🔹 زمین دھنسنے کی وعید
محترم قارئین کرام! قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ روئے زمین پر زمین کے پھٹ جانے یا دھنس جانے کے تین ایسے واقعات رونما ہوں گے کہ لوگ بہت زیادہ خوفزدہ ہوجائیں گے کیونکہ ان کے اثرات بہت ہی ہولناک ہوں گے۔ یوں تو دنیا میں پہلے بھی زمین کے پھٹنے کے ایسے کئی واقعات سننے کو مل چکے ہیں۔ لیکن جن واقعات کی خبر آپ ﷺ نے دی ہے وہ ہماری سوچ سے بالاتر ہے۔ وہ کس قدر بھیانک عذاب ہو گا کہ روئے زمین پر کوئی بھی اس کے خوف سے بچ نہیں پائے گا۔
زمین کا دھنسنا قیامت کبریٰ کی نشانیوں میں سے ہے وہ کب ہونا ہے کس جگہ ہونا ہے اس کا علم تو اللہ پاک کی ذات اقدس ہی جانتی ہے لیکن آپ ﷺ نے ان سمتوں کی طرف اشارہ ضرور دیا ہے، ایک واقعہ اہل مغرب کی طرف ہو گا، وہ اس قدر بھیانک ہو گا کہ پورا مغرب اس کے خوف کی لپیٹ میں ہو گا۔ جبکہ دوسرا واقعہ اہل مشرق کی طرف ہوگا اور تیسرا واقعہ اہل عرب کی سرزمین پر ہوگا۔
🔹 احادیث نبوی ﷺ میں خسف کا بیان
زمین کا دھنس جانا اللہ رب العزت کے احکامات کی پامالی، نافرمانی، انشکری اور اس کے عذاب کو دعوت دینے کی طرف اشارہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے جیسے آنیوالے وقت میں روئے زمین پر صرف بدکار، گنہگار، اور نافرمان لوگوں کا ڈیرہ ہوگا جو کثرت گناہ کی دلدل میں جکڑے ہوں گے۔
ایک اور روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا "میری امت میں خسف (یعنی زمین کے دھنس جانے) و مسخ (یعنی چہروں کی اشکال کا بگڑ جانا) اور پتھروں کی بارش ہوگی"۔ اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد فرمایا "ایک شخص تکبرانہ انداز میں اپنی چادر زمین پر گھسیٹتے ہوئے چل رہا تھا، اے زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ اس میں قیامت تک دھنستا ہی چلا جائے گا"۔
🔹 بدعات اور نافرمانی کا انجام
ایک اور روایت کے مطابق "ایک شخص حضرت ابن عمر کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ فلاں شخص آپ کو سلام کہتا ہے۔ آپ نے فرمایا "مجھے پتا چلا ہے کہ اس نے کوئی بدعت ایجاد کی ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو اسے میری طرف سے سلام نہ کہنا، میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے "میری امت کے قدریہ فرقے کے لوگوں کے ساتھ شکلیں بدلنے، زمین میں دھنسنے اور پتھروں کی بارش جیسے واقعات پیش آئیں گے"۔
دوستو! ایسے لوگوں کے لیے وعید کا اشارہ دیا گیا ہے اور زمین کا دھنس جانا درحقیقت دین میں ایجاد کے باعث، احکامات کی پامالی، اور خداوند کریم کی ناراضگی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ میری آپ سب سے گزارش ہے کہ لوگوں کے کہنے پر مت لگیں ہمارے تمھارے درمیان قرآن اور احادیث موجود ہے کچھ بھی کرنے سے پہلے ایک بار خود اٹھاؤ اور پڑھو دوسروں کی کہی باتیں سچ ثابت ہوتی ہیں یا نہیں یہ آپ کے سامنے واضح ہوجائے گا۔
🔹 نجات کی راہ
مؤمنین کے لیے ضروری ہے کہ وہ سنت نبوی ﷺ کو مضبوطی سے تھامیں، بدعات سے بچیں، اور اللہ کی نافرمانی سے توبہ کریں۔ قیامت کی نشانیوں میں خسف، مسخ اور پتھروں کی بارش جیسے عذاب صرف انہی لوگوں پر آئیں گے جو اللہ کے احکامات کی پامالی کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور اپنی اصلاح کریں تاکہ اللہ کی رحمت اور نجات حاصل کر سکیں۔