دجال سے نجات کےلئے ہمیں کیا تعلیمات دی گئی ہیں؟
محترم قارئین کرام! یہ بات تو طے ہے کہ دجال نے اس امت میں آنا ہے۔ کب آنا، کیسے آنا ہے، کہاں ہے اس وقت، یہ اللہ رب العزت ہی بہتر جاننے والے ہیں لیکن احادیث مبارکہ میں جو بھی اشارات آپ ﷺ نے اپنی امت کی بھلائی کے لیے فرمائے ہیں میں نے کوشش کی کہ ان کو یکجا کر کے آپ تک پہنچا سکوں۔
یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ دجال اس وقت آئے گا جب لوگ اس کا ذکر کرنا چھوڑ چکے ہوں گے، مطلب اس کو کوئی جانتا تک نہیں ہوگا۔ وعظ و نصحیت کرنے والے منبر رسول پر بیٹھ کر جھوٹ بولیں گے یا دیگر موضوعات پر بحث کریں گے مگر اصل حقائق کی طرف نہیں آئیں گے۔ قرآن پڑھنے والے تو کثیر تعداد میں ہوں گے مگر دین سمجھانے والے نہیں ہوں گے۔
اور یہ سب کام ایک دم سے تبدیل نہیں ہوگا آہستہ آہستہ وہ لوگ اپنے مقصد کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کچھ بھی نہیں دے رہے۔
آج اداروں میں پڑھائی جانے والی کتب میں اس کا ذکر نہیں ملتا۔ آہستہ آہستہ یہود ونصاریٰ نے ہمارے نصاب میں سے بڑی چالاکیوں سے ان تعلیمات کو حذف کروا دیا ہے اور ہم بحیثیت مسلمان بھی یہ سمجھنے لگ گئے ہیں کہ یہ موضوعات بچوں کو نہیں پڑھانے چاہیے اس لیے ہم نے خود ان موضوعات کو زیر بحث لانا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ ہم اللہ اور اس کے رسول سے زیادہ جانتے ہیں اس لیے پس پشت ڈال دیے ہیں ان سب تعلیمات کو۔
حضرت نوح ﷺ سے لے کر آپ ﷺ تک جس فتنے کا ذکر کرتے آئے ہیں اس کو ہم نے بہت چھوٹا سمجھا، شاید کچھ لوگوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ یہ سب فضولیات بتائی گئی ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: "جو کوئی دجال کے بارے میں سنے تو وہ اس سے دور رہے۔ اللہ کی قسم! ایک شخص، جو خود کو مومن سمجھتا ہوگا، جب اس کے نزدیک آئے گا تو اس کے پیدا کردہ شبہات سے متاثر ہو کر اس کے پیروکاروں میں شامل ہو جائے گا"۔
اس حدیث میں واضح بیان فرمایا کہ جسے دجال کے نکلنے کا پتہ چل جائے کہ وہ ظاہر ہو چکا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اس سے جتنا ممکن ہو سکتا ہے دور رہے اور اس کے نزدیک ہرگز نہ جائے۔ ایک مومن شخص جو اس وقت کا بہترین ایمان والا ہوگا وہ بھی اگر دجال کے پاس آئے گا تو اس کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس کے رہ جائے گا۔ جب اس کا فتنہ دیکھے گا جیسے کہ مردوں کو زندہ کرنا اور اس کا جادو کرنا وغیرہ تو اس کے پیروکاروں میں شامل ہو جائے گا۔
ایک اور مقام پر کچھ اس طرح ارشاد فرمایا: "لوگ دجال سے بچنے کے لیے بھاگ کر پہاڑوں میں روپوش ہو جائیں گے"۔
شاید لوگ اپنے ایمان کو بچانے کی خاطر خود کو غاروں میں چھپا لیں گے تاکہ وہ اس فتنہ سے دور رہ سکیں۔ اس فتنہ کی ہولناکیوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کس قدر عظیم ہوگا۔
دجال سے بچاؤ کے طریقے:
1. اللہ رب العزت کے ناموں اور صفات کا علم حاصل کرنا
دجال ایک آنکھ سے کانا ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہرگز ایسا نہیں ہے۔ بلکہ وہ حسین و جمیل اور تمام تر نقائص سے پاک ہے۔ وہ قدوس اور ہر عیب سے پاک ہے۔ جیسے کہ اللہ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: "اس جیسی کوئی چیز نہیں، وہ سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے"۔
2. سورۃ کہف کی ابتدائی دس آیات کی تلاوت
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جو کوئی سورۃ کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کر لے گا وہ دجال کے فتنے سے بچا لیا جائے گا"۔
ایک اور مقام پر کچھ اس طرح سے بیان فرمایا: "تم میں سے جو کوئی دجال کو پائے اسے چاہیے کہ وہ اس کے سامنے سورۃ کہف کی ابتدائی آیات کی تلاوت کرے"۔
بنیادی طور پر اس سورۃ کی آغاز میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ اس نے غار والے نوجوانوں کو اس ظالم بادشاہ کی دست برد سے بچایا جو ان کو گرفتار کرنا چاہتا تھا۔ ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص سورہ کہف کی اس طرح تلاوت کرے جس طرح وہ اتری ہے، پھر اس کا سامنا دجال سے ہو جائے تو وہ اس پر مسلط نہیں ہو سکے گا، یا اسے اس مومن پر کوئی غلبہ حاصل نہیں ہو سکے گا"۔
3. نماز کے آخر میں فتنہ دجال سے پناہ طلب کرنا
نماز میں آخری تشہد میں سلام پھیرنے سے پہلے آپ ﷺ نے یہ دعا سکھلائی جس کا ترجمہ ہے: "اے اللہ! میں تجھ سے آتش دوزخ کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، حیات و موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے فتنے سے پناہ مانگتا ہوں"۔
4. مکہ اور مدینہ میں سے کسی ایک میں پناہ حاصل کرنا
مکہ اور مدینہ پوری کائنات میں ایسی محفوظ جگہیں ہیں جہاں دجال داخل نہیں ہو سکے گا۔ مومن لوگ ان دو مقامات پر اپنے ایمان کو بچانے کے لیے اور اس فتنہ سے بچنے کے لیے خود کو محفوظ کریں گے۔
5. اللہ رب العزت سے بخشش اور مدد طلب کرنا
اللہ کے نبی حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جو شخص اس کی آگ کے فتنے میں مبتلا ہو جائے وہ اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے"۔
6. زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس فتنہ کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے
اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "دجال اس وقت تک نہیں نکلے گا جب تک لوگ اس کے ذکر سے غافل نہ ہو جائیں"۔ یعنی کوئی بھی شخص دجال کا نہ تو ذکر کرے گا اور نہ اس کے بارے میں سوچے گا۔ جب لوگ اس کو بھول جائیں گے اور اس کی صفات ذہنوں سے نکل جائیں گی اور کثیر فتنوں کے باوجود لوگ اس کے بارے میں احتیاط ترک کر دیں گے تو اس وقت دجال ظاہر ہوگا۔
7. علم شریعت سے خود کو تیار کرنا
اللہ تعالیٰ پر ایمان کے ساتھ ساتھ علم شرعی ہر فتنے کے مقابلے کے لیے موثر ہتھیار ہے۔ آج فتنوں کے اس دور میں جہاں بھائی بھائی کا نہیں ہے وہاں یہودی اپنے مسیح دجال کو لانے اور امت مسلمہ میں بے حیائی اور فحاشی پھیلانے میں پوری طرح سے تلے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے اس مشن کو جاری و ساری رکھنے کی خاطر طرح طرح کی ایپلیکشنز کا استعمال کر کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں تاکہ یہ ان کا استعمال کرتے چلے جائیں اور اپنی آنے والی نسل کو تباہ و برباد کر بیٹھیں۔ ان میں سے کوئی ایسا نہ ہو جو دجال کا ذکر کرے۔
افسوس کہ آج ہماری نسل پوری طرح سے تباہی و بربادی کی طرف دھنستی چلی جا رہی ہے۔ جسے امام اور خلیفہ بنا کر زمین پر بھیجا گیا، آج وہی ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنا کر شئیر کر رہے ہیں۔ ان کاموں کو سرانجام دینے کے لیے ہمارے گھر کی عزتیں تک محفوظ نہیں ہیں۔ ہم نے اپنے گھروں میں یہود ونصاریٰ کی غلاظت تو بھر لی مگر چند ٹکوں کے عوض اپنے ایمان کا سودا کر لیا۔ اور آخرت کے مقابلے میں دنیا کا یہ سودا بڑے ہی گھاٹے کا سودا ہے۔