اور سنت کو اپنانے کی اہمیت
تعارف
دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کو ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی محمد ﷺ کے ذریعے دین کو مکمل کیا اور اسے ہر قسم کی بدعات سے پاک رکھنے کا حکم دیا۔ تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ مختلف بدعات نے دین کی پاکیزگی کو متاثر کیا ہے۔ ان بدعات میں سے ایک اہم بدعت "قل خوانی" ہے۔
قل خوانی کا رواج خاص طور پر برصغیر پاک و ہند میں پایا جاتا ہے اور یہ ایک ایسی رسم ہے جو مخصوص دنوں پر مرنے والوں کے لیے قرآن پاک کی مخصوص سورتوں کا اہتمام کرتی ہے۔ اس مضمون میں ہم قل خوانی کی حقیقت، اس کی ابتدا، اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کے شرعی حکم کا جائزہ لیں گے۔
قل خوانی کا مفہوم
قل خوانی کا مطلب مخصوص دنوں پر، جیسے فوتگی کے بعد تیسرے، ساتویں یا چالیسویں دن قرآن پاک کی مخصوص سورتیں پڑھنا ہے۔ عموماً سورۃ الفاتحہ، سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق، اور سورۃ الناس کو پڑھا جاتا ہے، جنہیں "قل" کہا جاتا ہے۔
اس موقع پر بعض لوگ مختلف کھانے تیار کرتے ہیں اور اسے لوگوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جبکہ مقصد مرنے والے کے لیے ایصالِ ثواب ہوتا ہے۔ یہ رسم وقت کے ساتھ ساتھ ایک سماجی تقریب میں تبدیل ہو گئی ہے جہاں کھانے پینے کا اہتمام زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
قل خوانی ایک بدعت ہے
قل خوانی ایک بدعت ہے۔ بدعت وہ عمل ہوتا ہے جو دین میں نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے دور میں نہ تھا لیکن بعد میں ایجاد کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
قل خوانی کا عمل نبی ﷺ کے زمانے میں نہ تھا اور نہ ہی صحابہ کرام نے اس کا اہتمام کیا۔ اسی لیے اسے بدعت شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ اسلام کے اصل احکام سے ہٹ کر ایک نئی رسم ہے۔
بدعت کا مفہوم اور اس کی مذمت
بدعت کا مطلب ہے دین میں کوئی نئی چیز یا عمل شامل کرنا جو قرآن و سنت میں موجود نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے بدعت کو ضلالت (گمراہی) قرار دیا ہے:
بدعات کا دین پر یہ حملہ ہوتا ہے کہ وہ دین کی اصل پاکیزگی کو خراب کر دیتی ہیں اور لوگوں کو حقیقی دینی تعلیمات سے دور کر دیتی ہیں۔ بدعات کی کئی اقسام ہیں جن میں سے بعض عقائد سے متعلق ہیں، بعض عبادات سے، اور بعض معاملات و عادات سے۔
قل خوانی بدعت کی اس قسم میں آتی ہے جو عبادات کے سلسلے میں ایجاد کی گئی ہے۔ جب کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ قل خوانی ایک نیکی یا ثواب کا کام ہے، تو وہ دراصل ایک بدعت کو اپنا رہا ہے جو اسے اللہ سے دور کر سکتی ہے۔
علماء کا کردار
بعض علماء اور مولوی حضرات نے لوگوں کی اس بدعتی رسم کو اپنایا اور اس میں شامل ہو گئے، اور اکثر مواقع پر قل خوانی کو دعوتوں اور کھانے کے مواقع میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس عمل سے دین کے بنیادی اصول اور مقصد پیچھے رہ گئے، اور کھانے کی تقریب زیادہ اہمیت اختیار کر گئی۔
علماء کا اصل کردار لوگوں کو بدعات سے بچانا اور سنت کی طرف رہنمائی کرنا ہے۔ بدقسمتی سے بعض علماء نے اس بدعت کو فروغ دیا، جس کی وجہ سے یہ رسم عام ہو گئی۔ تاہم، بہت سے جید علماء نے قل خوانی کو بدعت قرار دیتے ہوئے اس سے منع کیا ہے۔
قل خوانی کی ابتدا
قل خوانی کی ابتدا دورِ خلافت کے بعد ہوئی اور یہ خاص طور پر برصغیر پاک و ہند میں پھیلنے والی ایک بدعت ہے، جس کا رواج مختلف صوفی سلسلوں اور فرقوں کے ذریعے ہوا۔ اسلامی تعلیمات میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، اور یہ زیادہ تر ہندوانہ رسوم و رواج سے متاثر ہو کر مسلمانوں کے درمیان داخل ہوئی۔
برصغیر میں جب اسلام آیا تو یہاں کی مقامی ثقافتوں اور رسومات کا اثر مسلمانوں پر پڑا۔ ہندو مذہب میں مرنے والوں کے لیے مخصوص دنوں پر رسومات ادا کرنے کا رواج تھا، جس نے مسلمانوں کی بعض رسومات کو متاثر کیا۔ قل خوانی بھی انہی اثرات کا ایک نتیجہ ہے۔
اس بدعت کے پھیلنے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ اپنے پیاروں کے لیے کچھ کرنے کا شوق رکھتے ہیں اور جب انہیں سنت کا صحیح طریقہ معلوم نہیں ہوتا تو وہ ان بدعات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ایصال ثواب کا شرعی طریقہ
مرنے والوں کے لیے ایصال ثواب کرنا ایک نیک عمل ہے، لیکن اس کا طریقہ اسلام میں متعین ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں مرنے والوں کے لیے ثواب پہنچانے کے چند طریقے ہیں:
- دعا کرنا: مرنے والوں کے لیے دعا کرنا سب سے بہترین عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ان کی مغفرت اور جنت میں بلند درجات کی دعا کریں۔
- صدقہ دینا: مرنے والوں کی طرف سے صدقہ دینا جائز ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے چچا کی طرف سے صدقہ دیا تھا۔
- نیک اعمال: مرنے والوں کی طرف سے نیک اعمال کرنا، جیسے قرآن پڑھنا، روزہ رکھنا، حج کرنا وغیرہ۔
- زندہ بچوں کی نیکیاں: بچوں کی نیکیاں بھی والدین تک پہنچتی ہیں۔
یاد رہے! قل خوانی ایک رسم ہے جو محض بدعت ہے، دین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کو دین بنانے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے لیکن ناہضم ہونے والی یہ رسم اپنے پورے زور و شور سے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اس گناہ سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم قرآن و سنت کی تعلیمات کو صحیح طرح سے سمجھیں اور علماء کرام سے رہنمائی لیں۔ بدعتوں سے دوری اختیار کریں اور سنت پر عمل پیرا ہوں۔
خلاصہ
قل خوانی ایک بدعت ہے جس کا اسلام میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہ رسم برصغیر میں مختلف ثقافتی اثرات کے تحت داخل ہوئی اور وقت کے ساتھ ساتھ ایک عام رواج بن گئی۔ تاہم، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مرنے والوں کے لیے ایصال ثواب کے شرعی طریقوں کو اپنائیں۔
ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات کو مضبوطی سے تھامنا چاہیے اور بدعات سے بچنا چاہیے۔ مرنے والوں کے لیے دعا، صدقہ اور دیگر نیک اعمال کرنا چاہیے، لیکن قل خوانی جیسی رسوم کو ترک کر دینا چاہیے۔
اس بدعت کے خاتمہ کے لیے ہمیں عوام میں شعور اجاگر کرنا ہوگا اور لوگوں کو قرآن و سنت کی تعلیمات سے آگاہ کرنا ہوگا۔ علماء کرام کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں اور لوگوں کو صحیح راہ دکھائیں۔
آئیے ہم اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں اور ان تمام رسوم و رواج کو ترک کریں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ سنت کو اپنانا اور بدعات سے بچنا ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیابی عطا کرے گا۔