ہم دعا مانگنے میں سست کیوں ہو گئے ہیں؟

ہم دعا مانگنے میں سست کیوں ہو گئے ہیں؟

دعا بندے کا اپنے رب سے رشتہ ہے، وہ تعلق جو انسان کو زمین سے اٹھا کر عرش الہیٰ تک پہنچا دیتا ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا: "ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ" (مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا)۔ احادیث میں نبی کریم ﷺ نے دعا کو عبادت کا مغز قرار دیا۔ مگر افسوس! آج کا مسلمان دعا جیسے طاقتور عمل سے غافل اور سستی کا شکار ہے۔

ہم دن رات دنیاوی مصروفیات میں الجھے رہتے ہیں لیکن رب سے اپنا تعلق جو ہمیں تقویت دے سکتا ہے، اسی سے دور ہو چکے ہیں۔ دعا صرف ایک حاجت کی فہرست نہیں بلکہ اللہ کی بارگاہ میں اپنی بندگی، کمزوری اور محتاجی کا اظہار ہے۔ اس مضمون میں ہم دعا سے سستی کی وجوہات، نقصانات اور اس سے نجات کے عملی طریقے بیان کریں گے۔

دعا لغوی طور پر "پکارنے" کو کہتے ہیں، جبکہ اصطلاحی طور پر یہ اللہ تعالیٰ سے اپنے دل کی بات کہنا، اس سے مانگنا، اس کی قربت چاہنا اور اپنی عاجزی کو ظاہر کرنا ہے۔

دعا کی اہمیت:

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ" یعنی "دعا عبادت کا مغز ہے"۔

دعا مانگنے میں سستی: ایک المیہ

سوچیں! جس رب کے خزانے لا محدود ہیں، جو اپنے بندے سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے، جو خود کہتا ہے کہ مانگو میں دوں گا، اُس کے سامنے ہاتھ نہ اٹھانا کتنی بڑی محرومی ہے!

اکثر لوگ کہتے ہیں:

لیکن یہ سستی دراصل ہمارے دلوں کی بیماری کی علامت ہے۔ ہم نے دعا کو صرف مشکل وقت کا سہارا بنا لیا ہے، حالانکہ یہ تو ہر لمحے کی ضرورت ہے۔

سستی کی وجوہات:

قرآن و حدیث کی روشنی میں ترغیب

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: "ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ" مجھے پکارو، میں قبول کروں گا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جب بندہ ہاتھ اٹھاتا ہے تو اللہ کو شرم آتی ہے کہ خالی واپس لوٹا دے"۔

ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے کچھ یوں ارشاد فرمایا "دعا مومن کا ہتھیار ہے"۔ یعنی دعا ایک ایسا عمل ہے جو دشمن کے خلاف، مشکلات کے وقت اور روحانی ترقی کے لیے بنیادی ہتھیار ہے۔

صحابہ کرام اور بزرگانِ دین کا دعاؤں کا اہتمام

صحابہ کرام ؓ اور بزرگان دین ؒ دعا کو اپنی زندگی کا لازمی جزو سمجھتے تھے:

دعا میں سستی کے نقصانات:

دعا کی قبولیت کا انداز

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ بندے کی دعا کا جواب تین طریقوں سے دیتا ہے:"

لہٰذا اگر ہمیں بظاہر جواب نہ ملے، تب بھی مایوس نہ ہوں۔ اللہ حکمت والا ہے، وہ جانتا ہے کیا، کب اور کیسے دینا ہے۔

سستی سے نجات کیسے پائیں؟

عملی تجاویز:

آج کا انسان اور ٹیکنالوجی کا فاصلہ

آج انسان موبائل، سوشل میڈیا، ویڈیوز اور گیمز میں اس قدر مشغول ہو چکا ہے کہ وہ اپنے خالق سے رابطہ بھول گیا ہے۔ ہم سکون کی تلاش میں سکرینوں کو گھورتے ہیں، جبکہ سکونت صرف رب کے ذکر اور دعا میں ہے۔

"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ" یاد رکھو! دلوں کا سکون صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔

دعا صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ بندگی کا اظہار ہے۔ دعا ہماری روح کی غذا ہے، اللہ سے رابطہ ہے، بندے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ اگر ہم دعا میں سستی کریں گے تو دراصل ہم اپنی ہی زندگی سے برکت، سکون اور رہنمائی کو دور کر رہے ہیں۔

آئیے! آج سے عزم کریں کہ:

یقین جانیے! اللہ بہت قریب ہے... بس دل سے پکارنے کی دیر ہے۔