محترم قارئین کرام! قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ روئے زمین پر زمین کے پھٹ جانے یا دھنس جانے کے تین ایسے واقعات رونما ہوں گے کہ لوگ بہت زیادہ خوفزدہ ہوجائیں گے کیونکہ ان کے اثرات بہت ہی ہولناک ہوں گے۔ یوں تو دنیا میں پہلے بھی زمین کے پھٹنے کے ایسے کئی واقعات سننے کو مل چکے ہیں۔ لیکن جن واقعات کی خبر آپ ﷺ نے دی ہے وہ ہماری سوچ سے بالاتر ہے۔ وہ کس قدر بھیانک عذاب ہو گا کہ روئے زمین پر کوئی بھی اس کے خوف سے بچ نہیں پائے گا۔ زمین کا دھنسنا قیامت کبریٰ کی نشانیوں میں سے ہے وہ کب ہونا ہے کس جگہ ہونا ہے اس کا علم تو اللہ پاک کی ذات اقدس ہی جانتی ہے لیکن آپ ﷺ نے ان سمتوں کی طرف اشارہ ضرور دیا ہے، ایک واقعہ اہل مغرب کی طرف ہو گا، وہ اس قدر بھیانک ہو گا کہ پورا مغرب اس کے خوف کی لپیٹ میں ہو گا۔ جبکہ دوسرا واقعہ اہل مشرق کی طرف ہوگا اور تیسرا واقعہ اہل عرب کی سرزمین پر ہوگا۔
ارشادِ نبوی ﷺ ہے کہ "یقینا وہ اس وقت تک قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ اس سے پہلے دس نشانیاں دیکھ لو، پھر آپ نے ذکر کیا: >دھواںخروجِ دجالخروج دابہ سورج کا مغرب سے طلوع ہوناعیسیٰ ابن مریم کا نزولخروج یاجوج وماجوجمشرق، مغرب اور جزیرہ نمائے عرب میں زمین کا دھنس جانا اور سب سے آخر میں جو علامت ظاہر ہوگی، وہ یمن سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو ان کے محشر (شام) کی طرف ہانک کر لے جائے گی"۔
زمین کا دھنس جانا اللہ رب العزت کے احکامات کی پامالی، نافرمانی، انشکری اور اس کے عذاب کو دعوت دینے کی طرف اشارہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے جیسے آنیوالے وقت میں روئے زمین پر صرف بدکار، گنہگار، اور نافرمان لوگوں کا ڈیرہ ہوگا جو کثرت گناہ کی دلدل میں جکڑے ہوں گے۔ لوگوں کے روزوشب اور مصروفیات کا اندازہ آپ ﷺ کے اس فرمان سے واضح ہوتا ہے جیسے ارشاد فرمایا گیا کہ "میری امت کے کچھ لوگ کھانے پینے اور لہوولعب میں رات گزاریں گے، جب صبح ہوگی تو سب کے سب خنزیر بن چکے ہوں گے۔ اس امت کے بعض قبائل کو ان کے گھروں سمیت زمین میں دھنسا دیا جائے گا، جب صبح ہوگی تو لوگ کہیں گے کہ آج رات بنو فلاں کو زمین میں دھنسا دیا گئا ہے۔ آج رات فلاں قبیلے کے گھروں کو زمین میں دھنسا دیا گیا ہے۔ ان پر پتھر برسائے جائیں گے اور ان پر منحوس ہوا بھیجی جائے گی جو انھیں اسی طرح ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گی۔ جس طرح قوموں کو ان کے شراب پینے، سود کھانے، مردوں کے ریشم پہننے، گانے بجانے والی عورتیں اختیار کرنے اور قطع رحمی کرنے کی وجہ سے بیخ وبن سے اڑا چکی ہے۔
ایک اور روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا "میری امت میں خسف (یعنی زمین کے دھنس جانے) و مسخ (یعنی چہروں کی اشکال کا بگڑ جانا) اور پتھروں کی بارش ہوگی"۔ اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد فرمایا "ایک شخص تکبرانہ انداز میں اپنی چادر زمین پر گھسیٹتے ہوئے چل رہا تھا، اے زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ اس میں قیامت تک دھنستا ہی چلا جائے گا"۔
اللہ کے نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق "اے انس! لوگ مختلف شہروں میں رہائش اختیار کریں گے، ان میں سے ایک شہر کا نام "بصرہ" یا "بصیرہ" ہے۔ اگر تمھارا وہاں گزر ہو یا اس میں داخل ہونے کا اتفاق ہوتو اس کی شوریلی زمینوں سے، اس کی زرعی پیداوار سے، اس کے بازاروں سے اور اس کے امراء کے دروازوں سے بچ کر رہنا، تم اس کے نواحی علاقوں تک ہی رہنا کیونکہ اس شہر والوں کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، ان پر پتھروں کی بارش ہوگی اور وہاں زلزلے آئیں گے۔ کچھ لوگ وہاں رات گزاریں گے مگر صبح ہونے سے قبل بندر اور خنزیر بن جائیں گے"۔
ایک اور روایت کے مطابق "ایک شخص حضرت ابن عمر کی خدمت میں حاضر ہوا ور کہا کہ فلاں شخص آپ کو سلام کہتا ہے۔ آپ نے فرمایا "مجھے پتا چلا ہے کہ اس نے کوئی بدعت ایجاد کی ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو اسے میری طرف سے سلام نہ کہنا، میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے "میری امت کے قدریہ فرقے کے لوگوں کے ساتھ شکلیں بدلنے، زمین میں دھنسنے اور پتھروں کی بارش جیسے واقعات پیش آئیں گے"۔
اس حدیث کے مطابق ذرا سوچیں! آج ہمارے معاشرے میں عید میلاد جیسی بدعت کے ساتھ ساتھ ہزاروں ایسی بدعات کا جنم ہوچکا ہے جو روز بروز ہمارے دین کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ وہ کام جو اللہ کے نبی ﷺ اور صحابہ کرام سے ثابت نہیں اور اس کو آج ہم ثواب سمجھ کر دین میں نئی ایجاد کر رہے ہیں۔ ذرا نہیں پورا سوچیں! کہیں آپ دین اسلام کے دائرہ کار سے خارج تو نہیں ہو رہے۔ کہیں بدعات کی رسومات کو شریعت سمجھ کر آپ اور ہم شریعت محمدی کا انکار تو نہیں کر رہے شاید ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ نبی پاک ﷺ نے ہم تک جو دین پہنچایا ہے وہ دین ناقص، کمزور یا پھر ادھوری معلومات پر مبنی تو نہیں۔ (نعوذ باللہ) بدقسمتی سے ہم اپنے نبیﷺ کی لائی ہوئی شریعت کو چیلنج کر کے نبی کے احکامات کو غلط ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف ہم اپنے مولوی کو صحیح سمجھ رہے ہیں اور ہمارا مولوی خود کی جان بچانے کے لئے من گھڑت حوالے دیتا پھر رہا ہے۔
دوستو! ایسے لوگوں کے لئے وعید کا اشارہ دیا گیا ہے اور زمین کا دھنس جانا درحقیقت دین میں ایجاد کے باعث، احکامات کی پامالی، اور خداوند کریم کی ناراضگی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ میری آپ سب سے گزارش ہے کہ لوگوں کے کہنے پر مت لگیں ہمارے تمھارے درمیان قرآن اور احادیث موجود ہے کچھ بھی کرنے سے پہلے ایک بار خود اٹھاؤ اور پڑھو دوسروں کی کہی باتیں سچ ثابت ہوتی ہیں یا نہیں یہ آپ کے سامنے واضح ہوجائے گا۔
اللہ رب العزت سے استدعا ہے کہ وہ ہمیں ہدایت والے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، اور گمراہیوں سے بچائے، بدعت اور ضلالت کے کاموں سے دور رکھے۔ آمین۔