دعا بندے کا اپنے رب سے رشتہ ہے، وہ تعلق جو انسان کو زمین سے اٹھا کر عرش الہیٰ تک پہنچا دیتا ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا: "ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ" (مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا)۔
احادیث میں نبی کریم ﷺ نے دعا کو عبادت کا مغز قرار دیا۔ مگر افسوس! آج کا مسلمان دعا جیسے طاقتور عمل سے غافل اور سستی کا شکار ہے۔
ہم دن رات دنیاوی مصروفیات میں الجھے رہتے ہیں لیکن رب سے اپنا تعلق جو ہمیں تقویت دے سکتا ہے، اسی سے دور ہو چکے ہیں۔ دعا صرف ایک حاجت کی فہرست نہیں بلکہ اللہ کی بارگاہ میں اپنی بندگی، کمزوری اور محتاجی کا اظہار ہے۔
فہرست مضامین
دعا کی اہمیت
دعا لغوی طور پر "پکارنے" کو کہتے ہیں، جبکہ اصطلاحی طور پر یہ اللہ تعالیٰ سے اپنے دل کی بات کہنا، اس سے مانگنا، اس کی قربت چاہنا اور اپنی عاجزی کو ظاہر کرنا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ" یعنی "دعا عبادت کا مغز ہے"۔
سستی کی وجوہات
- کمزور ایمان: جب دل میں اللہ پر یقین کمزور ہو جاتا ہے تو بندہ دعا کو اہم نہیں سمجھتا۔
- دنیا داری اور غفلت: دنیا کی رنگینیاں انسان کو اس قدر مشغول کر دیتی ہیں کہ اسے دعا یاد ہی نہیں رہتی۔
- گناہوں کا بوجھ: مسلسل گناہ دل کو سیاہ کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے دعا کا ذوق ختم ہو جاتا ہے۔
- دعا کی قبولیت میں جلدی: اکثر لوگ چاہتے ہیں کہ دعا فوری قبول ہو، اور جب ایسا نہ ہو تو مایوس ہو کر چھوڑ دیتے ہیں۔
- دعا کو آخری حل سمجھنا: کچھ لوگ صرف تدابیر پر بھروسہ کرتے ہیں اور دعا کو آخری آپشن سمجھتے ہیں۔
- شیطانی وسوسے: شیطان انسان کو دعا سے غافل کرنے کے لیے وسوسے ڈالتا ہے: 'کیا فائدہ؟ سنی تو نہیں جائے گی'۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں ترغیب
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: "ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ" مجھے پکارو، میں قبول کروں گا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جب بندہ ہاتھ اٹھاتا ہے تو اللہ کو شرم آتی ہے کہ خالی واپس لوٹا دے"۔
ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا "دعا مومن کا ہتھیار ہے"۔ یعنی دعا ایک ایسا عمل ہے جو دشمن کے خلاف، مشکلات کے وقت اور روحانی ترقی کے لیے بنیادی ہتھیار ہے۔
صحابہ کرام اور بزرگانِ دین کا دعاؤں کا اہتمام
- حضرت عمر ؓ فرماتے: "مجھے اس کی فکر نہیں کہ دعا قبول ہوتی ہے یا نہیں، مجھے تو اس بات کی فکر ہے کہ میں دعا مانگتا ہوں یا نہیں۔"
- حضرت علی ؓ رات کی تنہائی میں روتے، دعا کرتے، اللہ کے حضور گڑگڑاتے۔
- امام حسن بصری ؒ فرماتے: "جب دعا مانگو تو ایسے مانگو جیسے ڈوبا ہوا انسان آخری سانس میں مدد مانگتا ہے۔"
دعا میں سستی کے نقصانات
- اللہ سے تعلق میں کمزوری
- دل کا سخت ہو جانا
- روحانیت کا زوال
- زندگی میں بے برکتی
- ذہنی بے سکونی
- مایوسی اور نا امیدی کا شکار ہونا
سستی سے نجات کیسے پائیں؟
- ایمان کو تازہ کریں: اللہ کی صفات، نعمتوں اور قدرت کو یاد کر کے دل میں یقین کو پختہ کریں۔
- مسنون دعاؤں سے آغاز کریں: چھوٹی چھوٹی سنت دعاؤں کو زندگی میں شامل کریں۔
- دعا کے لیے مستقل وقت مقرر کریں: صبح شام، نماز کے بعد یا رات کو سونے سے پہلے دعا کا وقت طے کریں۔
- اللہ کی محبت پیدا کریں: اللہ سے تعلق محبت کی بنیاد پر قائم کریں۔
- نیت درست کریں: دعا کو محض مانگنے نہیں، عبادت سمجھ کر کریں۔
- دعا کو ترجیح بنائیں: ہر کام سے پہلے اور بعد میں دعا کو اپنی ترجیح بنائیں۔
"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ" یاد رکھو! دلوں کا سکون صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔
یقین جانیے! اللہ بہت قریب ہے... بس دل سے پکارنے کی دیر ہے۔
یقین جانیے! اللہ بہت قریب ہے... بس دل سے پکارنے کی دیر ہے۔