اگرچہ ہم قطعی طور پر یہ نہیں جان سکتے کہ اللہ ہم سے راضی ہے یا ناراض، لیکن قرآن و حدیث اور بزرگانِ دین کے اقوال کی روشنی میں کچھ ایسی علامات اور نشانیاں بیان کی گئی ہیں جو ایک مومن کے لیے لمحہ فکریہ اور خود احتسابی کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہ نشانیاں حتمی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک انتباہ (Warning) ہیں کہ انسان اپنے اعمال کا جائزہ لے اور توبہ و استغفار کے ذریعے اپنے رب کی طرف رجوع کرے۔
فہرست مضامین
1- دل کا سخت ہو جانا
دل کا سخت ہو جانا یا قساوتِ قلبی اللہ کی ناراضگی کی سب سے پہلی اور واضح علامتوں میں سے ایک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا دل نصیحت، قرآن کی آیات، موت کی یاد اور نیکی کی باتوں سے متاثر ہونا چھوڑ دے۔ اس کی آنکھوں سے اللہ کے خوف یا محبت میں آنسو بہنا بند ہو جائیں اور اس کا دل پتھر کی طرح یا اس سے بھی زیادہ سخت ہو جائے۔
2- عبادت میں دل نہ لگنا
دوسری بڑی نشانی یہ ہے کہ انسان عبادات تو کرتا ہے، نماز بھی پڑھتا ہے، روزہ بھی رکھتا ہے، لیکن اسے ان عبادات میں لذت اور سکون محسوس نہیں ہوتا۔ نماز ایک بوجھ محسوس ہوتی ہے، دل اللہ کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور انسان محض سرپورے کر رہا ہوتا ہے۔
3- گناہوں میں مزہ آنا
جب انسان کا دل بگڑ جاتا ہے تو اسے نیکیوں میں وحشت اور گناہوں میں لذت اور سکون محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اللہ نے اس کی برائی کو اس کے لیے مزین کر دیا ہے۔
4- نیکی میں سستی ہونا
یہ بھی ایک اہم علامت ہے کہ انسان نیکی کے کاموں، مثلاً نماز، تلاوت، صدقہ و خیرات، اور دوسروں کی مدد کرنے میں سستی اور کاہلی محسوس کرے۔
5- گناہوں پر شرمندگی نہ ہونا
توبہ کا پہلا قدم گناہ پر ندامت اور شرمندگی ہے۔ جب انسان سے گناہ سرزد ہوا اور اسے اس پر کوئی افسوس نہ ہو تو یہ انتہائی خطرناک روحانی حالت ہے۔
6- دعا کا اثر نہ ہونا
انسان دعا کرتا ہے، لیکن اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی دعائیں قبول نہیں ہو رہیں۔ اگرچہ قبولیت کی مختلف صورتیں ہیں لیکن حرام رزق بڑی رکاوٹ ہے۔
7- تنہائی میں بھی گناہ کرنا
یہ نفاق کی علامت ہے کہ انسان لوگوں کے سامنے تو نیک لیکن تنہائی میں اللہ کی حدود پامال کرے۔
8- اللہ کے ذکر سے غفلت
آخری اور جامع نشانی اللہ کے ذکر سے غفلت ہے۔ جس کی زبان اور دل اللہ کے ذکر سے خالی ہو، وہ ہر قسم کی روحانی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔