دین کی پاکیزگی پر 50 بدعتی حملے 2- قل خوانی کرنا

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بدعات کے بارے میں اہم معلومات

قل خوانی کرنا - بدعت

قل خوانی کرنا

قل خوانی کا مطلب مخصوص دنوں پر، جیسے فوتگی کے بعد تیسرے، ساتویں یا چالیسویں دن قرآن پاک کی مخصوص سورتیں پڑھنا ہے۔ عموماً سورۃ الفاتحہ، سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق، اور سورۃ الناس کو پڑھا جاتا ہے، جنہیں "قل" کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر بعض لوگ مختلف کھانے تیار کرتے ہیں اور اسے لوگوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، جبکہ مقصد مرنے والے کے لیے ایصالِ ثواب ہوتا ہے۔

قل خوانی ایک بدعت ہے

قل خوانی ایک بدعت ہے۔ بدعت وہ عمل ہوتا ہے جو دین میں نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے دور میں نہ تھا لیکن بعد میں ایجاد کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی چیز نکالی جو اس میں سے نہیں تھی، وہ مردود ہے"۔ قل خوانی کا عمل نبی ﷺ کے زمانے میں نہ تھا اور نہ ہی صحابہ کرام نے اس کا اہتمام کیا۔ اسی لیے اسے بدعت شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ اسلام کے اصل احکام سے ہٹ کر ایک نئی رسم ہے۔

بدعت کا مفہوم

بدعت کا مطلب ہے دین میں کوئی نئی چیز یا عمل شامل کرنا جو قرآن و سنت میں موجود نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے بدعت کو ضلالت (گمراہی) قرار دیا ہے: "ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا انجام جہنم ہے"۔ بدعات کا دین پر یہ حملہ ہوتا ہے کہ وہ دین کی اصل پاکیزگی کو خراب کر دیتی ہیں اور لوگوں کو حقیقی دینی تعلیمات سے دور کر دیتی ہیں۔

علماء کا کردار

بعض علماء اور مولوی حضرات نے لوگوں کی اس بدعتی رسم کو اپنایا اور اس میں شامل ہو گئے، اور اکثر مواقع پر قل خوانی کو دعوتوں اور کھانے کے مواقع میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس عمل سے دین کے بنیادی اصول اور مقصد پیچھے رہ گئے، اور کھانے کی تقریب زیادہ اہمیت اختیار کر گئی۔

قل خوانی کی ابتدا

قل خوانی کی ابتدا دورِ خلافت کے بعد ہوئی اور یہ خاص طور پر برصغیر پاک و ہند میں پھیلنے والی ایک بدعت ہے، جس کا رواج مختلف صوفی سلسلوں اور فرقوں کے ذریعے ہوا۔ اسلامی تعلیمات میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، اور یہ زیادہ تر ہندوانہ رسوم و رواج سے متاثر ہو کر مسلمانوں کے درمیان داخل ہوئی۔

دورِ جاہلیت میں

دورِ جاہلیت میں قل خوانی کی بدعت موجود نہیں تھی، لیکن مرنے والوں کے لیے مختلف غیر شرعی طریقے اپنائے جاتے تھے۔ جیسے مرنے والے کی شان و شوکت کا اظہار اور اس کی یاد میں کھانے کی دعوتیں دینا۔ اسلام نے اس قسم کے رسوم کو ختم کیا اور سادگی، ایصال ثواب اور دعا کا حکم دیا۔

دیگر مذاہب میں

ہندومت اور بدھ مت میں مرنے والوں کے لیے مختلف رسم و رواج ہوتے ہیں جن میں پوجا، مذہبی سورتوں کا پڑھنا، اور خاص کھانے تیار کر کے تقسیم کرنا شامل ہے۔ یہ رسمیں وقت کے ساتھ مسلمانوں میں بھی شامل ہو گئیں اور قل خوانی کی صورت میں دین کا حصہ بنا دی گئیں۔

اسلام میں قل خوانی کا تصور

اسلام میں قل خوانی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مرنے والوں کے لیے ایصالِ ثواب کا طریقہ دعا، صدقہ، اور حج یا عمرہ کرنا بتایا ہے۔ قل خوانی ایک بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے کوئی بدعت ایجاد کی، وہ جہنم کی طرف لے جاتی ہے

صحابہ کرام کے دور میں

صحابہ کرام کی زندگی سے ہمیں قل خوانی کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ صحابہ کرام مرنے والوں کے لیے دعائیں کرتے تھے، اور صدقہ و خیرات کے ذریعے ان کے لیے ایصالِ ثواب کرتے تھے۔ وہ کبھی بھی قل خوانی جیسی رسم کا اہتمام نہیں کرتے تھے، نہ ہی کھانے کی دعوتیں دیتے تھے۔

ائمہ کرام کا موقف

ائمہ کرام جیسے امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے نزدیک قل خوانی جیسی بدعات کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق دین میں نبی ﷺ اور صحابہ کے طریقے کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے، اور کسی بھی نئی رسم یا بدعت کو اختیار کرنا حرام ہے۔

مختلف مسالک میں

لیکن بریلوی مسلک، اہل تشیع اور کسی حد تک مسلک دیوبند میں بھی قل خوانی کا خاص رجحان ملتا ہے۔ باقاعدہ مساجد میں اعلانات ہوتے ہیں، کارڈز تقسیم کیے جاتے ہیں اور بدعت کو خوب زور و شور سے منایا جاتا ہے۔ جبکہ بعض جگہوں پر میت کے اٹھتے ہی لوگ قل خوانی کے اعلانات کرنے شروع کر دیتے ہیں تاکہ میت پہ آئے ہوئے دور دراز کے رشتہ دار رسم قل بھی ساتھ ادا کر کے جائیں۔

پاکستان میں قل خوانی کا رجحان

پاکستان میں قل خوانی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، اور لوگ اسے دینی عمل سمجھ کر اپنا رہے ہیں۔ اس بدعت نے لوگوں کے دلوں میں حقیقی دین کی محبت کو کم کر دیا ہے، اور دین کی سادگی کو پیچیدہ رسوم میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس کے برے نتائج میں دین کی تحریف، فضول خرچی، اور شرک کی طرف رجحان شامل ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ لوگ مرنے سے ہی ڈرتے ہیں کہ مرنے پر اتنا خرچ کرنا پڑے گا۔

یاد رہے! یہ وہ رسم ہے جو محض بدعت ہے، دین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس کو دین بنانے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے لیکن ناہضم ہونے والی یہ رسم اپنے پورے زور و شور سے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اس گناہ سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہم قرآن و سنت کی تعلیمات کو صحیح طرح سے سمجھیں اور علماء کرام سے رہنمائی لیں۔ بدعتوں سے دوری اختیار کریں اور سنت پر عمل پیرا ہوں۔ مرنے والوں کے لیے دعا کریں، صدقہ دیں اور ان کے لیے نیک اعمال کریں، لیکن قل خوانی جیسی رسوم کو ترک کر دیں۔