8 ایسے اذکار جن کے پڑھنے سے ہر مراد پوری ہوتی ہے
دوستو! آپ ﷺ نے اُمت کی بھلائی کے لیے ایسے نایاب اذکار بتائے کہ جن کو ہر نماز کے بعد خشوع اور خضوع کے ساتھ اللہ رب العالمین کے سامنے اپنے ہاتھ پھیلائیں اور ان کلمات کا ادائیگی کے ساتھ دعا مانگیں تو نہ صرف فریادیں سنی جاتی ہیں بلکہ اللہ رب العزت ہر جائز حاجت پوری فرما دیتے ہیں اور انسان کی پریشانیاں اور آزمائشیں دور فرما دیتے ہیں۔ اپنے سابقہ آرٹیکل میں میں نے ذکر کیا تھا کہ "7 ایسی رکاوٹیں جن سے دعائیں قبول نہیں ہوتی" اور احادیث کی روشنی میں ان رکاوٹوں کا ذکر تفصیل سے بیان کیا تھا۔ آج کے اس آرٹیکل میں 8 ایسے اذکار شئیر کرنے جا رہا ہوں جن کو ہر دعا کے آغاز میں پڑھ کر مرادیں مانگیں تو اللہ اپنے بندوں کو مایوس نہیں لوٹائے گا۔
﴿1﴾ اَللّٰھُمَّ اِنّیْ اَسْاَلُکَ بِاَنِّی اَشْھَدُاَنَّکَ اَنْتَ اللّٰہُ،لَا اِلٰہَ اَلاَّ اَنْتَ الْاَحَدُالصَّمَدُالَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ، وَلَمْ یَکُنْ لَہُ کُفُوَااَحَدُ
ترجمہ: "اے اللہ! یقینا میں آپ سے سوال کرتا ہوں، کیونکہ بلاشبہ میں گواہی دیتا ہوں، کہ درحقیقت آپ ہی اللہ ہیں، آپ کے سوا کوئی معبود نہیں، آپ یکتا، بے نیاز ہیں، جنہوں نے کسی کو جنم نہیں دیا اور نہ انہیں کسی نے جنم دیا، اور ان کا کوئی ہمسر نہیں۔"
ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے ایک شخص کو دعا کرتے ہوئے سنا وہ ان الفاظ کو ادا کر رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! بلاشبہ اس نے اللہ رب العزت سے ان کے اسم اعظم کے ساتھ سوال کیا ہے کہ جب اس کے ساتھ ان سے دعا کی جائے، تو وہ قبول فرماتے ہیں اور جب اس کے ساتھ ان سے مانگا جائے تو وہ عطا فرماتے ہیں۔"
﴿2﴾ اَللّٰھُمَّ اِنّیْ اَسْاَلُکَ بِاَنَّ لَکَ الْحَمْدَ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ الْمَنَّانُ،بَدِیْعُ السَّمَاوَاتِ وَ الْاَرْضِ، یاَ ذَالْجَلاَلِ وَالْاِکْرَامِ، یَاحَیُّ، یَاقَیُّومُ
ترجمہ: "اے اللہ! یقینا میں آپ سے سوال کرتا ہوں، کیونکہ یقینا تمام تعریف آپ ہی کے لیے ہے، کوئی معبود نہیں مگر آپ، بہت عطا فرمانے والے، آسمانوں اور زمین کو بغیر سابقہ نمونہ کے بنانے والے، اے جلال و اکرام والے"
ایک روایت کے مطابق حضرت انس رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا، اس شخص نے دعا کی۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "بے شک اس نے اللہ تعالیٰ کے اسم عظیم کے ساتھ ان سے فریاد کی ہے، کہ جب اس کے ساتھ ان سے دعا کی جائے، تو وہ قبول کرتے ہیں اور جب اس کے ساتھ ان سے سوال کیا جائے، تو وہ عطا فرماتے ہیں۔"
﴿3﴾ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ خَلَقْتَنِی، وَ اَنْتَ تَھْدِیْنِی، وَاَنْتَ تُطْعِمُنِیْ، وَاَنْتَ تَسْقِیْنِی، وَاَنْتَ تُمِیْتُنِیْ، وَاَنْتَ تُحْیِیْنِیْ
ترجمہ: "اے اللہ! آپ نے مجھے پیدا فرمایا اور آپ مجھے ہدایت دیتے ہیں اور آپ مجھے کھلاتے ہیں اور آپ مجھے پلاتے ہیں اور آپ مجھے موت دیتے ہیں اور آپ مجھے زندگی عطا فرماتے ہیں۔"
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "کیا میں تمہیں وہ حدیث نہ بتلاؤں، جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے کئی مرتبہ، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کئی دفعہ، عمر رضی اللہ عنہ سے کئی بار سنی؟" میں نے عرض کیا: "کیوں نہیں" انہوں نے بیان کیا: "جو شخص صبح اور شام کے وقت ان کلمات کو پڑھے اور پھر اللہ تعالیٰ سے جو چیز بھی مانگے گا وہ اسے عطا فرمائیں گے۔ انہوں نے بیان کیا: "میری عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے کہا: 'کیا میں آپ کو وہ حدیث نہ بتلاؤں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے کئی مرتبہ، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کئی دفعہ، اور عمر رضی اللہ عنہ سے کئی بار سنی؟' انہوں نے فرمایا: 'کیوں نہیں؟' تو میں نے ان کے سامنے یہ حدیث بیان کی، تو وہ فرمانے لگے یہی کلمات اللہ رب العزت نے موسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمائے تھے، وہ انہیں سات دفعہ پڑھ کر دعا کرتے، تو وہ جو چیز بھی اللہ رب العزت سے طلب کرتے وہ انہیں عطا فرما دیتے"۔
﴿4﴾ یَا بَدِیْعَ السَّمٰوٰتِ، یَا حَیُّ، یَا قُیُّوْمٗ، اِنِّی اَسْاَ لُکَ
ترجمہ: "اے آسمانوں کو بغیر سابقہ نمونہ کے بنانے والے! اے ہمیشہ زندہ رہنے والے! اے ساری کائنات قائم کرنے رکھنے والے! بے شک میں آپ سے سوال کرتا ہوں"۔
ایک روایت کے مطابق حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے تو ایک شخص نے دعا کرتے ہوئے ان کلمات سے آغاز کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا تمہیں علم ہے، کہ اس نے کس (یعنی کن کلمات) کے ساتھ دعا کی ہے؟ اس ذات کی قسم! کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے اللہ رب العزت کے اس نام کے ساتھ ان سے دعا کی ہے کہ جس کے ساتھ ان سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرماتے ہیں"۔
﴿5﴾ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِ نِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ
ترجمہ: "آپ کے سوا کوئی معبود نہیں، آپ پاک ہے اور بے شک میں ہی ظالموں میں سے ہوں"۔
آپ ﷺ نے فرمایا: "مچھلی والے کی دعا" جب انہوں نے (حضرت یونس علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ سے اللہ کو ان کلمات کے ساتھ پکارا، یقینا ان (کلمات) کے ساتھ کوئی بھی مسلمان کبھی بھی کسی چیز کے بارے میں دعا نہیں کرتا، مگر اللہ تعالیٰ اس کی فریاد پوری فرما دیتے ہیں"۔
﴿6﴾ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ، لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ، وَلَہُ الْحَمْدُ، وَ ھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْ ءِ قَدِیْرُ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَ سُبْحَانَ اللہِ، وَلَااِلٰہَ اِلاَّ اللہُ، وَاللہُ اَکْبَرُ، وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہِ
ترجمہ: "اللہ رب العزت کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، ان کا کوئی ساجھی نہیں، ساری بادشاہت ان ہی کی ہے، ساری تعریف ان ہی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر کمال قدرت رکھتے ہیں۔ سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ ہر عیب سے پاک ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور معبود نہیں، اللہ تعالیٰ بہت بڑے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کی (توفیق کے بغیر) نہ گناہ چھوڑنے کی طاقت ہے اور نہ نیکی کرنے کی قوت"۔
ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص رات کو بیدار ہو اور یہ کلمات ادا کرے اور پھر کہے اے اللہ پاک! مجھے معاف فرما دیجیے۔ یا پھر کوئی اور دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جاتی ہے اور اسی دوران اگر وہ وضو کرے تو اس کی نماز قبول کی جاتی ہے۔"
﴿7﴾ حضرت اُم سلیم رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: مجھے ایسے کلمات سکھلائیے، کہ میں انہیں نماز میں پڑھوں
آپ ﷺ نے فرمایا: "دس دفعہ اَللہُ اَکْبر کہو، دس مرتبہ سُبْحاَنَ اللہ کہو، دس مرتبہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہو، پھر جو چاہو مانگو اللہ جواب میں فرماتے ہیں: 'ہاں ہاں'"
﴿8﴾ ایک بدو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: "یا رسول اللہ مجھے خیر کی کوئی بات سکھائیے۔"
آپ ﷺ نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور فرمایا: "تم کہو! 'سُبْحَانَ اللہِ، وَالْحَمْدُ لِلہِ،وَلَا اِلَہَ اِلَّااللہُ، وَاللہُ اَکْبَرُ'"
بدو نے اپنے ہاتھ پر انہیں شمار کیا اور پھر چلا گیا، تھوڑی دیر غور کیا پھر واپس آیا۔ نبی کریم ﷺ مسکرائے اور ارشاد فرمایا: "بیچارے نے کچھ سوچا ہے" وہ حاضر ہوا اور عرض کی: "یا رسول اللہ سُبْحَانَ اللہِ، وَالْحَمْدُ لِلہِ،وَلَا اِلَہَ اِلَّااللہُ، وَاللہُ اَکْبَرُ یہ سب کلمات تو اللہ رب العزت کے لیے ہیں میرے لیے کیا ہے۔"
آپ ﷺ نے فرمایا: "اے بدو! جب تو سُبْحَانَ اللہِ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: 'تو نے سچ کہا'۔ اور جب تو وَالْحَمْدُ لِلہِ کہتا ہے تو اللہ پاک فرماتے ہیں: 'تو نے سچ کہا'۔ اور جب تو وَلَا اِلَہَ اِلَّااللہُ کہتا ہے تو اللہ پاک فرماتے ہیں: 'تو نے سچ کہا'۔ اور جب تو وَاللہُ اَکْبَرُ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: 'تو نے سچ کہا'۔ اور جب تو اَللَھُمَّ اغْفِرْلیِ کہتا ہے، تو اللہ پاک فرماتے ہیں: 'میں نے تجھے معاف کر دیا'۔ اور جب تو اَللَھُمَّ ارْحَمْنِیْ کہتا ہے تو اللہ پاک فرماتے ہیں: 'میں نے کر دیا'۔ اور جب تو اَللَھُمَّ ارْزُقْنِیْ کہتا ہے تو اللہ فرماتے ہیں: 'میں نے کر دیا'۔ اسی طرح بدو نے اپنے ہاتھ پر سات باتیں لگائیں اور پھر چلا گیا۔