آج کے اس موضوع "7 ایسی رکاوٹیں جن سے دعا قبول نہیں ہوتی" کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ امید ہے کہ آپ سب اس سے ضرور مستفید ہوں گے اور ان رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے آپ ﷺ کے بتائے ہوئے اذکار اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد حتمی اور یقینی ہیں۔ البتہ لوگوں کی کثیر تعداد اپنی ہی پیدا کردہ رکاوٹوں کے سبب ان اذکار کی خیر و برکت سے محروم رہتی ہے۔
فہرست مضامین
1- حرام کمائی
پھر آپ ﷺ نے طویل سفر کرنے والے شخص کا ذکر فرمایا، جس کے بال پراگندہ اور چہرہ غبار آلود ہو اور وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرکے یارب! یارب! پکار رہا ہو، لیکن اس کا کھانا حرام کمائی سے ہو، پینا حرام ہو، اس کی پرورش حرام سے ہو، تو اس کی فریاد کیسے پوری ہو سکتی ہے۔
2- غفلت سے ذکر کرنا
اس حدیث سے مراد ہے کہ پورے اعتماد اور یقین سے اللہ رب العزت کے سامنے ہاتھ پھیلائیں کہ جیسے اللہ مانگنے والے کو نہ صرف دیکھ رہے ہیں بلکہ پکارنے والے کی پکار کو سن کر جواب دے رہے ہوں۔ پورے انہماک کے ساتھ اللہ سے گڑگڑا کر مانگیں۔
3- گناہ کی دعا
یاد رہے! دعا مانگت وقت "کاش" اور "اگر" جیسے الفاظ کا ذکر نہ کرے۔ کسی انسان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اللہ رب العزت کی شایان شان کوئی شرط رکھ کر دعا کی جائے۔ دعا میں کسی گناہ جیسے چوری، زنا، ڈاکہ، کی خواہش نہ کی جائے جس سے کسی دوسرے مسلمان بھائی کا نقصان مقصود ہو۔
4- قطع رحمی کی دعا
یاد رہے! اپنی دعاؤں میں کسی دوست، قریبی رشتہ دار، بھائی، بہن، والدین سے ناراضگی کی وجہ سے قطع رحمی کر لینا اور پھر اپنی دعاؤں میں یہ سوچ پیدا کر لینا کہ میں زندگی بھر اس سے کلام نہیں کروں گا جب تک کہ وہ مجھ سے معافی نہ مانگ لے یا میری کوئی ڈیمانڈ پوری نہ کر لے۔
5- جلد بازی میں کی گئی دعا
اس حدیث سے ہمیں تین باتوں کا اشارہ ملتا ہے: ایک گناہ کی دعا کرنا، قطع رحمی کرنا اور جلدبازی میں دعا کرنا تینوں کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ جلد بازی میں کی گئی دعا اپنا اثر کھودیتی ہے۔
6- نیکی کا حکم دینا اور برے کاموں کو چھوڑنا
اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ لوگ نیکی کے کام تو کریں گے نماز، روزہ، زکوۃ، حج اور درس و تبلیغ وغیرہ لیکن اپنے سامنے برائی ہوتے دیکھ کر انکو روکنے کی ہمت نہیں کریں گے یا تنہائی میں برائی یا گناہ کے مرتکب ہونگے ایسی صورت میں اللہ کی طرف سے جو مصائب نازل ہونگے ہم دعا کرتے رہ جائیں گے اور دعا قبول ہونا تو دور کی بات ہے ہم پر رحمت کی نگاہ میں مشکل ہوگی۔
7- دعا مانگ کر مایوس ہونا
دوستو! جو شخص ذکر الہی میں مصروف رہتا ہے ان اذکار میں رکاوٹوں کی عدم موجودگی کے باوجود ان کے ظاہر نہ ہونے پر ذکر کرنے والا شخص اپنے بارے میں محرومی کا فیصلہ کرنے سے گریز کرے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ ذکر و اذکار کرنے والے شخص کو اللہ رب العزت اپنی حکمت و رحمت سے ایسے پوشیدہ منافع اور برکات عطا فرماتے ہیں، جو کہ انسانوں کی نگاہوں سے تو اوجھل ہوتے ہیں، لیکن ظاہری فوائد سے کہیں زیادہ بلند و بالا اور قیمتی ہوتے ہیں۔
صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ "پھر تو ہم زیادہ دعائیں کریں گے" آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ بہت زیادہ ہیں"۔ (یعنی اللہ رب العزت کا فضل و عطا تمہاری سوچ اور دعاؤں سے زیادہ ہے)۔ (واللہ تعالیٰ اعلم)۔