حضرت عیسیٰ ﷺ دوبارہ زمین پر تشریف لائیں گے

محترم قارئین کرام! حصہ اول میں میں نے حضرت عیسیٰ کی ولادت اور حالات و واقعات کا ذکر کیا تھا اب بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ ﷺ بنی اسرائیل کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ حضرت عیسیٰ ﷺ اور حضرت محمد ﷺ کے درمیان ساڑھے چھ سو سال کا وقفہ ہے۔ گویا آخری نبی ساڑھے چھ سو سال بعد قریش سے آئے۔ حضرت عیسیٰ ﷺ نے اپنی قوم کو اللہ کی واحدنیت کی تبلیغ کی لیکن قوم سرکشی، بغاوت اور جہالت کے ایسے عمیق اندھیروں میں رہنے کی عادی تھی جو اپنے نبی کی بات ماننا تو درکنار انھی کی جان لینے کے درپے تھی۔ سچی بات کو چھپانا، بغیر حق کے نبیوں کو قتل کرنا، گویا ہر وہ کام کرنا جس سے منع کیا جاتا تھا۔

جس دور میں اللہ نے حضرت عیسیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا تھا وہ دور طب اور سائنسی دور کہلاتا ہے۔ اس لیے اللہ رب العزت نے آپ ﷺ کو معجزات بھی ویسے نوازے۔ آپ ﷺ کی پیدائش کسی معجزے سے کم نہیں، اسی طرح گارے سے پرندے کی سی مورت بنانا اور پھر اس میں پھونک مارنا اور اللہ کے حکم سے وہ پرندہ بنا جانا، پیدائشی اندھے کو اور پیپھلہری والے کو اللہ کے حکم سے تندرستی عطا کرنا، اللہ رب العزت کے حکم سے مردوں کو پھر سے زندہ کردینا یہ سب معجزے اللہ نے حضرت عیسیٰ ﷺ کو عطا کئے مگر افسوس بنی اسرائیل ان کو واضح جادو کے سوا کچھ نہیں سمجھتے تھے۔

اللہ کی حکمت

حضرت عیسیٰ ﷺ کے لاکھ سمجھانے کے باوجود انھوں نے مکر وفریب سے کام لینا شروع کر دیا جیسے اللہ رب العزت قرآن مجید میں فرماتے ہیں۔ "اور انھوں نے مکر کیا تو اللہ نے بھی تدبیر کی اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ جب اللہ نے کہا: اے عیسیٰ! بے شک میں تجھے پورا لے لوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور ان کافروں سے تجھے پاک کر دوں گا اور جن لوگوں نے تیری پیروی کی انھیں کافروں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔"

اسی طرح دوسری جگہ یوں ارشاد فرمایا "اور ان کے یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کیا، حالانکہ انھوں نے نہ انھیں قتل کیا اور نہ انھیں سولی پر چڑھایا بلکہ انھیں شبہے میں ڈال دیا گیا اور بے شک جنھوں نے عیسیٰ کے بارے میں اختلاف کیا، وہ ضرور ان کے متعلق شک میں ہیں۔ ان لوگوں کے پاس ان کے بارے میں کوئی علم نہیں سوائے گمان کی پیروی کے اور انھوں نے یقینا انھیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انھیں اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ بڑا زبردست، حکمت والا ہے"۔

اللہ کی نجات

یوں اللہ ﷻ نے حضرت عیسیٰ ﷺ پر نیں طاری کر کے انھیں اپنی طرف اٹھا لیا اور انھیں ان یہودیوں کی اذیت سے بچا لیا جنھوں نے اس زمانے کے ایک کافر بادشاہ کے پاس چغلی کرنے کی کوشش کی تھی۔ بادشاہ نے حضرت عیسیٰ ﷺ کے قتل کرنے اور انھیں سولی پر لٹکانے کا حکم جاری کر دیا۔ اس کے لئے انھیں بیت المقدس کے ایک گھر میں قید کر دیا گیا۔ جب وہ لوگ مذموم ارادے سے حضرت عیسیٰ ﷺ کے پاس پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مشابہت وہاں موجود لوگوں میں سے ایک کے چہرے پر ڈال دی اور عیسیٰ ﷺ کو ایک روشندان میں سے آسمان کی طرف اٹھا لیا۔

سپاہی گھر میں داخل ہوئے تو انھوں نے اس نوجوان کو پایا جس پر حضرت عیسیٰ ﷺ کی مشابہت ڈال دی گئی تھی۔ انھوں نے اس نوجوان کو عیسیٰ سمجھ کر پکڑ لیا۔ اسے سولی پر چڑھا دیا اور اس کی توہین کرنے کے لئے کانٹوں کا ایک تاج اس کے سر پر رکھ دیا۔

آخری زمانہ

یہودیوں کے اس دعوے کو عام عیسائیوں نے بھی تسلیم کر لیا۔ حالانکہ ان میں سے کسی ایک نے بھی حضرت عیسیٰ ﷺ کو سولی چڑھتے ہوئے نہ دیکھا تھا۔ اس غلط عقیدے کے باعث عیسائی واضح گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔ ارشاد ربانی ہے: "اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ضرور ایمان لے آئے گا"۔ یعنی آخری زمانے میں قیام قیامت سے پہلے جب وہ آسمان سے زمین پر نزول فرمائیں گے وہ خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑ دیں گے، جزیہ ختم کر دیں گے اور کسی سے بھی اسلام کے سوا کوئی دوسرا دین قبول نہ کریں گے۔

حضرت عیسیٰ ﷺ کی زندگی

حضرت عیسیٰ ﷺ اس وقت آسمانوں میں زندہ ہیں۔ ان کی زندگی جسم اور روح کے ساتھ حقیقی زندگی ہے۔ لیکن دیگر انبیاء کی زندگی ایک خاص قسم کی برزخی زندگی ہے۔ حضرت عیسیٰ ﷺ ابھی تک فوت نہیں ہوئے، اس لئے وہ عالمِ برزخ اور قبر میں داخل نہیں ہوئے۔ وہ اللہ کے نزدیک جسم اور روح کی زندگی کے ساتھ آسمانوں میں موجود ہیں۔

جہاں تک دیگر انبیائے کرام کا معاملہ ہے تو وہ سکراتِ موت کا سامنا کر چکے ہیں۔ ان کی روحیں جسموں سے جدا ہو چکی ہیں اور انھیں اپنی قبروں میں ایک خاص قسم کی زندگی حاصل ہے جس کا ہمیں شعور نہیں۔

قیامت کی نشانیاں

ارشاد ربانی ہے: "(حضرت عیسیٰ ﷺ) قرب قیامت کی نشانی ہیں۔ تم اس میں شک نہ کرو اور میری اتباع کرو کہ یہی سیدھی راہ ہے"۔

ارشاد نبویﷺ ہے کہ "بلاشبہ وہ اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں دیکھو" تو آپ ﷺ نے ذکر کیا "دھواں، دجال، خروجِ دابہ، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، حضرت عیسیٰ ﷺ کا نزول، خروج یاجوج و ماجوج اور تین جگہ زمین کے دھنسنے کے واقعات، مشرق میں زمین کا دھنس جانا، مغرب میں زمین کا دھنس جانا، جزیرہ نمائے عرب میں زمین کا دھنس جانا، سب سے آخر میں جو علامت ظاہر ہوگی وہ یمن (میں عدن) کی جانب سے نکلنے والی ایک آگ ہے جو لوگوں کو زمینِ محشر (شام) کی طرف ہانک کر لے جائے گی۔"

عدل کی حکمرانی

ایک اور روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قریب ہے کہ تمھارے درمیان عیسیٰ ابن مریم عادل حکمران بن کر نزول فرمائیں گے۔ وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے۔ خنزیر کو قتل کردیں گے اور جزیہ کو ختم کر دیں گے اس وقت مال کی اس قدر کثرت ہوجائے گی کہ کوئی شخص اسے قبول ہی نہیں کرےگا۔ اس زمانے میں ایک سجدہ دنیا اور اس کے تمام خزانوں سے زیادہ قیمتی ہوگا۔"

دعوت اسلام

ایک روایت کے مطابق "حضرت عیسیٰ ﷺ کے عہد مبارک میں دعوت صرف اسلام کی ہوگی۔ کوئی دوسرا دین روئے زمین پر باقی ہی نہیں رہے گا، یعنی دنیا میں کوئی ہندو، بدھ، یہودی، عیسائی، سکھ یا مجوسی نہ رہے گا۔ یعنی لوگوں کا نماز اور دیگر تمام نیکیوں میں رغبت اور شوق بہت بڑھ جائے گا۔ اس لئے کہ ان کی خواہشات کم ہوجائیں گی، وہ دنیا سے بے رغبت ہو جائیں گے اور انھیں قرب قیامت کا یقین ہو چکا ہوگا۔ اور اس لئے بھی کہ اس وقت ہر شخص کے پاس رزق وافر مقدار میں موجود ہوگا اور فکر معاش ان کے لئے عبادت الہی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔

نماز کی امامت

آپ ﷺ کا فرمان مبارک ہے "حضرت عیسیٰ ﷺ جس امام کے پیچھے نماز پڑھیں گے وہ ہم میں سے ہوگا۔"

ایک دوسری روایت کے مطابق "حضرت عیسیٰ ﷺ کا نزول شام میں دمشق کے مشرقی مینارے کے پاس ہوگا اور یہ اس وقت ہوگا جب نماز کے لئے اقامت ہو چکی ہوگی۔ وہ آکر خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑ دیں گے اور جزیہ ختم کر دیں گے۔ وہ اسلام کے سوا کوئی دین قبول نہ کریں گے، اہل کتاب کے تمام اعتراضات اور شبہات ختم ہو جائیں گے اس لئے وہ سب کے سب حضرت عیسیٰ ﷺ کی اتباع کرتے ہوئے اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔

ایمان کی تکمیل

جیسے اللہ رب العزت نے قرآن میں ارشاد فرمایا "اہل کتاب میں سے ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو حضرت عیسیٰ ﷺ کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لائے"۔

مقام و مرتبہ

حضرت عیسیٰ ﷺ اولوالعزم رسول ہیں۔ اللہ کے نزدیک انھیں بلند مقام حاصل ہے انھیں رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔ انھوں نے شب معراج میں نبی ﷺ کے ساتھ ان پر ایمان کی حالت میں ملاقات کی اور اسی پر ان کی وفات ہوگی۔

صفات مبارکہ

اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی امت کی خیر خواہی کے لئے حضرت عیسیٰ ﷺ کے بارے میں فرمایا کہ:

ایک اور روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا "جس رات مجھے آسمانوں کی سیر کرائی گئی، میری موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ﷺ سے بھی ملاقات ہوئی۔" ایک اور روایت میں ہے کہ "میں نے عیسیٰ، موسیٰ اور ابراہیم ﷺ کو دیکھا، عیسیٰ سرخی مائل، گھنگھریالے بالوں والے اور چوڑے سینے والے تھے۔"

🔴 اس تحریر پر اپنا ردعمل دیں

📱 اس پوسٹ کو شیئر کریں