🔹 حضرت مریم ﷺ کا مقام و مرتبہ
دوستو! قیامت کی بڑی نشانیوں میں سے دوسری بڑی نشانی حضرت عیسیٰ ﷺ کا دوبارہ زمین پر تشریف لانا ہے۔ اس بات میں کسی قسم کا شک نہیں کہ حضرت عیسیٰ ﷺ اللہ رب العزت کے بہت مقرب نبی اور رسول ہیں۔ اللہ پاک نے آپ ﷺ کو بغیر باپ کے محض ماں سے پیدا فرمایا۔ حضرت مریم ﷺ اپنی نیکی اور عبادات کے باعث بہت ممتاز حیثیت رکھتی تھیں۔ رب عظیم انھیں اپنے پاس سے پاکیزہ رزق عطا فرماتے تھے۔
مریم ﷺ مسجد کے ایک حجرے میں عبادت میں مشغول رہتیں جہاں ان کے علاوہ کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہ ہوتی۔ جب کبھی اللہ کے نبی حضرت زکریا ﷺ اس عبادت والی جگہ میں جاتے تو حضرت مریم کے پاس بے موسمے پھل پاتے۔ آپ ﷺ جب ان کے بارے میں پوچھتے اے مریم! یہ بے موسمے پھل کہاں سے آگئے؟ تو جواب میں کہتیں "یہ اللہ کی طرف سے ہے"۔
اللہ پاک نے حضرت مریم ﷺ کو اس زمانے کی تمام خواتین میں سب سے اعلیٰ مقام پر فائز کر دیا ہے اور اسے چن لیا ہے کہ اس کے ہاں بن خاوند کے ایک بیٹا پیدا ہوگا جو نبی ہو گا اور ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی دے دی "اور وہ ماں کی گود میں اور پختہ عمر کا ہوکر (دونوں حالتوں میں) لوگوں سے (یکساں) گفتگو کرے گا۔" یعنی وہ اپنے بچپن میں لوگوں کو اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی طرف دعوت دے گا۔ اسی طرح وہ بڑی عمر میں بھی انھیں عبادت الہیٰ کی طرف بلائے گا۔
جب یہ خوشخبری سنائی گئی تو سن کر مریم بہت متعجب ہوئیں کہ بغیر باپ کے بچہ کس طرح پیدا ہوگا! ان کا کوئی شوہر ہی نہیں تو بچہ کیسے ہوگا! فرشتوں نے انھیں بتلایا کہ اللہ پاک ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ جب کسی کام کا ارادہ کر لیتا ہے تو فقط یہ کہتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے۔
مریم ﷺ نے اس پر سرِ خم تسلیم کر دیا، اللہ کی طرف متوجہ ہوئیں اور اس کے حکم کے سامنے سپر انداز ہوگئیں۔ انھیں اندازہ ہوگیا کہ اس کام میں وہ ایک بڑی کڑی آزمائش سے دو چار ہونے والی ہیں۔ لوگ ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کریں گے کیونکہ وہ حقیقت سے بے حبر ہوں گے اور بالاسوچے سمجھے ان کی نظر صرف ظاہری حالات ہی پر ہوگی۔ اسی طرح وقت گزرتا گیا وہ مسجد اور عبادت گاہ سے صرف اپنے ایام خاص میں باہر نکلتیں یا پھر اس وقت جب انھیں مسجد سے باہر پانی لینے یا غذا کے حصول جیسی کوئی ضرورت لاحق ہوتی۔
🔹 حضرت عیسیٰ ﷺ کی پیدائش کا معجزہ
ایک روز وہ ایسی ہی کسی ضرورت کے تحت مسجد سے نکلیں عین اسی وقت اللہ نے جبریل امین ﷺ کو بھیجا جو ان کے سامنے ایک آدمی کی شکل میں ظاہر ہوئے۔ جیسے ہی ان کی نگاہ اس آدمی پر پڑی تو بے اختیار بول اٹھیں "میں تیرے شر سے رحمٰن کی پناہ چاہتی ہوں"۔
- اللہ ﷻ نے حضرت آدم ﷺ کو مرد و عورت کے بغیر پیدا کیا۔
- اللہ ﷻ نے حضرت حوا ﷺ کو عورت کے بغیر صرف مرد سے پیدا کیا۔
- اللہ ﷻ نے حضرت عیسیٰ ﷺ کو عورت سے بلامرد کے پیدا کیا۔
- جبکہ باقی سب انسانوں کو مرد اور عورت دونوں سے پیدا فرمایا۔
یعنی جبریل امین ﷺ نے حضرت مریم ﷺ کے گریبان میں پھونک مار دی جس سے وہ فوراً حاملہ ہوگئیں۔ "تو ہم نے اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دی"۔ پھر آگے فرمایا "تو وہ اس (بچے) کے ساتھ حاملہ ہوگئیں اور اسے لے کر ایک دور جگہ چلی گئیں"۔
مریم ﷺ کو اندیشہ تھا کہ لوگ ان کی بات کو سچ نہیں مانیں گے اور انھیں جھٹلائیں گے بلکہ جب وہ ان کے ہاتھوں میں نومولود کو دیکھیں گے تو اس پر بدکرداری کا الزام عائد کریں گے، حالانکہ وہ ان کے نزدیک مسجد میں رہنے والی ایک زاہدہ اور عابدہ خاتون تھیں۔ اور ان کا تعلق نبوت اور دیانت والے خاندان سے تھا۔ اس لئے وہ تمنا کرنے لگیں کہ اے کاش! وہ اس حال میں پہنچنے سے قبل ہی مرچکی ہوتیں یا پھر پیدا ہی نہ ہوئی ہوتیں۔
🔹 معجزاتی طور پر بچے کی گویائی
جب حضرت مریم ﷺ حضرت عیسیٰ ﷺ کو لے کر اپنی قوم کی طرف آئیں تو باتیں بہت شدت اختیار کر گئیں تو اللہ فرماتے ہیں کہ "مریم نے اس بچے کی طرف اشارہ کی" یعنی مجھ سے سوال نہ کرو بلکہ اسی بچے سے پوچھ لو۔ تو وہ کہنے لگے "لو بھلا ہم گود کے بچے سے کیسے باتیں کریں؟ یعنی تم جواب کو اس بچے کے سپرد کر رہی ہو جو ابھی گود میں دودھ پیتا ہے اور کچھ نہیں جانتا۔
🔹 حضرت محمد ﷺ کی بشارت
حضرت عیسیٰ ﷺ نے حضرت محمد ﷺ کے بارے میں بشارت دی۔ ارشاد الہیٰ ہے:
حضرت عیسیٰ ﷺ انبیائے بنی اسرائیل میں سے آخری نبی ہیں۔ تمام انبیاء نے اپنی اپنی قوم پر تمام حجت کے لئے اور اللہ کی طرف سے انعام کے طور پر انھیں خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کی بشارت سنائی، آپ کا نام اور صفات اپنی قوم کو بتائیں تاکہ وہ جب بھی آپ کو دیکھیں تو پہچان سکیں، فوری ایمان لائیں اور آپ کی فرماں برداری کر سکیں۔